<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 30 Jun 2026 01:23:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 30 Jun 2026 01:23:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بیرونی قرضوں کی ادائیگی، اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 1.305 ارب ڈالر گھٹ گئے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288079/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 19 جون 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران 1.305 ارب ڈالر کم ہو کر 15.916 ارب ڈالر رہ گئے۔ مرکزی بینک نے پیر کو بتایا کہ اس کمی کی بنیادی وجہ بیرونی قرضوں کی ادائیگیاں تھیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے مطابق، گزشتہ ہفتے اس کے زرمبادلہ کے ذخائر 17.221 ارب ڈالر تھے، جو 19 جون کو ختم ہونے والے ہفتے میں کم ہو کر 15.916 ارب ڈالر رہ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرکزی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق 19 جون تک ملک کے مجموعی مائع زرمبادلہ کے ذخائر 21.484 ارب ڈالر کی سطح پر تھے۔ ان میں سے 15.916 ارب ڈالر اسٹیٹ بینک کے پاس جبکہ 5.568 ارب ڈالر کے خالص زرمبادلہ کے ذخائر کمرشل بینکوں کے پاس موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک نے اپنے زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کی وجہ بیرونی قرضوں کی ادائیگی قرار دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرکزی بینک نے کہا، ”اس کے بعد کے دنوں میں اسٹیٹ بینک کو حکومتِ پاکستان کی جانب سے کثیرالجہتی مالیاتی اداروں سے 70 کروڑ ڈالر موصول ہوئے، جبکہ حکومت کے کمرشل قرض کی ری فنانسنگ کی مد میں تقریباً 1.7 ارب ڈالر بھی حاصل ہوئے ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک نے مزید کہا کہ یہ رقوم 30 جون تک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں شامل ہو جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال 2025-26 کے اختتام تک ملک کے زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر تقریباً 18 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 19 جون 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران 1.305 ارب ڈالر کم ہو کر 15.916 ارب ڈالر رہ گئے۔ مرکزی بینک نے پیر کو بتایا کہ اس کمی کی بنیادی وجہ بیرونی قرضوں کی ادائیگیاں تھیں۔</strong></p>
<p>اسٹیٹ بینک کے مطابق، گزشتہ ہفتے اس کے زرمبادلہ کے ذخائر 17.221 ارب ڈالر تھے، جو 19 جون کو ختم ہونے والے ہفتے میں کم ہو کر 15.916 ارب ڈالر رہ گئے۔</p>
<p>مرکزی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق 19 جون تک ملک کے مجموعی مائع زرمبادلہ کے ذخائر 21.484 ارب ڈالر کی سطح پر تھے۔ ان میں سے 15.916 ارب ڈالر اسٹیٹ بینک کے پاس جبکہ 5.568 ارب ڈالر کے خالص زرمبادلہ کے ذخائر کمرشل بینکوں کے پاس موجود تھے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک نے اپنے زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کی وجہ بیرونی قرضوں کی ادائیگی قرار دی۔</p>
<p>مرکزی بینک نے کہا، ”اس کے بعد کے دنوں میں اسٹیٹ بینک کو حکومتِ پاکستان کی جانب سے کثیرالجہتی مالیاتی اداروں سے 70 کروڑ ڈالر موصول ہوئے، جبکہ حکومت کے کمرشل قرض کی ری فنانسنگ کی مد میں تقریباً 1.7 ارب ڈالر بھی حاصل ہوئے ہیں۔“</p>
<p>اسٹیٹ بینک نے مزید کہا کہ یہ رقوم 30 جون تک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں شامل ہو جائیں گی۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال 2025-26 کے اختتام تک ملک کے زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر تقریباً 18 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288079</guid>
      <pubDate>Mon, 29 Jun 2026 23:03:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/2921003102475b2.webp" type="image/webp" medium="image" height="333" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/2921003102475b2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
