<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 02 Jul 2026 17:31:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 02 Jul 2026 17:31:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزارت خزانہ نے مالی سال 2026-27 کے فنڈز اجرا کی حکمت عملی جاری کر دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288199/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزارتِ خزانہ نے مالی سال 2026-27 کے لیے ترقیاتی اور جاری اخراجات کے فنڈز کے اجرا کی حکمت عملی جاری کر دی ہے، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ تمام فنڈز کا اجرا مالی گنجائش کی دستیابی سے مشروط ہوگا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ خزانہ نے اس حوالے سے ایک دفتری یادداشت (آفس میمورنڈم) جاری کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ 2019 اور پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسرز (پی اے اوز) کے مالیاتی انتظام اور اختیارات سے متعلق 2021 کے ضوابط کے تحت مالی سال 2026-27 کے ترقیاتی بجٹ کے فنڈز کے اجرا کی حکمت عملی فوری طور پر نافذ کی جا رہی ہے اور آئندہ احکامات تک مؤثر رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میمورنڈم کے مطابق پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت منظور شدہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز کی منظوری منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات ڈویژن کرے گا۔ فنڈز کا اجرا سہ ماہی بنیادوں پر ہوگا، جس کے تحت پہلی سہ ماہی میں 15 فیصد، دوسری سہ ماہی میں 20 فیصد، تیسری سہ ماہی میں 25 فیصد اور چوتھی سہ ماہی میں 40 فیصد فنڈز جاری کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد کے دوران خصوصی اقدامات ڈویژن اور متعلقہ پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسرز اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ 2019 کی تمام متعلقہ شقوں پر مکمل عمل کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید کہا گیا ہے کہ خصوصی اقدامات ڈویژن منظور شدہ بجٹ کے اندر رہتے ہوئے شعبہ، منصوبہ اور ڈویژن کی بنیاد پر سہ ماہی فنڈز کے اجرا کی حکمت عملی تیار کرے گا۔ سہ ماہی حدود میں کسی بھی تبدیلی کی تجویز کا جائزہ وزارتِ خزانہ کے بجٹ ونگ کی جانب سے ہر کیس کی بنیاد پر لیا جائے گا اور اس کے لیے سیکریٹری خزانہ کی پیشگی منظوری لازمی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منظور شدہ منصوبوں کے لیے گرانٹس اور مختص رقوم کے تحت فنڈز کا اجرا متعلقہ پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسرز کریں گے، تاہم یہ اجرا  ترقی و خصوصی اقدامات ڈویژن کی منظوری اور مقررہ سہ ماہی حدود کے مطابق ہوگا۔ متعلقہ افسران اس بات کو بھی یقینی بنائیں گے کہ ہر منصوبے کے لیے ملازمین سے متعلق اخراجات کے لیے مناسب فنڈز دستیاب ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میمورنڈم کے مطابق پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسرز، منسلک محکموں کے سربراہان، ذیلی دفاتر کے سربراہان اور پراجیکٹ ڈائریکٹرز ملازمین سے متعلق اخراجات سے غیر ملازمتی اخراجات کی مد میں فنڈز منتقل نہیں کر سکیں گے، جب تک کہ خصوصی اقدامات ڈویژن کی پیشگی منظوری حاصل نہ کر لی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ تمام پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ غیر ملکی زرمبادلہ کے جزو (روپیہ کور) کے لیے مناسب بجٹ مختص کیا جائے اور اس کی تفصیلات خصوصی اقدامات ڈویژن، اکنامک افیئرز ڈویژن اور وزارتِ خزانہ کو فراہم کی جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی زرمبادلہ میں ادائیگیوں کے لیے وزارتِ خزانہ کے ایکسٹرنل فنانس ونگ کی پیشگی منظوری لازمی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تمام ادائیگیاں پری آڈٹ سسٹم، اسائنمنٹ اکاؤنٹ طریقہ کار یا وزارتِ خزانہ کی جانب سے وقتاً فوقتاً جاری کیے گئے کسی اور منظور شدہ طریقہ کار کے تحت کی جائیں گی، جبکہ ہر ترقیاتی منصوبے کے لیے علیحدہ اسائنمنٹ اکاؤنٹ کھولنا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزارتِ خزانہ نے مالی سال 2026-27 کے لیے ترقیاتی اور جاری اخراجات کے فنڈز کے اجرا کی حکمت عملی جاری کر دی ہے، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ تمام فنڈز کا اجرا مالی گنجائش کی دستیابی سے مشروط ہوگا۔</strong></p>
