<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 01 Jul 2026 14:36:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 01 Jul 2026 14:36:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران امریکہ مذاکرات میں تعطل، خام تیل کی قیمتیں پھر بڑھنے لگیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288158/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;خام تیل کی قیمتوں میں بدھ کو اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کی وجہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خاتمے کے حتمی معاہدے کیلئے ہونے والی بات چیت میں تعطل کے خدشات ہیں جس سے مشرق وسطیٰ کے کلیدی پیداواری خطے میں سپلائی میں خلل مزید طویل ہوسکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ کروڈ آئل کے نرخ 33 سینٹس یا 0.45 فیصد اضافے سے  73.28 ڈالر فی بیرل پر جاپہنچے جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 34 سینٹس یا 0.49 فیصد اضافے کے ساتھ 69.84 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واندا انسائٹس کی بانی اور آئل مارکیٹ تجزیہ کار وندنا ہری نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بتدریج بحال ہورہی ہے، مگر یہ عمل غیر ہموار، غیر یقینی اور مکمل طور پر شفاف نہیں۔ جب تک واشنگٹن اور تہران کے درمیان کوئی نیا مفاہمتی معاہدہ نہیں ہوتا مارکیٹ ممکنہ طور پر انتظار اور محتاط رویہ اختیار کرے گی اور خام تیل کی قیمتیں مسلسل کمی کے رجحان کی طرف اس وقت تک واپس نہیں آئیں گی جب تک خطے میں پائیدار امن اور استحکام قائم نہیں ہوجاتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف منگل کو دوحہ پہنچے جہاں وائٹ ہاؤس کے مطابق اعلیٰ سطح کے مذاکرات ہونا تھے، تاہم ایران اور میزبان ملک قطر نے واضح کیا کہ امریکی وفد کی براہِ راست ایرانی حکام سے ملاقات نہیں ہوگی بلکہ مذاکرات ثالثوں کے ذریعے کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطر نے بتایا کہ وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی بھی ان رہنماؤں میں شامل تھے جنہوں نے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر سے ملاقات کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سال کی پہلی اور دوسری سہ ماہی کے درمیان برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً 45 ڈالر فی بیرل کی کمی ریکارڈ کی گئی جو 2008 کے عالمی مالیاتی بحران کے بعد کسی بھی سہ ماہی میں سب سے بڑی گراوٹ ہے۔دوسری جانب امریکی خام تیل  کے فیوچر کی قیمتوں میں بھی تقریباً 31 ڈالر فی بیرل کی کمی واقع ہوئی، جو 2020 کے بعد سب سے بڑی سہ ماہی کمی ہے، جب کووڈ-19 وبا کے باعث عالمی سطح پر تیل کی طلب بری طرح متاثر ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے خاتمے کی جانب پیش رفت کے بعد تیل کی قیمتوں میں یہ کمی دیکھی گئی جس کے نتیجے میں جنگی کشیدگی کے باعث پہلے ہونے والا نمایاں اضافہ بڑی حد تک واپس آ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو جاری ہونے والے رائٹرز کے ایک سروے کے مطابق تجزیہ کاروں نے پانچ ماہ کے مسلسل اضافے کے بعد ایران جنگ شروع ہونے کے بعد پہلی بار 2026 کے لیے تیل کی قیمتوں کے اپنے تخمینوں میں کمی کی ہے کیونکہ آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے سے سپلائی میں طویل تعطل کے خدشات کم ہوگئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی نائب صدر جے ڈی وانس نے دی مائیکل نولز شو میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر محصول (ٹول) وصول کرنے سے روکا جائے گا اور انہوں نے واضح کیا کہ یہ معاملہ اس نہج پر ختم نہیں ہوگا جہاں ایرانی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے ٹول وصول کر رہے ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اہم آبی گزرگاہ سے ٹینکروں کی آمدورفت بحال ہونا شروع ہوگئی ہے جس کے بارے میں وانس کا دعویٰ ہے کہ آبنائے سے تیل کی ترسیل جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آچکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا مارکیٹ ذرائع نے منگل کو امریکن پٹرولیم انسٹی ٹیوٹ کے جاری کردہ اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ ہفتے امریکی خام تیل کے ذخائر میں ایک بار پھر کمی ہوئی جبکہ گیسولین کے اسٹاک میں بھی گراوٹ دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ذرائع نے بتایا کہ 26 جون کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران خام تیل کے ذخائر میں 61 لاکھ بیرل کی کمی واقع ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی محکمہ توانائی کے ذیلی ادارے انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کی جانب سے تیل کے سرکاری ذخائر کے اعدادوشمار بدھ کو جاری کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>خام تیل کی قیمتوں میں بدھ کو اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کی وجہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خاتمے کے حتمی معاہدے کیلئے ہونے والی بات چیت میں تعطل کے خدشات ہیں جس سے مشرق وسطیٰ کے کلیدی پیداواری خطے میں سپلائی میں خلل مزید طویل ہوسکتا ہے۔</strong></p>
