<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 02 Jul 2026 18:53:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 02 Jul 2026 18:53:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا ابھی سے امن پر بھروسا کر لیا گیا؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288222/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی سطح پر جاری کشیدگی میں عارضی کمی کے ساتھ ہی تیل کی منڈیوں نے گزشتہ ہفتہ کچھ اس انداز میں گزارا ہے جیسے بدترین وقت گزر چکا ہو۔ واشنگٹن اور تہران کے مابین سفارتی پیش رفت کے بعد عالمی خام تیل کی قیمتوں سے جنگی اثرات کے باعث بڑھنے والا غیر معمولی پریمیم اب کافی حد تک ختم ہو چکا ہے، تیل بردار بحری جہاز ایک بار پھر آبنائے ہرمز سے گزر رہے ہیں اور سرمایہ کار تیزی سے نقصان کے خطرے والے اثاثوں کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ مارکیٹ کا یہ سکون عالمی جغرافیائی استحکام سے زیادہ سیاسی ضرورتوں کا مرہونِ منت ہو سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالیاتی منڈیوں کے لیے یہ پیغام بالکل واضح نظر آتا ہے کہ اب محاذ آرائی کی جگہ سفارت کاری نے لے لی ہے لیکن کیا بنیادی طور پر کوئی چیز واقعی بدلی ہے یا منڈیاں محض اگلے پانچ برس کے بجائے صرف آئندہ ساٹھ دنوں کے منظر نامے کو سامنے رکھ کر قیمتوں کا تعین کر رہی ہیں؟ یہ وہ سوال ہے جو خام تیل کے مستقبل کے سودوں  میں ہونے والی تازہ ترین ہلچل سے کہیں زیادہ توجہ کا مستحق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ بندی تاحال نازک موڑ پر ہے۔ اسرائیل کے ساتھ تازہ ترین جھڑپوں کی رپورٹس نے پہلے ہی موجودہ معاہدے کے پائیدار ہونے پر شکوک و شبہات پیدا کر دیے ہیں۔ خود مذاکرات کا دائرہ بھی محدود، عارضی اور ان سیاسی مفادات پر منحصر ہے جو نومبر میں ہونے والے امریکی مڈٹرم (مڈ مڈٹرم) انتخابات کے بعد بالکل مختلف رخ اختیار کر سکتے ہیں۔ اگر آج کا یہ سکون بڑی حد تک انتخابی گنتی کا مرہونِ منت ہے تو پھر اس وقت کیا ہوگا جب یہ انتخابی مساوات بدل جائے گی؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منڈیاں پہلے بھی اس صورتحال سے گزر چکی ہیں۔ پیش رفت کی ہر ہلکی سی جھلک تیل کی قیمتوں کو نیچے لے آتی ہے اور تناؤ کی ہر نئی علامت خریداروں کو واپس کھینچ لاتی ہے۔ یہ صورتحال مستقل امن پر اعتماد سے زیادہ اس یقین کو ظاہر کرتی ہے کہ کوئی بھی فریق فی الوقت فوری طور پر معاملات کو طول دینا نہیں چاہتا لیکن ان دونوں باتوں میں بڑا فرق ہے۔شاید اس سے زیادہ دلچسپ سوال یہ ہے کہ کیا حکومتوں کو بھی وہی نقطہ نظر اختیار کرنا چاہیے جو تاجروں کا ہے؟ مالیاتی منڈیاں امکانات کی بنیاد پر قیمتیں طے کرنے کے لیے بنائی جاتی ہیں، جبکہ حکومتوں کا کام نتائج اور اثرات سے نمٹنے کی تیاری کرنا ہوتا ہے۔ تاجر تو چند ہفتوں کے لیے غلط اندازے کا نقصان برداشت کر سکتے ہیں لیکن توانائی درآمد کرنے والی معیشتوں کو ایسا عیاشی کا موقع شاذ و نادر ہی ملتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تنازع کے پہلے مرحلے نے یہ ثابت کر دیا کہ ایران ایک بھی میزائل داغے بغیر کتنا اثر و رسوخ برقرار رکھ سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز کے گرد عارضی تعطل ہی تیل کی قیمتوں کو تیزی سے اوپر لے جانے، بانڈ مارکیٹوں کو ہلانے اور دنیا کے بڑے حصے میں مہنگائی کی تشویش کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے کافی تھا۔ بحری جہازوں کی آمد و رفت بحال ہونے کے بعد بھی ایک سبق کو نظر انداز کرنا مشکل ہے کہ تہران کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرے، اسے منڈیوں کو صرف اس بات کا یقین دلانا ہے کہ وہ سپلائی متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فرق اس لیے اہمیت رکھتا ہے کیونکہ رسک پریمیم صرف توانائی کی مارکیٹ تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ دیگر شعبوں میں بھی پھیل جاتا ہے۔ تیل کی بلند قیمتیں بالآخر مال برداری، کھاد، ہوا بازی، مینوفیکچرنگ اور اشیائے خورونوش پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ مرکزی بینک مہنگائی کے خطرات کا دوبارہ جائزہ لینا شروع کرتے ہیں، بانڈ ییلڈز اس کا جواب دیتی ہیں اور شرح مبادلہ میں اتار چڑھاؤ آتا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے جو معاملہ جیو پولیٹیکل تصادم سے شروع ہوا تھا، وہ معاشی تصادم میں بدل جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیا نومبر کے بعد یہ سلسلہ دوبارہ خود کو دہرا سکتا ہے؟ اس کا یقین کے ساتھ جواب کوئی نہیں دے سکتا۔ تاہم اس حقیقت کو نظر انداز کرنا مشکل ہے کہ موجودہ سفارتی سرگرمیوں کا ایک بڑا حصہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی اندرونی سیاسی حقیقتوں سے جڑا ہوا ہے۔ پٹرول کی اونچی قیمتیں اقتدار میں موجود انتظامیہ کے لیے کبھی مددگار ثابت نہیں ہوتیں اور کانگریس کے انتخابات سے چند ماہ قبل تو یہ بالکل بھی قابلِ قبول نہیں ہوتیں۔ اگر مڈٹرم انتخابات کے بعد ایندھن کی قیمتوں کو کم رکھنا سیاسی طور پر اتنا اہم نہ رہا تو کیا واشنگٹن کے  اسٹریٹجک حساب کتاب بالکل یہی رہیں گے؟ اور اگر مذاکرات ایران کے جوہری پروگرام، علاقائی سلامتی اور پابندیوں جیسے گہرے اختلافات کو حل کرنے میں ناکام رہے تو تصادم کے ایک اور سلسلے کو روکنے کا کیا راستہ ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سوالات کوئی پیش گوئیاں نہیں ہیں، بلکہ یہ یاد دہانیاں ہیں کہ عارضی جنگ بندی اور مستقل تصفیے دو بالکل الگ چیزیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ مالیاتی منڈیاں کسی مستقل حل کے وجود میں آنے سے پہلے ہی اس کے مطابق قیمتیں طے کرنے میں سکون محسوس کر رہی ہیں۔ برینٹ کروڈ اپنی جنگی بلندیوں سے تیزی سے نیچے آ گیا ہے کیونکہ تاجروں نے یہ فرض کر لیا ہے کہ ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل محفوظ رہے گی۔ ایکویٹی مارکیٹوں نے تیل کی کم قیمتوں کی واپسی اور مہنگائی کے خطرات میں کمی کا خیر مقدم کیا ہے لیکن کیا طویل مدتی توانائی کی حفاظت کی ذمہ دار حکومتوں کو بھی یہی مفروضہ قائم کر لینا چاہیے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپ اس وقت ایک مختلف سوال پوچھتا دکھائی دے رہا ہے۔ پانچ سالوں میں توانائی کے دو بڑے جھٹکے برداشت کرنے کے بعد اب پورے براعظم کے پالیسی ساز قابلِ تجدید توانائی، جوہری توانائی اور کچھ ممالک میں مقامی سطح پر تیل و گیس کی پیداوار میں سرمایہ کاری کو تیز کر رہے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی انتخاب جیو پولیٹیکل خطرات کو مکمل طور پر ختم نہیں کرتا لیکن یہ دنیا کی حساس ترین آبی گزرگاہوں سے گزرنے والے درآمدی فوسل فیول پر انحصار کو ضرور کم کر دیتے ہیں۔حتیٰ کہ قابلِ تجدید ٹیکنالوجی پر انحصار کی نوعیت بھی مختلف ہے۔ سولر پینلز اور ونڈ ٹربائنز شاید چینی مینوفیکچرنگ پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہوں لیکن ایک بار نصب ہونے کے بعد وہ بجلی پیدا کرتے رہتے ہیں، قطع نظر اس کے کہ اگلے ہفتے خلیج سے کوئی آئل ٹینکر پہنچتا ہے یا نہیں۔ تیل اور گیس کی صورت میں ایسی کوئی رعایت حاصل نہیں ہوتی، وہاں سپلائی میں ہر رکاوٹ کا اثر فوری طور پر شروع ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فرق پورے ایشیا میں زیادہ توجہ کا تقاضا کرتا ہے۔ جاپان، جنوبی کوریا، بھارت، پاکستان اور جنوب مشرقی ایشیا کا بڑا حصہ درآمدی توانائی پر شدید انحصار کرتا ہے۔ ان کی معیشتیں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں، لیکن بیرونی توانائی کے جھٹکوں کے سامنے ان کی کمزوری ایک جیسی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں ہر اضافہ درآمدی بل کو بڑھاتا ہے، مہنگائی کے انتظام کو پیچیدہ کرتا  اور کرنسیوں سمیت سرکاری خزانے پر نیا دباؤ ڈالتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اس چکر کو باقی ممالک سے بہتر سمجھتا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں پائیدار اضافہ بالآخر ملک کے بیرونی کھاتوں، مہنگائی کے منظر نامے اور مالیاتی حساب کتاب پر اثر انداز ہوتا ہے۔ پالیسی ساز ہر دھچکے کے بعد اس کے نتائج کو سنبھالنے میں اپنی کافی توانائیاں صرف کرتے ہیں لیکن کیا اتنی ہی توجہ اگلا بحران آنے سے پہلے ملک کو ان بیرونی خطرات سے محفوظ بنانے پر نہیں دی جانی چاہیے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ جنگ بندی سے ابھرنے والا یہ شاید سب سے اہم سوال ہے۔ مارکیٹیں اس بحث کو جاری رکھ سکتی ہیں کہ آیا امریکی مڈٹرم انتخابات کے بعد ایک اور تصادم جنم لے گا یا نہیں، مگر حکومتوں کو بالکل مختلف چیلنج کا سامنا ہے۔ انہیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ تیل کی موجودہ کم قیمتیں سکون سے بیٹھنے کا موقع ہیں یا اگلے بحران کی تیاری کا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاریخ شاذ و نادر ہی اگلے توانائی کے بحران کے وقت کا اعلان کرکے آتی ہے لیکن یہ بعد میں ہمیشہ یہ ضرور واضح کر دیتی ہے کہ کن ممالک نے عارضی سکون کو مستقل استحکام سمجھنے کی غلطی کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی سطح پر جاری کشیدگی میں عارضی کمی کے ساتھ ہی تیل کی منڈیوں نے گزشتہ ہفتہ کچھ اس انداز میں گزارا ہے جیسے بدترین وقت گزر چکا ہو۔ واشنگٹن اور تہران کے مابین سفارتی پیش رفت کے بعد عالمی خام تیل کی قیمتوں سے جنگی اثرات کے باعث بڑھنے والا غیر معمولی پریمیم اب کافی حد تک ختم ہو چکا ہے، تیل بردار بحری جہاز ایک بار پھر آبنائے ہرمز سے گزر رہے ہیں اور سرمایہ کار تیزی سے نقصان کے خطرے والے اثاثوں کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ مارکیٹ کا یہ سکون عالمی جغرافیائی استحکام سے زیادہ سیاسی ضرورتوں کا مرہونِ منت ہو سکتا ہے۔</strong></p>
<p>مالیاتی منڈیوں کے لیے یہ پیغام بالکل واضح نظر آتا ہے کہ اب محاذ آرائی کی جگہ سفارت کاری نے لے لی ہے لیکن کیا بنیادی طور پر کوئی چیز واقعی بدلی ہے یا منڈیاں محض اگلے پانچ برس کے بجائے صرف آئندہ ساٹھ دنوں کے منظر نامے کو سامنے رکھ کر قیمتوں کا تعین کر رہی ہیں؟ یہ وہ سوال ہے جو خام تیل کے مستقبل کے سودوں  میں ہونے والی تازہ ترین ہلچل سے کہیں زیادہ توجہ کا مستحق ہے۔</p>
<p>واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ بندی تاحال نازک موڑ پر ہے۔ اسرائیل کے ساتھ تازہ ترین جھڑپوں کی رپورٹس نے پہلے ہی موجودہ معاہدے کے پائیدار ہونے پر شکوک و شبہات پیدا کر دیے ہیں۔ خود مذاکرات کا دائرہ بھی محدود، عارضی اور ان سیاسی مفادات پر منحصر ہے جو نومبر میں ہونے والے امریکی مڈٹرم (مڈ مڈٹرم) انتخابات کے بعد بالکل مختلف رخ اختیار کر سکتے ہیں۔ اگر آج کا یہ سکون بڑی حد تک انتخابی گنتی کا مرہونِ منت ہے تو پھر اس وقت کیا ہوگا جب یہ انتخابی مساوات بدل جائے گی؟</p>
