<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 30 Jun 2026 00:15:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 30 Jun 2026 00:15:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکہ ایران مذاکرات سے قبل ثالثوں نے تناؤ کم کرنے کیلئے رابطہ چینلز قائم کر دیے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288071/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ہفتے کو ہونے والے جوابی حملوں کے باعث عبوری امن معاہدے کو لاحق خطرات کے بعد ایران اور امریکہ کی تکنیکی ٹیمیں آئندہ چند روز میں دوحہ میں ملاقات کر سکتی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی خبر رساں ادارے  رائٹرز کو ایک ذریعے نے بتایا کہ ثالثوں نے کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں کشیدگی کم کرنے کے لیے رابطہ چینلز قائم کر دیے ہیں اور تکنیکی مذاکرات جاری رہنے کی امید ہے۔ تاہم ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار کے مطابق ابھی ان ملاقاتوں کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ اور ایران نے چار ماہ سے جاری تنازع کے خاتمے کے لیے 17 جون کو ایک 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت دونوں فریقین نے دشمنی ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر اتفاق کیا تھا، جہاں سے دنیا کے ایک تہائی تیل اور ایل این جی کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس آبی گزرگاہ کی بندش سے خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی تھیں، جس نے عالمی سطح پر مہنگائی کو ہوا دی اور مڈ ٹرم الیکشن سے چند ماہ قبل پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے سیاسی مشکلات کھڑی کر دیں۔ یہ معاہدہ مزید 60 روز کے گہرے مذاکرات کی راہ ہموار کرتا ہے جس میں ایران کے جوہری پروگرام جیسے پیچیدہ مسائل شامل ہیں، اگرچہ دونوں فریقین کے بیانات میں تضاد پایا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی میڈیا کے مطابق صدر مسعود پزشکیان نے  بتایا کہ اس معاہدے کے نتیجے میں قطر میں منجمد 12 ارب ڈالر کے اثاثوں میں سے 6 ارب ڈالر بحال کرکے ایران کو واپس کیے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ معاہدے نے ایران کے پیٹرولیم اور پیٹروکیمیکل سیکٹرز پر سے پابندیاں اٹھا دی ہیں جسے انہوں نے  ایرانی عوام کی عظیم فتح  قرار دیا۔ دوسری جانب ایک امریکی عہدیدار نے بھی تصدیق کی کہ دونوں فریقین نے دشمنی روکنے پر اتفاق کیا ہے اور اب جہازوں کی نقل و حرکت آزادانہ ہو سکے گی۔ تاہم ایرانی نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی کا کہنا تھا کہ اس ہفتے تکنیکی ورکنگ گروپ کے اجلاس طے نہیں ہیں اور قطر مذاکرات کی تصدیق نہیں ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سفارت کاری کی بحالی کی خبروں پر عالمی مارکیٹ میں برینٹ کروڈ کی قیمت 72 ڈالر فی بیرل پر مستحکم ہو گئی۔ مذاکرات کی طرف واپسی کا یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب جمعرات کو آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی جہاز پر ایرانی حملے کے بعد دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے کئی حملے کیے۔ اتوار کی صبح ایران نے کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جو صدر ٹرمپ کی اس سوشل میڈیا پوسٹ کے فوراً بعد ہوئے جس میں انہوں نے دھمکی دی تھی کہ اگر امریکہ کو فوجی طاقت کا استعمال کرنا پڑا تو اسلامی جمہوریہ ایران کا وجود ختم ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کی پوسٹ کے ایک گھنٹے بعد کویت اور بحرین میں سائرن بج اٹھے۔ ایران کے پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ یہ امریکی فضائی حملوں کا جواب تھا اور خطے میں امریکی اڈے اب  جہنم کا تجربہ کریں گے۔ بحرین نے بتایا کہ ایک ایرانی حملے سے رہائشی عمارت کو نقصان پہنچا، جس پر اس نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا، جبکہ کویت نے دو بیلسٹک میزائل فضا میں ہی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب لبنان کے اسپیکر نبیہ بری نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان امریکی ثالثی میں ہونے والے سیکیورٹی معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے اسے ملک کو تقسیم کرنے کی سازش قرار دیا اور کہا کہ اس پر عمل درآمد نہیں ہوگا۔ حزب اللہ نے بھی اسے  انعقادِ ہتھیار (اطاعت) قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ لبنان میں جنگ کا خاتمہ اور جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کا انخلا، امریکہ کے ساتھ ہونے والے کسی بھی وسیع تر امن معاہدے کا لازمی حصہ ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ہفتے کو ہونے والے جوابی حملوں کے باعث عبوری امن معاہدے کو لاحق خطرات کے بعد ایران اور امریکہ کی تکنیکی ٹیمیں آئندہ چند روز میں دوحہ میں ملاقات کر سکتی ہیں۔</strong></p>
