<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 30 Jun 2026 14:30:25 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 30 Jun 2026 14:30:25 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیپرا نے سی پی پی اے-جی کی نظرثانی شدہ مارکیٹ آپریشن فیس منظور کرلی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288091/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے مالی سال 2025-26 کے لیے سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی-گارنٹی (سی پی پی اے-جی) کی نظرثانی شدہ مارکیٹ آپریشن فیس کی منظوری دے دی ہے۔ اتھارٹی نے ادارے کی درخواست اور اخراجات کے تخمینوں کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد 10.5248 روپے فی کلوواٹ ماہانہ مارکیٹ آپریشن فیس کی اجازت دی، جبکہ سی پی پی اے-جی نے 14.67 روپے فی کلوواٹ ماہانہ فیس کی منظوری طلب کی تھی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیپرا کی جانب سے 29 جون 2026 کو جاری کردہ فیصلے کے مطابق سی پی پی اے-جی نے نیپرا ٹیرف اسٹینڈرڈز اینڈ پروسیجر رولز 1998 کے تحت درخواست دائر کی تھی، جس میں آپریشنل فیس کے علاوہ گزشتہ سال کی ایڈجسٹمنٹس، قانونی اخراجات اور آڈٹ شدہ حسابات کی بنیاد پر اخراجات کی منظوری بھی مانگی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارے نے مجموعی طور پر 4.664 ارب روپے کی خالص ریونیو ضرورت ظاہر کی تھی، جس میں تنخواہیں، انتظامی اخراجات، سرمایہ جاتی اخراجات، ٹیکسز اور دیگر ایڈجسٹمنٹس شامل تھیں۔ نیپرا نے 23 دسمبر 2025 کو اس معاملے پر عوامی سماعت بھی کی، تاہم ریگولیٹر کے مطابق کسی اسٹیک ہولڈر کی جانب سے اعتراض یا تبصرہ موصول نہیں ہوا۔ دوسری جانب مداخلت کنندگان نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے تحفظات کو فیصلے میں نظر انداز کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیپرا نے تنخواہوں اور اجرتوں میں 10.49 فیصد اضافے کی اجازت دی، جبکہ سی پی پی اے-جی نے 11 فیصد اضافے کی درخواست کی تھی۔ اس مد میں 1.585 ارب روپے منظور کیے گئے، جبکہ ملازمین کے استعفوں یا تبادلوں کے اثرات شامل نہیں کیے گئے۔ ملازمین کے دیگر مراعاتی اخراجات کے لیے 249 ملین روپے منظور کیے گئے، تاہم بونس کی مد میں ڈیڑھ مجموعی تنخواہ کے بجائے صرف ایک بنیادی تنخواہ کے مساوی 55.64 ملین روپے کی اجازت دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئے ملازمین کی بھرتی کے لیے 109.71 ملین روپے کی منظوری دی گئی، جو پہلے سے بھری گئی 26 آسامیوں کی بنیاد پر ہے، جبکہ مزید بھرتیوں کا جائزہ آئندہ ٹیرف درخواستوں میں لیا جائے گا۔ تربیت اور استعداد کار بڑھانے کے لیے مانگے گئے 32 ملین روپے کے مقابلے میں صرف 8.58 ملین روپے کی منظوری دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیپرا نے واضح کیا کہ سی پی پی اے-جی کے تمام اخراجات بالآخر بجلی صارفین کے ٹیرف پر اثر انداز ہوتے ہیں، اس لیے صرف ضروری اور معقول اخراجات کو ہی منظور کیا گیا ہے۔ اتھارٹی نے سی پی پی اے-جی کو آئندہ درخواست ملٹی ایئر ٹیرف (ایم وائے ٹی) نظام کے تحت دائر کرنے، پاور پرچیز پرائس کی سالانہ پیش گوئی، انسانی وسائل کی سہ ماہی رپورٹ، مجوزہ بھرتیوں کی پیشگی منظوری، بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تفصیلات، بجلی کی پیداوار، ادائیگیوں، ایندھن کے ذخائر، اکنامک میرٹ آرڈر (ای ایم او) سے انحراف، قانونی مقدمات، ٹی اینڈ ٹی نقصانات کی مفاہمتی رپورٹس، اور دیگر آپریشنل معلومات باقاعدگی سے نیپرا کو فراہم کرنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیپرا نے اپنا فیصلہ باضابطہ نوٹیفکیشن کے لیے وفاقی حکومت کو بھجوا دیا ہے۔ اگر 30 روز کے اندر گزٹ نوٹیفکیشن جاری نہ کیا گیا تو نیپرا خود اس فیصلے کا نوٹیفکیشن جاری کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے مالی سال 2025-26 کے لیے سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی-گارنٹی (سی پی پی اے-جی) کی نظرثانی شدہ مارکیٹ آپریشن فیس کی منظوری دے دی ہے۔ اتھارٹی نے ادارے کی درخواست اور اخراجات کے تخمینوں کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد 10.5248 روپے فی کلوواٹ ماہانہ مارکیٹ آپریشن فیس کی اجازت دی، جبکہ سی پی پی اے-جی نے 14.67 روپے فی کلوواٹ ماہانہ فیس کی منظوری طلب کی تھی۔</strong></p>
<p>نیپرا کی جانب سے 29 جون 2026 کو جاری کردہ فیصلے کے مطابق سی پی پی اے-جی نے نیپرا ٹیرف اسٹینڈرڈز اینڈ پروسیجر رولز 1998 کے تحت درخواست دائر کی تھی، جس میں آپریشنل فیس کے علاوہ گزشتہ سال کی ایڈجسٹمنٹس، قانونی اخراجات اور آڈٹ شدہ حسابات کی بنیاد پر اخراجات کی منظوری بھی مانگی گئی تھی۔</p>
<p>ادارے نے مجموعی طور پر 4.664 ارب روپے کی خالص ریونیو ضرورت ظاہر کی تھی، جس میں تنخواہیں، انتظامی اخراجات، سرمایہ جاتی اخراجات، ٹیکسز اور دیگر ایڈجسٹمنٹس شامل تھیں۔ نیپرا نے 23 دسمبر 2025 کو اس معاملے پر عوامی سماعت بھی کی، تاہم ریگولیٹر کے مطابق کسی اسٹیک ہولڈر کی جانب سے اعتراض یا تبصرہ موصول نہیں ہوا۔ دوسری جانب مداخلت کنندگان نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے تحفظات کو فیصلے میں نظر انداز کیا گیا۔</p>
<p>نیپرا نے تنخواہوں اور اجرتوں میں 10.49 فیصد اضافے کی اجازت دی، جبکہ سی پی پی اے-جی نے 11 فیصد اضافے کی درخواست کی تھی۔ اس مد میں 1.585 ارب روپے منظور کیے گئے، جبکہ ملازمین کے استعفوں یا تبادلوں کے اثرات شامل نہیں کیے گئے۔ ملازمین کے دیگر مراعاتی اخراجات کے لیے 249 ملین روپے منظور کیے گئے، تاہم بونس کی مد میں ڈیڑھ مجموعی تنخواہ کے بجائے صرف ایک بنیادی تنخواہ کے مساوی 55.64 ملین روپے کی اجازت دی گئی۔</p>
<p>نئے ملازمین کی بھرتی کے لیے 109.71 ملین روپے کی منظوری دی گئی، جو پہلے سے بھری گئی 26 آسامیوں کی بنیاد پر ہے، جبکہ مزید بھرتیوں کا جائزہ آئندہ ٹیرف درخواستوں میں لیا جائے گا۔ تربیت اور استعداد کار بڑھانے کے لیے مانگے گئے 32 ملین روپے کے مقابلے میں صرف 8.58 ملین روپے کی منظوری دی گئی۔</p>
<p>نیپرا نے واضح کیا کہ سی پی پی اے-جی کے تمام اخراجات بالآخر بجلی صارفین کے ٹیرف پر اثر انداز ہوتے ہیں، اس لیے صرف ضروری اور معقول اخراجات کو ہی منظور کیا گیا ہے۔ اتھارٹی نے سی پی پی اے-جی کو آئندہ درخواست ملٹی ایئر ٹیرف (ایم وائے ٹی) نظام کے تحت دائر کرنے، پاور پرچیز پرائس کی سالانہ پیش گوئی، انسانی وسائل کی سہ ماہی رپورٹ، مجوزہ بھرتیوں کی پیشگی منظوری، بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تفصیلات، بجلی کی پیداوار، ادائیگیوں، ایندھن کے ذخائر، اکنامک میرٹ آرڈر (ای ایم او) سے انحراف، قانونی مقدمات، ٹی اینڈ ٹی نقصانات کی مفاہمتی رپورٹس، اور دیگر آپریشنل معلومات باقاعدگی سے نیپرا کو فراہم کرنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔</p>
<p>نیپرا نے اپنا فیصلہ باضابطہ نوٹیفکیشن کے لیے وفاقی حکومت کو بھجوا دیا ہے۔ اگر 30 روز کے اندر گزٹ نوٹیفکیشن جاری نہ کیا گیا تو نیپرا خود اس فیصلے کا نوٹیفکیشن جاری کرے گی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288091</guid>
      <pubDate>Tue, 30 Jun 2026 09:53:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/30094700a43a7de.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/30094700a43a7de.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