<p>وزارتِ خزانہ نے اس حوالے سے ایک دفتری یادداشت (آفس میمورنڈم) جاری کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ 2019 اور پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسرز (پی اے اوز) کے مالیاتی انتظام اور اختیارات سے متعلق 2021 کے ضوابط کے تحت مالی سال 2026-27 کے ترقیاتی بجٹ کے فنڈز کے اجرا کی حکمت عملی فوری طور پر نافذ کی جا رہی ہے اور آئندہ احکامات تک مؤثر رہے گی۔</p>
<p>میمورنڈم کے مطابق پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت منظور شدہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز کی منظوری منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات ڈویژن کرے گا۔ فنڈز کا اجرا سہ ماہی بنیادوں پر ہوگا، جس کے تحت پہلی سہ ماہی میں 15 فیصد، دوسری سہ ماہی میں 20 فیصد، تیسری سہ ماہی میں 25 فیصد اور چوتھی سہ ماہی میں 40 فیصد فنڈز جاری کیے جائیں گے۔</p>
<p>ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد کے دوران خصوصی اقدامات ڈویژن اور متعلقہ پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسرز اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ 2019 کی تمام متعلقہ شقوں پر مکمل عمل کیا جائے۔</p>
<p>مزید کہا گیا ہے کہ خصوصی اقدامات ڈویژن منظور شدہ بجٹ کے اندر رہتے ہوئے شعبہ، منصوبہ اور ڈویژن کی بنیاد پر سہ ماہی فنڈز کے اجرا کی حکمت عملی تیار کرے گا۔ سہ ماہی حدود میں کسی بھی تبدیلی کی تجویز کا جائزہ وزارتِ خزانہ کے بجٹ ونگ کی جانب سے ہر کیس کی بنیاد پر لیا جائے گا اور اس کے لیے سیکریٹری خزانہ کی پیشگی منظوری لازمی ہوگی۔</p>
<p>منظور شدہ منصوبوں کے لیے گرانٹس اور مختص رقوم کے تحت فنڈز کا اجرا متعلقہ پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسرز کریں گے، تاہم یہ اجرا  ترقی و خصوصی اقدامات ڈویژن کی منظوری اور مقررہ سہ ماہی حدود کے مطابق ہوگا۔ متعلقہ افسران اس بات کو بھی یقینی بنائیں گے کہ ہر منصوبے کے لیے ملازمین سے متعلق اخراجات کے لیے مناسب فنڈز دستیاب ہوں۔</p>
<p>میمورنڈم کے مطابق پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسرز، منسلک محکموں کے سربراہان، ذیلی دفاتر کے سربراہان اور پراجیکٹ ڈائریکٹرز ملازمین سے متعلق اخراجات سے غیر ملازمتی اخراجات کی مد میں فنڈز منتقل نہیں کر سکیں گے، جب تک کہ خصوصی اقدامات ڈویژن کی پیشگی منظوری حاصل نہ کر لی جائے۔</p>
<p>اس کے علاوہ تمام پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ غیر ملکی زرمبادلہ کے جزو (روپیہ کور) کے لیے مناسب بجٹ مختص کیا جائے اور اس کی تفصیلات خصوصی اقدامات ڈویژن، اکنامک افیئرز ڈویژن اور وزارتِ خزانہ کو فراہم کی جائیں۔</p>
<p>غیر ملکی زرمبادلہ میں ادائیگیوں کے لیے وزارتِ خزانہ کے ایکسٹرنل فنانس ونگ کی پیشگی منظوری لازمی ہوگی۔</p>
<p>تمام ادائیگیاں پری آڈٹ سسٹم، اسائنمنٹ اکاؤنٹ طریقہ کار یا وزارتِ خزانہ کی جانب سے وقتاً فوقتاً جاری کیے گئے کسی اور منظور شدہ طریقہ کار کے تحت کی جائیں گی، جبکہ ہر ترقیاتی منصوبے کے لیے علیحدہ اسائنمنٹ اکاؤنٹ کھولنا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288199</guid>
      <pubDate>Thu, 02 Jul 2026 10:25:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/0210224650dece8.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/0210224650dece8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
