<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 01 Jul 2026 17:54:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 01 Jul 2026 17:54:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>میانمار میں فوجی بغاوت کے بعد خانہ جنگی، ایک لاکھ سے زائد افراد ہلاک</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288161/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;میانمار میں پانچ سال قبل فوجی بغاوت کے بعد شروع ہونے والی خانہ جنگی میں اب تک تمام فریقوں کے ایک لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ انکشاف بدھ کو ایک تنازعات کی نگرانی کرنے والے ادارے نے کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آرمڈ کانفلکٹ لوکیشن اینڈ ایونٹ ڈیٹا (ای سی ایل ای ڈی) کے سینئر تجزیہ کار سن مون تھانت کے مطابق، فروری 2021 کی فوجی بغاوت کے بعد سے اب تک تشدد سے متعلق واقعات میں 100,114 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار میڈیا میں شائع ہونے والی پرتشدد کارروائیوں کی رپورٹس کی بنیاد پر مرتب کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس جنگ میں ہلاکتوں کی کوئی سرکاری تعداد موجود نہیں، اور مختلف اداروں کے اندازے بھی ایک دوسرے سے خاصے مختلف ہیں۔ تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں سے جاری یہ خانہ جنگی اس وقت ایشیا کا سب سے خونریز فعال تنازع بن چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فروری 2021 میں میانمار کی فوج نے آنگ سان سو چی کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا، نوبیل امن انعام یافتہ رہنما کو گرفتار کر لیا گیا تھا، اور یوں ملک میں تقریباً ایک دہائی سے جاری جمہوری عمل کا خاتمہ ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوجی بغاوت کے خلاف ہونے والے عوامی احتجاج کو سکیورٹی فورسز نے سختی سے کچل دیا، جس کے بعد متعدد جمہوریت پسند کارکن شہروں سے نکل کر مسلح گوریلا گروپوں میں شامل ہو گئے۔ یہ گروہ ان نسلی اقلیتی مسلح تنظیموں کے ساتھ مل کر لڑ رہے ہیں جو طویل عرصے سے مرکزی حکومت کی عملداری کے خلاف مزاحمت کرتی آ رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>میانمار میں پانچ سال قبل فوجی بغاوت کے بعد شروع ہونے والی خانہ جنگی میں اب تک تمام فریقوں کے ایک لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ انکشاف بدھ کو ایک تنازعات کی نگرانی کرنے والے ادارے نے کیا۔</strong></p>
<p>آرمڈ کانفلکٹ لوکیشن اینڈ ایونٹ ڈیٹا (ای سی ایل ای ڈی) کے سینئر تجزیہ کار سن مون تھانت کے مطابق، فروری 2021 کی فوجی بغاوت کے بعد سے اب تک تشدد سے متعلق واقعات میں 100,114 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار میڈیا میں شائع ہونے والی پرتشدد کارروائیوں کی رپورٹس کی بنیاد پر مرتب کیے گئے ہیں۔</p>
<p>اس جنگ میں ہلاکتوں کی کوئی سرکاری تعداد موجود نہیں، اور مختلف اداروں کے اندازے بھی ایک دوسرے سے خاصے مختلف ہیں۔ تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں سے جاری یہ خانہ جنگی اس وقت ایشیا کا سب سے خونریز فعال تنازع بن چکی ہے۔</p>
<p>فروری 2021 میں میانمار کی فوج نے آنگ سان سو چی کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا، نوبیل امن انعام یافتہ رہنما کو گرفتار کر لیا گیا تھا، اور یوں ملک میں تقریباً ایک دہائی سے جاری جمہوری عمل کا خاتمہ ہو گیا۔</p>
<p>فوجی بغاوت کے خلاف ہونے والے عوامی احتجاج کو سکیورٹی فورسز نے سختی سے کچل دیا، جس کے بعد متعدد جمہوریت پسند کارکن شہروں سے نکل کر مسلح گوریلا گروپوں میں شامل ہو گئے۔ یہ گروہ ان نسلی اقلیتی مسلح تنظیموں کے ساتھ مل کر لڑ رہے ہیں جو طویل عرصے سے مرکزی حکومت کی عملداری کے خلاف مزاحمت کرتی آ رہی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288161</guid>
      <pubDate>Wed, 01 Jul 2026 12:33:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/011232400bcc571.webp" type="image/webp" medium="image" height="429" width="715">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/011232400bcc571.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