<p>غیر ملکی خبر رساں ادارے  رائٹرز کو ایک ذریعے نے بتایا کہ ثالثوں نے کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں کشیدگی کم کرنے کے لیے رابطہ چینلز قائم کر دیے ہیں اور تکنیکی مذاکرات جاری رہنے کی امید ہے۔ تاہم ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار کے مطابق ابھی ان ملاقاتوں کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔</p>
<p>امریکہ اور ایران نے چار ماہ سے جاری تنازع کے خاتمے کے لیے 17 جون کو ایک 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت دونوں فریقین نے دشمنی ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر اتفاق کیا تھا، جہاں سے دنیا کے ایک تہائی تیل اور ایل این جی کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس آبی گزرگاہ کی بندش سے خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی تھیں، جس نے عالمی سطح پر مہنگائی کو ہوا دی اور مڈ ٹرم الیکشن سے چند ماہ قبل پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے سیاسی مشکلات کھڑی کر دیں۔ یہ معاہدہ مزید 60 روز کے گہرے مذاکرات کی راہ ہموار کرتا ہے جس میں ایران کے جوہری پروگرام جیسے پیچیدہ مسائل شامل ہیں، اگرچہ دونوں فریقین کے بیانات میں تضاد پایا جاتا ہے۔</p>
<p>ایرانی میڈیا کے مطابق صدر مسعود پزشکیان نے  بتایا کہ اس معاہدے کے نتیجے میں قطر میں منجمد 12 ارب ڈالر کے اثاثوں میں سے 6 ارب ڈالر بحال کرکے ایران کو واپس کیے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ معاہدے نے ایران کے پیٹرولیم اور پیٹروکیمیکل سیکٹرز پر سے پابندیاں اٹھا دی ہیں جسے انہوں نے  ایرانی عوام کی عظیم فتح  قرار دیا۔ دوسری جانب ایک امریکی عہدیدار نے بھی تصدیق کی کہ دونوں فریقین نے دشمنی روکنے پر اتفاق کیا ہے اور اب جہازوں کی نقل و حرکت آزادانہ ہو سکے گی۔ تاہم ایرانی نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی کا کہنا تھا کہ اس ہفتے تکنیکی ورکنگ گروپ کے اجلاس طے نہیں ہیں اور قطر مذاکرات کی تصدیق نہیں ہوئی۔</p>
<p>سفارت کاری کی بحالی کی خبروں پر عالمی مارکیٹ میں برینٹ کروڈ کی قیمت 72 ڈالر فی بیرل پر مستحکم ہو گئی۔ مذاکرات کی طرف واپسی کا یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب جمعرات کو آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی جہاز پر ایرانی حملے کے بعد دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے کئی حملے کیے۔ اتوار کی صبح ایران نے کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جو صدر ٹرمپ کی اس سوشل میڈیا پوسٹ کے فوراً بعد ہوئے جس میں انہوں نے دھمکی دی تھی کہ اگر امریکہ کو فوجی طاقت کا استعمال کرنا پڑا تو اسلامی جمہوریہ ایران کا وجود ختم ہو جائے گا۔</p>
<p>ٹرمپ کی پوسٹ کے ایک گھنٹے بعد کویت اور بحرین میں سائرن بج اٹھے۔ ایران کے پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ یہ امریکی فضائی حملوں کا جواب تھا اور خطے میں امریکی اڈے اب  جہنم کا تجربہ کریں گے۔ بحرین نے بتایا کہ ایک ایرانی حملے سے رہائشی عمارت کو نقصان پہنچا، جس پر اس نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا، جبکہ کویت نے دو بیلسٹک میزائل فضا میں ہی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا۔</p>
<p>دوسری جانب لبنان کے اسپیکر نبیہ بری نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان امریکی ثالثی میں ہونے والے سیکیورٹی معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے اسے ملک کو تقسیم کرنے کی سازش قرار دیا اور کہا کہ اس پر عمل درآمد نہیں ہوگا۔ حزب اللہ نے بھی اسے  انعقادِ ہتھیار (اطاعت) قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ لبنان میں جنگ کا خاتمہ اور جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کا انخلا، امریکہ کے ساتھ ہونے والے کسی بھی وسیع تر امن معاہدے کا لازمی حصہ ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288071</guid>
      <pubDate>Mon, 29 Jun 2026 18:32:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/2918224093bbac1.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/2918224093bbac1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
