<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 30 Jun 2026 22:38:38 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 30 Jun 2026 22:38:38 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیٹو بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال سے خود کو ہم آہنگ کر رہا ہے، امریکا اتحاد سے دستبردار نہیں ہو رہا، ترکیہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288132/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ترکیہ کے وزیرِ دفاع یاشر گولر نے آئندہ ہفتے انقرہ میں ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس سے قبل رائٹرز کو بتایا ہے کہ نیٹو بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال سے خود کو ہم آہنگ کر رہا ہے اور امریکا کا اس اتحاد سے الگ ہونے کا کوئی ارادہ نہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترکیہ 7 اور 8 جولائی کو نیٹو کے 32 رہنماؤں کے علاوہ خلیجی اور ایشیا بحرالکاہل خطے کے اعلیٰ حکام کی میزبانی کرے گا۔ انقرہ کو امید ہے کہ یہ سربراہی اجلاس اتحاد کے اندر یکجہتی کو مزید مضبوط بنانے اور کم سے کم  دفاعی صلاحیت (ڈیٹرنس) کو تقویت دینے میں اہم کردار ادا کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل امریکا کو نیٹو سے الگ کرنے کی دھمکی دے چکے ہیں، جبکہ اتحادیوں کے درمیان دفاعی اخراجات اور ذمہ داریوں کی تقسیم پر اختلافات، نیز آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کوششوں میں اتحادیوں کے محدود کردار پر واشنگٹن کے تحفظات کے باعث امریکا نے یورپ سے اپنے فوجی دستوں، طیاروں، بحری جہازوں اور اسلحے کی واپسی کا عمل شروع کر رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحریری سوالات کے جواب میں گولر نے کہا کہ سربراہی اجلاس کی اہم ترجیحات میں اتحادی ممالک کے بڑھتے ہوئے دفاعی اخراجات کو اجاگر کرنا، بحرِ اوقیانوس کے دونوں کناروں پر دفاعی صنعت کے تعاون کو مزید مضبوط بنانا، اتحاد کے اندر یکجہتی کے عزم کا اعادہ کرنا اور یوکرین کے لیے حمایت میں اضافہ شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گولر نے کہا، ”نیٹو یورو۔اٹلانٹک خطے کی سلامتی اور دفاع کے لیے آج بھی ایک بے مثال اور بنیادی پلیٹ فارم ہے۔ ہم موجودہ صورتحال کو بحران نہیں بلکہ بدلتے ہوئے سکیورٹی ماحول سے خود کو ہم آہنگ کرنے کے عمل کے طور پر دیکھتے ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن کا ”نیٹو سے دستبردار ہونے کا کوئی ارادہ نہیں“ بلکہ وہ چاہتا ہے کہ یورپی اتحادی اور کینیڈا، یورپ کی سلامتی کی ذمہ داری میں زیادہ مؤثر اور فعال کردار ادا کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاشار گولر نے کہا، ”توقع ہے کہ سربراہی اجلاس میں یورپی دفاعی ستون کو مضبوط بنانے کے لیے ایک ٹھوس لائحۂ عمل کی تشکیل سے متعلق رابطوں اور کوششوں میں تیزی آئے گی۔“ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ انقرہ دفاعی ذمہ داریوں کی زیادہ منصفانہ تقسیم کا حامی ہے، لیکن اس کی اولین ترجیح نیٹو کے اتحاد و یکجہتی کو برقرار رکھنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیٹو اس وقت غیرمعمولی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ بعض یورپی اتحادیوں کو خدشہ ہے کہ واشنگٹن کہیں مکمل طور پر اتحاد سے الگ نہ ہو جائے، جبکہ امریکا کی فوجی موجودگی میں کمی کے باعث پیدا ہونے والے خلا کو پُر کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گولر نے کہا کہ اتحاد کی سلامتی اور کم سے کم دفاعی صلاحیت (ڈیٹرنس) میں امریکا کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا ہے، جبکہ امریکا اور یورپ کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری (ٹرانس اٹلانٹک بانڈ) کو برقرار رکھنا بھی اسٹریٹجک اہمیت کا حامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ”نیٹو کے موجودہ جوہری شراکت داری کے انتظامات اور امریکا کی توسیعی دفاعی صلاحیت (ایکسٹینڈڈ ڈیٹرنس) کا کردار اتحاد کی سلامتی کے لیے بدستور بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="یورپی-دفاعی-اقدامات" href="#یورپی-دفاعی-اقدامات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;یورپی دفاعی اقدامات&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;ترکیہ نیٹو کی دوسری بڑی فوج کا حامل ملک ہے اور گزشتہ چند برسوں میں اس نے دفاعی شعبے میں بیرونی انحصار نمایاں حد تک کم کرتے ہوئے دنیا کی نمایاں دفاعی صنعتوں میں اپنی جگہ بنائی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم سیاسی اور پالیسی اختلافات کے باعث اسے یورپ کے متعدد دفاعی منصوبوں اور اقدامات سے دور رکھا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گولر نے رائٹرز کو بتایا کہ اگرچہ انقرہ اصولی طور پر یورپ کی دفاعی اور سلامتی کی صلاحیت مضبوط بنانے کی کوششوں کو مثبت سمجھتا ہے، لیکن ان اقدامات میں شمولیت کا فقدان ہے، جس کے باعث یہ اپنی مکمل افادیت حاصل نہیں کر سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ”ہمارا ماننا ہے کہ ترکیہ جیسی اہم صلاحیت کو یورپ کے دفاعی اقدامات سے باہر رکھنا اسٹریٹجک اعتبار سے درست حکمتِ عملی نہیں۔“ انہوں نے مزید کہا کہ انقرہ کو توقع ہے کہ یورپ ”دور اندیشی پر مبنی نقطۂ نظر“ اپنائے گا اور ترکیہ کے ساتھ تعاون کو فروغ دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ سال نیٹو کے رکن ممالک نے 2035 تک دفاعی اخراجات مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 5 فیصد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گولر نے کہا کہ ترکیہ اس ہدف کے حصول کے لیے پُرعزم ہے اور دفاعی اخراجات میں بتدریج اضافہ کر رہا ہے۔ ان کے بقول، انقرہ کا ہدف ہے کہ 2029 تک اپنی تمام دفاعی صلاحیتوں سے متعلق اہداف حاصل کر لیے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گولر نے کہا کہ دفاعی اخراجات کی ترجیحات میں ڈرونز، ڈرون شکن نظام، فضائی دفاع اور میزائل نظام، بحری دفاعی منصوبے، بغیر پائلٹ کے نظام (ان مینڈ سسٹمز) اور سائبر صلاحیتوں کو فروغ دینا شامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ترکیہ کا مربوط فضائی دفاعی نظام ”اسٹیل ڈوم“ جلد از جلد مکمل کر لیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فضائی دفاع بدستور ترکیہ کے لیے ایک اہم مسئلہ ہے، کیونکہ اس کے پاس ابھی تک مکمل اور جامع میزائل دفاعی نظام موجود نہیں، اور اس حوالے سے وہ بڑی حد تک نیٹو کے دفاعی نظام اور جنگی طیاروں پر انحصار کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گولر نے کہا کہ ترکیہ اپنی دفاعی ضروریات پوری کرنے کے لیے ”تمام ممکنہ آپشنز“ کا جائزہ لے رہا ہے، جن میں امریکا سے پیٹریاٹ دفاعی نظام یا فرانس اور اٹلی کے مشترکہ طور پر تیار کردہ فضائی دفاعی نظام (ایس اے ایم پی/ٹی) کی ممکنہ خریداری بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ”اس معاملے پر ہمارا بنیادی مؤقف بالکل واضح ہے۔ ہم ہر ایسے تعاون کے لیے تیار ہیں جو ہمارے ملک کی سلامتی کی ضروریات پوری کرے، جس میں ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مشترکہ پیداوار شامل ہو، اور جو پائیدار ہونے کے ساتھ اتحاد کی روح سے بھی ہم آہنگ ہو۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گولر نے مزید بتایا کہ اس سلسلے میں متعلقہ ممالک کے ساتھ تکنیکی اور سیاسی سطح پر وقتاً فوقتاً مذاکرات جاری رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ترکیہ کے وزیرِ دفاع یاشر گولر نے آئندہ ہفتے انقرہ میں ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس سے قبل رائٹرز کو بتایا ہے کہ نیٹو بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال سے خود کو ہم آہنگ کر رہا ہے اور امریکا کا اس اتحاد سے الگ ہونے کا کوئی ارادہ نہیں۔</strong></p>
<p>ترکیہ 7 اور 8 جولائی کو نیٹو کے 32 رہنماؤں کے علاوہ خلیجی اور ایشیا بحرالکاہل خطے کے اعلیٰ حکام کی میزبانی کرے گا۔ انقرہ کو امید ہے کہ یہ سربراہی اجلاس اتحاد کے اندر یکجہتی کو مزید مضبوط بنانے اور کم سے کم  دفاعی صلاحیت (ڈیٹرنس) کو تقویت دینے میں اہم کردار ادا کرے گا۔</p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل امریکا کو نیٹو سے الگ کرنے کی دھمکی دے چکے ہیں، جبکہ اتحادیوں کے درمیان دفاعی اخراجات اور ذمہ داریوں کی تقسیم پر اختلافات، نیز آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کوششوں میں اتحادیوں کے محدود کردار پر واشنگٹن کے تحفظات کے باعث امریکا نے یورپ سے اپنے فوجی دستوں، طیاروں، بحری جہازوں اور اسلحے کی واپسی کا عمل شروع کر رکھا ہے۔</p>
<p>تحریری سوالات کے جواب میں گولر نے کہا کہ سربراہی اجلاس کی اہم ترجیحات میں اتحادی ممالک کے بڑھتے ہوئے دفاعی اخراجات کو اجاگر کرنا، بحرِ اوقیانوس کے دونوں کناروں پر دفاعی صنعت کے تعاون کو مزید مضبوط بنانا، اتحاد کے اندر یکجہتی کے عزم کا اعادہ کرنا اور یوکرین کے لیے حمایت میں اضافہ شامل ہے۔</p>
<p>گولر نے کہا، ”نیٹو یورو۔اٹلانٹک خطے کی سلامتی اور دفاع کے لیے آج بھی ایک بے مثال اور بنیادی پلیٹ فارم ہے۔ ہم موجودہ صورتحال کو بحران نہیں بلکہ بدلتے ہوئے سکیورٹی ماحول سے خود کو ہم آہنگ کرنے کے عمل کے طور پر دیکھتے ہیں۔“</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن کا ”نیٹو سے دستبردار ہونے کا کوئی ارادہ نہیں“ بلکہ وہ چاہتا ہے کہ یورپی اتحادی اور کینیڈا، یورپ کی سلامتی کی ذمہ داری میں زیادہ مؤثر اور فعال کردار ادا کریں۔</p>
<p>یاشار گولر نے کہا، ”توقع ہے کہ سربراہی اجلاس میں یورپی دفاعی ستون کو مضبوط بنانے کے لیے ایک ٹھوس لائحۂ عمل کی تشکیل سے متعلق رابطوں اور کوششوں میں تیزی آئے گی۔“ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ انقرہ دفاعی ذمہ داریوں کی زیادہ منصفانہ تقسیم کا حامی ہے، لیکن اس کی اولین ترجیح نیٹو کے اتحاد و یکجہتی کو برقرار رکھنا ہے۔</p>
<p>نیٹو اس وقت غیرمعمولی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ بعض یورپی اتحادیوں کو خدشہ ہے کہ واشنگٹن کہیں مکمل طور پر اتحاد سے الگ نہ ہو جائے، جبکہ امریکا کی فوجی موجودگی میں کمی کے باعث پیدا ہونے والے خلا کو پُر کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔</p>
<p>گولر نے کہا کہ اتحاد کی سلامتی اور کم سے کم دفاعی صلاحیت (ڈیٹرنس) میں امریکا کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا ہے، جبکہ امریکا اور یورپ کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری (ٹرانس اٹلانٹک بانڈ) کو برقرار رکھنا بھی اسٹریٹجک اہمیت کا حامل ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ”نیٹو کے موجودہ جوہری شراکت داری کے انتظامات اور امریکا کی توسیعی دفاعی صلاحیت (ایکسٹینڈڈ ڈیٹرنس) کا کردار اتحاد کی سلامتی کے لیے بدستور بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔“</p>
