<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 30 Jun 2026 19:48:18 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 30 Jun 2026 19:48:18 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مسنگ معاشی رپورٹس اور بجٹ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288107/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزارتِ خزانہ تاحال مئی 2026 کی اکنامک اپ ڈیٹ اینڈ آؤٹ لک رپورٹ اپنی ویب سائٹ پر اپ لوڈ نہیں کر سکی حالانکہ یہ دستاویز بجٹ 2026-27 کی تیاری میں معیشت کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اہم اور تازہ ترین اعداد و شمار فراہم کر سکتی تھی۔ اس اخبار نے دو ہفتے قبل اس رپورٹ کی ایک نقل طلب کی تھی تاہم حیران کن طور پر بتایا گیا کہ وزارت بجٹ کی تیاری میں مصروف ہے اور رپورٹ مناسب وقت پر ویب سائٹ پر اپ لوڈ کردی جائے گی۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ کل یکم جولائی کو جون کی ماہانہ اپ ڈیٹ اور آؤٹ لک رپورٹ بھی جاری ہونا متوقع ہے جو مئی کی رپورٹ کے ساتھ ہی واجب الادا ہوگی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارہ شماریات اور اسٹیٹ بینک نے معیشت کے محدود پہلوؤں سے متعلق ڈیٹا اپ لوڈ کرنا جاری رکھا ہے، خاص طور پر تجارتی توازن (برآمدات اور درآمدات)، ترسیلاتِ زر کی آمد، اسٹیٹ بینک اور کمرشل بینکوں کے پاس موجود زرمبادلہ ذخائر، براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری، پورٹ فولیو انویسٹمنٹ اور کنزیومر پرائس انڈیکس (صارفین کی قیمتوں کا اشاریہ)۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ مئی 2026 کی اکنامک آؤٹ لک رپورٹ اپ لوڈ نہ کیے جانے کا اقدام شاید دانستہ تھا، کیونکہ ان دونوں اداروں نے تاحال مئی 2026 کے بعض اہم اعداد و شمار بھی جاری نہیں کیے جن میں بڑے پیمانے کی صنعتی پیداوار (ایل ایس ایم)، نجی شعبے کو فراہم کردہ قرضے، زرعی قرضہ جات اور غیر ٹیکس محصولات سے متعلق اعداد و شمار شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں ایف بی آر کی مئی کی حقیقی وصولیوں کو بھی تاحال منظرعام پر نہیں لایا گیا۔ اطلاعات کے مطابق 30 جون 2026 تک ایف بی آر کو اپنے نظرثانی شدہ ہدف 13.979 کھرب روپے کے مقابلے میں تقریباً ایک کھرب روپے کی کمی کا سامنا رہا جبکہ یہ ہدف بجٹ میں مقرر کردہ 14.307 کھرب روپے سے پہلے ہی کم کیا جاچکا تھا۔ غالب امکان ہے کہ اس کمی کو سبکدوش ہونے والے مالی سال کے بنیادی اور مالیاتی خسارے کے تخمینوں میں شامل نہیں کیا گیا جس کے 2026-27 کے بجٹ تخمینوں پر بھی واضح اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ یہی عنصر ممکنہ طور پر حکومت کے اس حالیہ فیصلے میں بھی اہم کردار کا حامل رہا جس کے تحت عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی کے باوجود پٹرولیم قیمتیں برقرار رکھی گئیں۔ اس مقصد کے لیے پٹرولیم لیوی میں اضافہ کیا گیا تاکہ غیر ٹیکس محصولات میں اضافہ کرکے آئی ایم ایف کی جانب سے رواں مالی سال کے لیے عائد سخت پیشگی شرائط پوری کی جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا یہ ایک سنجیدہ تشویش کا باعث ہے کہ بجٹ ممکنہ طور پر اپریل تک کے پرانے اعدادوشمار کی بنیاد پر تیار کیا گیا جب ملک کی معاشی کارکردگی ابھی تک 28 فروری سے شروع ہونے والی امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر حملوں کے منفی اثرات کو مکمل طور پر جذب