<p>برینٹ کروڈ آئل کے نرخ 33 سینٹس یا 0.45 فیصد اضافے سے  73.28 ڈالر فی بیرل پر جاپہنچے جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 34 سینٹس یا 0.49 فیصد اضافے کے ساتھ 69.84 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔</p>
<p>واندا انسائٹس کی بانی اور آئل مارکیٹ تجزیہ کار وندنا ہری نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بتدریج بحال ہورہی ہے، مگر یہ عمل غیر ہموار، غیر یقینی اور مکمل طور پر شفاف نہیں۔ جب تک واشنگٹن اور تہران کے درمیان کوئی نیا مفاہمتی معاہدہ نہیں ہوتا مارکیٹ ممکنہ طور پر انتظار اور محتاط رویہ اختیار کرے گی اور خام تیل کی قیمتیں مسلسل کمی کے رجحان کی طرف اس وقت تک واپس نہیں آئیں گی جب تک خطے میں پائیدار امن اور استحکام قائم نہیں ہوجاتا۔</p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف منگل کو دوحہ پہنچے جہاں وائٹ ہاؤس کے مطابق اعلیٰ سطح کے مذاکرات ہونا تھے، تاہم ایران اور میزبان ملک قطر نے واضح کیا کہ امریکی وفد کی براہِ راست ایرانی حکام سے ملاقات نہیں ہوگی بلکہ مذاکرات ثالثوں کے ذریعے کیے جائیں گے۔</p>
<p>قطر نے بتایا کہ وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی بھی ان رہنماؤں میں شامل تھے جنہوں نے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر سے ملاقات کی۔</p>
<p>اس سال کی پہلی اور دوسری سہ ماہی کے درمیان برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً 45 ڈالر فی بیرل کی کمی ریکارڈ کی گئی جو 2008 کے عالمی مالیاتی بحران کے بعد کسی بھی سہ ماہی میں سب سے بڑی گراوٹ ہے۔دوسری جانب امریکی خام تیل  کے فیوچر کی قیمتوں میں بھی تقریباً 31 ڈالر فی بیرل کی کمی واقع ہوئی، جو 2020 کے بعد سب سے بڑی سہ ماہی کمی ہے، جب کووڈ-19 وبا کے باعث عالمی سطح پر تیل کی طلب بری طرح متاثر ہوئی تھی۔</p>
<p>مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے خاتمے کی جانب پیش رفت کے بعد تیل کی قیمتوں میں یہ کمی دیکھی گئی جس کے نتیجے میں جنگی کشیدگی کے باعث پہلے ہونے والا نمایاں اضافہ بڑی حد تک واپس آ گیا۔</p>
<p>منگل کو جاری ہونے والے رائٹرز کے ایک سروے کے مطابق تجزیہ کاروں نے پانچ ماہ کے مسلسل اضافے کے بعد ایران جنگ شروع ہونے کے بعد پہلی بار 2026 کے لیے تیل کی قیمتوں کے اپنے تخمینوں میں کمی کی ہے کیونکہ آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے سے سپلائی میں طویل تعطل کے خدشات کم ہوگئے ہیں۔</p>
<p>امریکی نائب صدر جے ڈی وانس نے دی مائیکل نولز شو میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر محصول (ٹول) وصول کرنے سے روکا جائے گا اور انہوں نے واضح کیا کہ یہ معاملہ اس نہج پر ختم نہیں ہوگا جہاں ایرانی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے ٹول وصول کر رہے ہوں۔</p>
<p>اس اہم آبی گزرگاہ سے ٹینکروں کی آمدورفت بحال ہونا شروع ہوگئی ہے جس کے بارے میں وانس کا دعویٰ ہے کہ آبنائے سے تیل کی ترسیل جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آچکی ہے۔</p>
<p>دریں اثنا مارکیٹ ذرائع نے منگل کو امریکن پٹرولیم انسٹی ٹیوٹ کے جاری کردہ اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ ہفتے امریکی خام تیل کے ذخائر میں ایک بار پھر کمی ہوئی جبکہ گیسولین کے اسٹاک میں بھی گراوٹ دیکھی گئی۔</p>
<p>نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ذرائع نے بتایا کہ 26 جون کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران خام تیل کے ذخائر میں 61 لاکھ بیرل کی کمی واقع ہوئی۔</p>
<p>امریکی محکمہ توانائی کے ذیلی ادارے انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کی جانب سے تیل کے سرکاری ذخائر کے اعدادوشمار بدھ کو جاری کیے جائیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288158</guid>
      <pubDate>Wed, 01 Jul 2026 11:48:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/0111293745b5923.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/0111293745b5923.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