<h3><a id="یورپی-دفاعی-اقدامات" href="#یورپی-دفاعی-اقدامات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>یورپی دفاعی اقدامات</h3>
<p>ترکیہ نیٹو کی دوسری بڑی فوج کا حامل ملک ہے اور گزشتہ چند برسوں میں اس نے دفاعی شعبے میں بیرونی انحصار نمایاں حد تک کم کرتے ہوئے دنیا کی نمایاں دفاعی صنعتوں میں اپنی جگہ بنائی ہے۔</p>
<p>تاہم سیاسی اور پالیسی اختلافات کے باعث اسے یورپ کے متعدد دفاعی منصوبوں اور اقدامات سے دور رکھا گیا ہے۔</p>
<p>گولر نے رائٹرز کو بتایا کہ اگرچہ انقرہ اصولی طور پر یورپ کی دفاعی اور سلامتی کی صلاحیت مضبوط بنانے کی کوششوں کو مثبت سمجھتا ہے، لیکن ان اقدامات میں شمولیت کا فقدان ہے، جس کے باعث یہ اپنی مکمل افادیت حاصل نہیں کر سکیں گے۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ”ہمارا ماننا ہے کہ ترکیہ جیسی اہم صلاحیت کو یورپ کے دفاعی اقدامات سے باہر رکھنا اسٹریٹجک اعتبار سے درست حکمتِ عملی نہیں۔“ انہوں نے مزید کہا کہ انقرہ کو توقع ہے کہ یورپ ”دور اندیشی پر مبنی نقطۂ نظر“ اپنائے گا اور ترکیہ کے ساتھ تعاون کو فروغ دے گا۔</p>
<p>گزشتہ سال نیٹو کے رکن ممالک نے 2035 تک دفاعی اخراجات مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 5 فیصد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا تھا۔</p>
<p>گولر نے کہا کہ ترکیہ اس ہدف کے حصول کے لیے پُرعزم ہے اور دفاعی اخراجات میں بتدریج اضافہ کر رہا ہے۔ ان کے بقول، انقرہ کا ہدف ہے کہ 2029 تک اپنی تمام دفاعی صلاحیتوں سے متعلق اہداف حاصل کر لیے جائیں۔</p>
<p>گولر نے کہا کہ دفاعی اخراجات کی ترجیحات میں ڈرونز، ڈرون شکن نظام، فضائی دفاع اور میزائل نظام، بحری دفاعی منصوبے، بغیر پائلٹ کے نظام (ان مینڈ سسٹمز) اور سائبر صلاحیتوں کو فروغ دینا شامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ترکیہ کا مربوط فضائی دفاعی نظام ”اسٹیل ڈوم“ جلد از جلد مکمل کر لیا جائے گا۔</p>
<p>فضائی دفاع بدستور ترکیہ کے لیے ایک اہم مسئلہ ہے، کیونکہ اس کے پاس ابھی تک مکمل اور جامع میزائل دفاعی نظام موجود نہیں، اور اس حوالے سے وہ بڑی حد تک نیٹو کے دفاعی نظام اور جنگی طیاروں پر انحصار کرتا ہے۔</p>
<p>گولر نے کہا کہ ترکیہ اپنی دفاعی ضروریات پوری کرنے کے لیے ”تمام ممکنہ آپشنز“ کا جائزہ لے رہا ہے، جن میں امریکا سے پیٹریاٹ دفاعی نظام یا فرانس اور اٹلی کے مشترکہ طور پر تیار کردہ فضائی دفاعی نظام (ایس اے ایم پی/ٹی) کی ممکنہ خریداری بھی شامل ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ”اس معاملے پر ہمارا بنیادی مؤقف بالکل واضح ہے۔ ہم ہر ایسے تعاون کے لیے تیار ہیں جو ہمارے ملک کی سلامتی کی ضروریات پوری کرے، جس میں ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مشترکہ پیداوار شامل ہو، اور جو پائیدار ہونے کے ساتھ اتحاد کی روح سے بھی ہم آہنگ ہو۔“</p>
<p>گولر نے مزید بتایا کہ اس سلسلے میں متعلقہ ممالک کے ساتھ تکنیکی اور سیاسی سطح پر وقتاً فوقتاً مذاکرات جاری رہتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288132</guid>
      <pubDate>Tue, 30 Jun 2026 18:58:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/3018401470cdda3.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/3018401470cdda3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