نہیں کر سکی تھی اور نہ ہی معیشت میں بڑھتی ہوئی کمزوری کی علامات نمایاں ہونا شروع ہوئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ خزانہ کے انتظامی کنٹرول میں متعدد محکمے اور ڈویژن کام کررہے ہیں جن کے ٹرز آف ریفرنس (اختیارات اور ذمہ داریوں کا دائرہ کار) کسی بھی ایک وقت میں صرف ایک ہی کام تک محدود نہیں ہوتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرے لفظوں میں یہ عذر کہ وزارتِ خزانہ کی ڈویژن رپورٹ لکھنے اور اپ لوڈ کرنے سے قاصر تھی کیونکہ وہ بجٹ کی تشکیل میں مصروف تھی، ناقابلِ قبول ہے اور کابینہ کو اسے ہرگز تسلیم نہیں کرنا چاہیے۔ لہذا کابینہ کے لیے اشد ضروری ہے کہ وہ اس سنگین کوتاہی کا نوٹس لے اور اسے دور کرنے کے لیے مناسب اقدامات کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اب یہ ایک روایت بن چکی ہے کہ حکومت بجٹ سازی میں مصروف عمل افراد کو ان کی تنخواہ کے علاوہ خصوصی انعامات  سے نوازتی ہے، یہ ایک ایسا عمل ہے جو سمجھ سے بالاتر ہے کیونکہ بجٹ تیار کرنا ان افراد کی بنیادی ذمہ داریوں کا حصہ ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی انعام دینے کے عمل کو مزید ناقابلِ فہم بنانے والی حقیقت یہ ہے کہ اس بجٹ کا آئی ایم ایف کے عملے نے انتہائی تفصیل سے جائزہ لیا ہے جو کہ جاری پروگرام قرض کی ایک شرط بھی ہے۔ اس صورتحال میں مقامی ماہرین کا کردار گزشتہ برسوں کے مقابلے میں، جب ملک کسی آئی ایم ایف پروگرام کا حصہ نہیں تھا، کہیں زیادہ محدود ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امید کی جاتی ہے کہ کسی بھی فرد یا افراد کی بنیادی ذمہ داریوں کا حصہ ہونے والے کاموں کے لیے اضافی مالی انعامات دینے کی پالیسی کو ختم کیا جانا چاہیے اور تنخواہ میں میرٹ پر مبنی اضافہ صرف اور صرف ان کی غیر جانبدارانہ کارکردگی کی جانچ پڑتال کا نتیجہ ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزارتِ خزانہ تاحال مئی 2026 کی اکنامک اپ ڈیٹ اینڈ آؤٹ لک رپورٹ اپنی ویب سائٹ پر اپ لوڈ نہیں کر سکی حالانکہ یہ دستاویز بجٹ 2026-27 کی تیاری میں معیشت کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اہم اور تازہ ترین اعداد و شمار فراہم کر سکتی تھی۔ اس اخبار نے دو ہفتے قبل اس رپورٹ کی ایک نقل طلب کی تھی تاہم حیران کن طور پر بتایا گیا کہ وزارت بجٹ کی تیاری میں مصروف ہے اور رپورٹ مناسب وقت پر ویب سائٹ پر اپ لوڈ کردی جائے گی۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ کل یکم جولائی کو جون کی ماہانہ اپ ڈیٹ اور آؤٹ لک رپورٹ بھی جاری ہونا متوقع ہے جو مئی کی رپورٹ کے ساتھ ہی واجب الادا ہوگی۔</strong></p>
<p>ادارہ شماریات اور اسٹیٹ بینک نے معیشت کے محدود پہلوؤں سے متعلق ڈیٹا اپ لوڈ کرنا جاری رکھا ہے، خاص طور پر تجارتی توازن (برآمدات اور درآمدات)، ترسیلاتِ زر کی آمد، اسٹیٹ بینک اور کمرشل بینکوں کے پاس موجود زرمبادلہ ذخائر، براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری، پورٹ فولیو انویسٹمنٹ اور کنزیومر پرائس انڈیکس (صارفین کی قیمتوں کا اشاریہ)۔</p>
<p>تاہم، بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ مئی 2026 کی اکنامک آؤٹ لک رپورٹ اپ لوڈ نہ کیے جانے کا اقدام شاید دانستہ تھا، کیونکہ ان دونوں اداروں نے تاحال مئی 2026 کے بعض اہم اعداد و شمار بھی جاری نہیں کیے جن میں بڑے پیمانے کی صنعتی پیداوار (ایل ایس ایم)، نجی شعبے کو فراہم کردہ قرضے، زرعی قرضہ جات اور غیر ٹیکس محصولات سے متعلق اعداد و شمار شامل ہیں۔</p>
