<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 30 Jun 2026 21:29:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 30 Jun 2026 21:29:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انٹرنیشنل اولیو کونسل میں پاکستان کی مستقل شمولیت، زیتون کے تیزی سے ابھرتے شعبے کی نمائش</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288133/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے پرتگال کے شہر لزبن میں منعقدہ 123ویں سیشن میں پہلی بار انٹرنیشنل اولیو کونسل کے مستقل رکن کے طور پر اپنی نشست سنبھال لی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ خارجہ کے مطابق وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ رانا تنویر حسین نے اقوامِ متحدہ کی انٹرنیشنل اولیو کونسل (آئی او سی) کے اجلاس میں شرکت کے لیے پاکستانی وفد کی قیادت کی۔ اس موقع پر پرتگال میں پاکستان کی سفیر عائشہ فاروقی بھی ان کے ہمراہ تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مئی 2026 میں انٹرنیشنل اولیو کونسل کی رکنیت حاصل کرنے کے بعد پاکستان کو زیتون پیدا کرنے والے دیگر 27 ممالک کے ساتھ کونسل کے 123ویں اجلاس میں اپنی نشست سنبھالنے کی دعوت دی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ خارجہ کے مطابق آئی او سی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، چیئرمین اور تمام رکن ممالک کی جانب سے کونسل میں پاکستان کا گرمجوشی سے خیرمقدم کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ نے اپنے بیان میں آئی او سی کا شکریہ ادا کیا اور کونسل کے مقاصد اور اہداف کو آگے بڑھانے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رانا تنویر نے کونسل کے ارکان کو پاکستان میں زیتون کے تیزی سے بڑھتے ہوئے شعبے کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ملک بھر میں 55,669 ایکڑ رقبے پر 70 لاکھ سے زائد زیتون کے درخت کاشت کیے جا چکے ہیں اور زیتون کے کلسٹرز کو وسعت دی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ  51 زیتون کے تیل نکالنے والے یونٹس، جدید پروسیسنگ سہولیات، نرسریوں، موسمیاتی اسٹیشنز اور آئی او سی کے معیار کے مطابق تیار کردہ چار لیبارٹریوں کے ذریعے فارم سے ہینڈلنگ تک (فارم ٹو فورک) ایک مکمل ویلیو چین قائم کر دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان نے مقامی سطح پر تصدیق شدہ زیتون کے پودے تیار کرنے میں خودکفالت بھی حاصل کر لی ہے۔ ان کامیابیوں کو بین الاقوامی سطح پر بھی تسلیم کیا گیا ہے، جس میں پچھلے سال نیویارک انٹرنیشنل اولیو ائل کمپیٹیشن (این وائی آئی او او سی) میں سلور ایوارڈ کا حصول بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان زیتون کے تیل اور زیتون کے عالمی شعبے کی پائیدار اور موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف مزاحم ترقی کے لیے اپنا تعاونی اور مثبت کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے پرتگال کے شہر لزبن میں منعقدہ 123ویں سیشن میں پہلی بار انٹرنیشنل اولیو کونسل کے مستقل رکن کے طور پر اپنی نشست سنبھال لی ہے۔</strong></p>
<p>وزارتِ خارجہ کے مطابق وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ رانا تنویر حسین نے اقوامِ متحدہ کی انٹرنیشنل اولیو کونسل (آئی او سی) کے اجلاس میں شرکت کے لیے پاکستانی وفد کی قیادت کی۔ اس موقع پر پرتگال میں پاکستان کی سفیر عائشہ فاروقی بھی ان کے ہمراہ تھیں۔</p>
<p>مئی 2026 میں انٹرنیشنل اولیو کونسل کی رکنیت حاصل کرنے کے بعد پاکستان کو زیتون پیدا کرنے والے دیگر 27 ممالک کے ساتھ کونسل کے 123ویں اجلاس میں اپنی نشست سنبھالنے کی دعوت دی گئی تھی۔</p>
<p>وزارتِ خارجہ کے مطابق آئی او سی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، چیئرمین اور تمام رکن ممالک کی جانب سے کونسل میں پاکستان کا گرمجوشی سے خیرمقدم کیا گیا۔</p>
<p>وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ نے اپنے بیان میں آئی او سی کا شکریہ ادا کیا اور کونسل کے مقاصد اور اہداف کو آگے بڑھانے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔</p>
<p>رانا تنویر نے کونسل کے ارکان کو پاکستان میں زیتون کے تیزی سے بڑھتے ہوئے شعبے کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ملک بھر میں 55,669 ایکڑ رقبے پر 70 لاکھ سے زائد زیتون کے درخت کاشت کیے جا چکے ہیں اور زیتون کے کلسٹرز کو وسعت دی جا رہی ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ  51 زیتون کے تیل نکالنے والے یونٹس، جدید پروسیسنگ سہولیات، نرسریوں، موسمیاتی اسٹیشنز اور آئی او سی کے معیار کے مطابق تیار کردہ چار لیبارٹریوں کے ذریعے فارم سے ہینڈلنگ تک (فارم ٹو فورک) ایک مکمل ویلیو چین قائم کر دی گئی ہے۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان نے مقامی سطح پر تصدیق شدہ زیتون کے پودے تیار کرنے میں خودکفالت بھی حاصل کر لی ہے۔ ان کامیابیوں کو بین الاقوامی سطح پر بھی تسلیم کیا گیا ہے، جس میں پچھلے سال نیویارک انٹرنیشنل اولیو ائل کمپیٹیشن (این وائی آئی او او سی) میں سلور ایوارڈ کا حصول بھی شامل ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان زیتون کے تیل اور زیتون کے عالمی شعبے کی پائیدار اور موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف مزاحم ترقی کے لیے اپنا تعاونی اور مثبت کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288133</guid>
      <pubDate>Tue, 30 Jun 2026 18:56:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/301850474f9a622.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/301850474f9a622.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