<p>منڈیاں پہلے بھی اس صورتحال سے گزر چکی ہیں۔ پیش رفت کی ہر ہلکی سی جھلک تیل کی قیمتوں کو نیچے لے آتی ہے اور تناؤ کی ہر نئی علامت خریداروں کو واپس کھینچ لاتی ہے۔ یہ صورتحال مستقل امن پر اعتماد سے زیادہ اس یقین کو ظاہر کرتی ہے کہ کوئی بھی فریق فی الوقت فوری طور پر معاملات کو طول دینا نہیں چاہتا لیکن ان دونوں باتوں میں بڑا فرق ہے۔شاید اس سے زیادہ دلچسپ سوال یہ ہے کہ کیا حکومتوں کو بھی وہی نقطہ نظر اختیار کرنا چاہیے جو تاجروں کا ہے؟ مالیاتی منڈیاں امکانات کی بنیاد پر قیمتیں طے کرنے کے لیے بنائی جاتی ہیں، جبکہ حکومتوں کا کام نتائج اور اثرات سے نمٹنے کی تیاری کرنا ہوتا ہے۔ تاجر تو چند ہفتوں کے لیے غلط اندازے کا نقصان برداشت کر سکتے ہیں لیکن توانائی درآمد کرنے والی معیشتوں کو ایسا عیاشی کا موقع شاذ و نادر ہی ملتا ہے۔</p>
<p>اس تنازع کے پہلے مرحلے نے یہ ثابت کر دیا کہ ایران ایک بھی میزائل داغے بغیر کتنا اثر و رسوخ برقرار رکھ سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز کے گرد عارضی تعطل ہی تیل کی قیمتوں کو تیزی سے اوپر لے جانے، بانڈ مارکیٹوں کو ہلانے اور دنیا کے بڑے حصے میں مہنگائی کی تشویش کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے کافی تھا۔ بحری جہازوں کی آمد و رفت بحال ہونے کے بعد بھی ایک سبق کو نظر انداز کرنا مشکل ہے کہ تہران کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرے، اسے منڈیوں کو صرف اس بات کا یقین دلانا ہے کہ وہ سپلائی متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔</p>
<p>یہ فرق اس لیے اہمیت رکھتا ہے کیونکہ رسک پریمیم صرف توانائی کی مارکیٹ تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ دیگر شعبوں میں بھی پھیل جاتا ہے۔ تیل کی بلند قیمتیں بالآخر مال برداری، کھاد، ہوا بازی، مینوفیکچرنگ اور اشیائے خورونوش پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ مرکزی بینک مہنگائی کے خطرات کا دوبارہ جائزہ لینا شروع کرتے ہیں، بانڈ ییلڈز اس کا جواب دیتی ہیں اور شرح مبادلہ میں اتار چڑھاؤ آتا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے جو معاملہ جیو پولیٹیکل تصادم سے شروع ہوا تھا، وہ معاشی تصادم میں بدل جاتا ہے۔</p>
<p>کیا نومبر کے بعد یہ سلسلہ دوبارہ خود کو دہرا سکتا ہے؟ اس کا یقین کے ساتھ جواب کوئی نہیں دے سکتا۔ تاہم اس حقیقت کو نظر انداز کرنا مشکل ہے کہ موجودہ سفارتی سرگرمیوں کا ایک بڑا حصہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی اندرونی سیاسی حقیقتوں سے جڑا ہوا ہے۔ پٹرول کی اونچی قیمتیں اقتدار میں موجود انتظامیہ کے لیے کبھی مددگار ثابت نہیں ہوتیں اور کانگریس کے انتخابات سے چند ماہ قبل تو یہ بالکل بھی قابلِ قبول نہیں ہوتیں۔ اگر مڈٹرم انتخابات کے بعد ایندھن کی قیمتوں کو کم رکھنا سیاسی طور پر اتنا اہم نہ رہا تو کیا واشنگٹن کے  اسٹریٹجک حساب کتاب بالکل یہی رہیں گے؟ اور اگر مذاکرات ایران کے جوہری پروگرام، علاقائی سلامتی اور پابندیوں جیسے گہرے اختلافات کو حل کرنے میں ناکام رہے تو تصادم کے ایک اور سلسلے کو روکنے کا کیا راستہ ہے؟</p>
<p>یہ سوالات کوئی پیش گوئیاں نہیں ہیں، بلکہ یہ یاد دہانیاں ہیں کہ عارضی جنگ بندی اور مستقل تصفیے دو بالکل الگ چیزیں ہیں۔</p>