<p>مزید برآں ایف بی آر کی مئی کی حقیقی وصولیوں کو بھی تاحال منظرعام پر نہیں لایا گیا۔ اطلاعات کے مطابق 30 جون 2026 تک ایف بی آر کو اپنے نظرثانی شدہ ہدف 13.979 کھرب روپے کے مقابلے میں تقریباً ایک کھرب روپے کی کمی کا سامنا رہا جبکہ یہ ہدف بجٹ میں مقرر کردہ 14.307 کھرب روپے سے پہلے ہی کم کیا جاچکا تھا۔ غالب امکان ہے کہ اس کمی کو سبکدوش ہونے والے مالی سال کے بنیادی اور مالیاتی خسارے کے تخمینوں میں شامل نہیں کیا گیا جس کے 2026-27 کے بجٹ تخمینوں پر بھی واضح اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ یہی عنصر ممکنہ طور پر حکومت کے اس حالیہ فیصلے میں بھی اہم کردار کا حامل رہا جس کے تحت عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی کے باوجود پٹرولیم قیمتیں برقرار رکھی گئیں۔ اس مقصد کے لیے پٹرولیم لیوی میں اضافہ کیا گیا تاکہ غیر ٹیکس محصولات میں اضافہ کرکے آئی ایم ایف کی جانب سے رواں مالی سال کے لیے عائد سخت پیشگی شرائط پوری کی جا سکیں۔</p>
<p>لہٰذا یہ ایک سنجیدہ تشویش کا باعث ہے کہ بجٹ ممکنہ طور پر اپریل تک کے پرانے اعدادوشمار کی بنیاد پر تیار کیا گیا جب ملک کی معاشی کارکردگی ابھی تک 28 فروری سے شروع ہونے والی امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر حملوں کے منفی اثرات کو مکمل طور پر جذب نہیں کر سکی تھی اور نہ ہی معیشت میں بڑھتی ہوئی کمزوری کی علامات نمایاں ہونا شروع ہوئی تھیں۔</p>
<p>وزارتِ خزانہ کے انتظامی کنٹرول میں متعدد محکمے اور ڈویژن کام کررہے ہیں جن کے ٹرز آف ریفرنس (اختیارات اور ذمہ داریوں کا دائرہ کار) کسی بھی ایک وقت میں صرف ایک ہی کام تک محدود نہیں ہوتے۔</p>
<p>دوسرے لفظوں میں یہ عذر کہ وزارتِ خزانہ کی ڈویژن رپورٹ لکھنے اور اپ لوڈ کرنے سے قاصر تھی کیونکہ وہ بجٹ کی تشکیل میں مصروف تھی، ناقابلِ قبول ہے اور کابینہ کو اسے ہرگز تسلیم نہیں کرنا چاہیے۔ لہذا کابینہ کے لیے اشد ضروری ہے کہ وہ اس سنگین کوتاہی کا نوٹس لے اور اسے دور کرنے کے لیے مناسب اقدامات کرے۔</p>
<p>تاہم اب یہ ایک روایت بن چکی ہے کہ حکومت بجٹ سازی میں مصروف عمل افراد کو ان کی تنخواہ کے علاوہ خصوصی انعامات  سے نوازتی ہے، یہ ایک ایسا عمل ہے جو سمجھ سے بالاتر ہے کیونکہ بجٹ تیار کرنا ان افراد کی بنیادی ذمہ داریوں کا حصہ ہوتا ہے۔</p>
<p>مالی انعام دینے کے عمل کو مزید ناقابلِ فہم بنانے والی حقیقت یہ ہے کہ اس بجٹ کا آئی ایم ایف کے عملے نے انتہائی تفصیل سے جائزہ لیا ہے جو کہ جاری پروگرام قرض کی ایک شرط بھی ہے۔ اس صورتحال میں مقامی ماہرین کا کردار گزشتہ برسوں کے مقابلے میں، جب ملک کسی آئی ایم ایف پروگرام کا حصہ نہیں تھا، کہیں زیادہ محدود ہو چکا ہے۔</p>
<p>امید کی جاتی ہے کہ کسی بھی فرد یا افراد کی بنیادی ذمہ داریوں کا حصہ ہونے والے کاموں کے لیے اضافی مالی انعامات دینے کی پالیسی کو ختم کیا جانا چاہیے اور تنخواہ میں میرٹ پر مبنی اضافہ صرف اور صرف ان کی غیر جانبدارانہ کارکردگی کی جانچ پڑتال کا نتیجہ ہونا چاہیے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288107</guid>
      <pubDate>Tue, 30 Jun 2026 13:34:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/301326367b299ec.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/301326367b299ec.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
