<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 04 Jul 2026 00:06:55 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 04 Jul 2026 00:06:55 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران جاپان کو تیل فروخت کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے، خریداروں نے پابندیوں سے طویل مدت کے لیے استثنیٰ کا مطالبہ کر دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288273/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تین ایرانی اور مغربی ذرائع نے بتایا ہے کہ ایران نے جاپانی کمپنیوں کو تیل فروخت کرنے کے لیے مذاکرات شروع کر دیے ہیں، تاہم ممکنہ خریدار امریکی پابندیوں سے استثنیٰ کی مدت میں توسیع اور خلیج میں بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کی یقین دہانی چاہتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ نے جون میں ایران کو تیل فروخت کرنے کی اجازت دے دی تھی، جس کے تحت کئی دہائیوں سے عائد پابندیوں میں نرمی کی گئی۔ یہ اقدام تہران کے ساتھ حتمی امن معاہدے کی کوششوں کے سلسلے میں کیا گیا، جس کے بدلے ایران سے جوہری تنصیبات کے معائنے اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی سے متعلق یقین دہانیاں حاصل کرنا مقصود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ برسوں میں ایران کے تیل کا سب سے بڑا خریدار چین رہا ہے، کیونکہ 2018 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے جوہری معاہدے سے دستبرداری کے بعد پابندیاں سخت ہونے پر جنوبی کوریا، جاپان، بھارت اور یورپ کے خریداروں نے ایرانی تیل کی خریداری روک دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی محکمۂ خزانہ کی جانب سے جاری موجودہ پابندیوں سے استثنیٰ کے تحت 21 اگست تک ایرانی خام تیل، پیٹروکیمیکل مصنوعات اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت کی اجازت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپان کی وزارتِ خارجہ اور امریکی محکمۂ خزانہ نے اس معاملے پر تبصرے کی درخواستوں کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>تین ایرانی اور مغربی ذرائع نے بتایا ہے کہ ایران نے جاپانی کمپنیوں کو تیل فروخت کرنے کے لیے مذاکرات شروع کر دیے ہیں، تاہم ممکنہ خریدار امریکی پابندیوں سے استثنیٰ کی مدت میں توسیع اور خلیج میں بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کی یقین دہانی چاہتے ہیں۔</strong></p>
<p>امریکہ نے جون میں ایران کو تیل فروخت کرنے کی اجازت دے دی تھی، جس کے تحت کئی دہائیوں سے عائد پابندیوں میں نرمی کی گئی۔ یہ اقدام تہران کے ساتھ حتمی امن معاہدے کی کوششوں کے سلسلے میں کیا گیا، جس کے بدلے ایران سے جوہری تنصیبات کے معائنے اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی سے متعلق یقین دہانیاں حاصل کرنا مقصود ہے۔</p>
<p>حالیہ برسوں میں ایران کے تیل کا سب سے بڑا خریدار چین رہا ہے، کیونکہ 2018 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے جوہری معاہدے سے دستبرداری کے بعد پابندیاں سخت ہونے پر جنوبی کوریا، جاپان، بھارت اور یورپ کے خریداروں نے ایرانی تیل کی خریداری روک دی تھی۔</p>
<p>امریکی محکمۂ خزانہ کی جانب سے جاری موجودہ پابندیوں سے استثنیٰ کے تحت 21 اگست تک ایرانی خام تیل، پیٹروکیمیکل مصنوعات اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت کی اجازت ہے۔</p>
<p>جاپان کی وزارتِ خارجہ اور امریکی محکمۂ خزانہ نے اس معاملے پر تبصرے کی درخواستوں کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288273</guid>
      <pubDate>Fri, 03 Jul 2026 20:16:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/03201111b9a9752.webp" type="image/webp" medium="image" height="666" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/03201111b9a9752.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