<p>سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ مالیاتی منڈیاں کسی مستقل حل کے وجود میں آنے سے پہلے ہی اس کے مطابق قیمتیں طے کرنے میں سکون محسوس کر رہی ہیں۔ برینٹ کروڈ اپنی جنگی بلندیوں سے تیزی سے نیچے آ گیا ہے کیونکہ تاجروں نے یہ فرض کر لیا ہے کہ ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل محفوظ رہے گی۔ ایکویٹی مارکیٹوں نے تیل کی کم قیمتوں کی واپسی اور مہنگائی کے خطرات میں کمی کا خیر مقدم کیا ہے لیکن کیا طویل مدتی توانائی کی حفاظت کی ذمہ دار حکومتوں کو بھی یہی مفروضہ قائم کر لینا چاہیے؟</p>
<p>یورپ اس وقت ایک مختلف سوال پوچھتا دکھائی دے رہا ہے۔ پانچ سالوں میں توانائی کے دو بڑے جھٹکے برداشت کرنے کے بعد اب پورے براعظم کے پالیسی ساز قابلِ تجدید توانائی، جوہری توانائی اور کچھ ممالک میں مقامی سطح پر تیل و گیس کی پیداوار میں سرمایہ کاری کو تیز کر رہے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی انتخاب جیو پولیٹیکل خطرات کو مکمل طور پر ختم نہیں کرتا لیکن یہ دنیا کی حساس ترین آبی گزرگاہوں سے گزرنے والے درآمدی فوسل فیول پر انحصار کو ضرور کم کر دیتے ہیں۔حتیٰ کہ قابلِ تجدید ٹیکنالوجی پر انحصار کی نوعیت بھی مختلف ہے۔ سولر پینلز اور ونڈ ٹربائنز شاید چینی مینوفیکچرنگ پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہوں لیکن ایک بار نصب ہونے کے بعد وہ بجلی پیدا کرتے رہتے ہیں، قطع نظر اس کے کہ اگلے ہفتے خلیج سے کوئی آئل ٹینکر پہنچتا ہے یا نہیں۔ تیل اور گیس کی صورت میں ایسی کوئی رعایت حاصل نہیں ہوتی، وہاں سپلائی میں ہر رکاوٹ کا اثر فوری طور پر شروع ہو جاتا ہے۔</p>
<p>یہ فرق پورے ایشیا میں زیادہ توجہ کا تقاضا کرتا ہے۔ جاپان، جنوبی کوریا، بھارت، پاکستان اور جنوب مشرقی ایشیا کا بڑا حصہ درآمدی توانائی پر شدید انحصار کرتا ہے۔ ان کی معیشتیں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں، لیکن بیرونی توانائی کے جھٹکوں کے سامنے ان کی کمزوری ایک جیسی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں ہر اضافہ درآمدی بل کو بڑھاتا ہے، مہنگائی کے انتظام کو پیچیدہ کرتا  اور کرنسیوں سمیت سرکاری خزانے پر نیا دباؤ ڈالتا ہے۔</p>
<p>پاکستان اس چکر کو باقی ممالک سے بہتر سمجھتا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں پائیدار اضافہ بالآخر ملک کے بیرونی کھاتوں، مہنگائی کے منظر نامے اور مالیاتی حساب کتاب پر اثر انداز ہوتا ہے۔ پالیسی ساز ہر دھچکے کے بعد اس کے نتائج کو سنبھالنے میں اپنی کافی توانائیاں صرف کرتے ہیں لیکن کیا اتنی ہی توجہ اگلا بحران آنے سے پہلے ملک کو ان بیرونی خطرات سے محفوظ بنانے پر نہیں دی جانی چاہیے؟</p>
<p>موجودہ جنگ بندی سے ابھرنے والا یہ شاید سب سے اہم سوال ہے۔ مارکیٹیں اس بحث کو جاری رکھ سکتی ہیں کہ آیا امریکی مڈٹرم انتخابات کے بعد ایک اور تصادم جنم لے گا یا نہیں، مگر حکومتوں کو بالکل مختلف چیلنج کا سامنا ہے۔ انہیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ تیل کی موجودہ کم قیمتیں سکون سے بیٹھنے کا موقع ہیں یا اگلے بحران کی تیاری کا۔</p>
<p>تاریخ شاذ و نادر ہی اگلے توانائی کے بحران کے وقت کا اعلان کرکے آتی ہے لیکن یہ بعد میں ہمیشہ یہ ضرور واضح کر دیتی ہے کہ کن ممالک نے عارضی سکون کو مستقل استحکام سمجھنے کی غلطی کی تھی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288222</guid>
      <pubDate>Thu, 02 Jul 2026 15:09:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شہاب جعفری)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/021353392364138.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/021353392364138.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
