<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 29 Jun 2026 15:06:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 29 Jun 2026 15:06:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ویسٹ ٹو انرجی، دیر سے لیا گیا درست قدم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288046/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ پاکستان نے بالآخر ویسٹ ٹو انرجی (کچرے سے توانائی پیدا کرنے) کے منصوبوں کے لیے ایک جامع قومی پالیسی تیار کرنے کی جانب پیش رفت کی ہے، اگرچہ یہ اقدام کئی برس پہلے اٹھایا جانا چاہیے تھا۔ ضابطہ جاتی خلا کو پُر کرنے، سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنے اور ایک قومی فریم ورک تجویز کرنے کے لیے 18 رکنی ٹاسک فورس کی تشکیل قابلِ حمایت ہے، کیونکہ اس کے پس منظر میں موجود منطق سے اختلاف کرنا مشکل ہے۔ آخرکار، دنیا میں بہت کم ایسے ممالک ہیں جہاں ایک طرف کچرے کے انتظام کے اتنے سنگین مسائل ہوں اور دوسری طرف توانائی کی اتنی مسلسل قلت کا سامنا ہو۔ یہ حقیقت کہ یہ دونوں مسائل ایک دوسرے کے حل میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، بہت عرصے سے واضح ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا بھر میں ویسٹ ٹو انرجی ٹیکنالوجیز تجرباتی تصورات سے نکل کر جدید توانائی اور ماحولیاتی پالیسی کا باقاعدہ حصہ بن چکی ہیں۔ یورپ اور ایشیا کے متعدد ممالک نے کئی دہائیوں کے دوران ایسے نظام تیار کیے ہیں جو شہری کچرے کو بجلی، حرارت اور صنعتی ایندھن میں تبدیل کرتے ہیں، جبکہ ساتھ ہی لینڈ فل  پر دباؤ کم کرتے اور شہری صفائی کے نظام کو بہتر بناتے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی نہ تو نئی ہے اور نہ ہی غیر آزمودہ۔ پاکستان میں جس چیز کی کمی رہی ہے، وہ صرف یہ ہے کہ باتوں اور منصوبہ بندی سے آگے بڑھ کر عملی نفاذ کی جانب سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تاخیر کی ایک قیمت بھی ادا کرنا پڑی ہے۔ پاکستان کے شہر آج بھی بڑھتے ہوئے کچرے، ناکافی تلفی کے نظام اور بڑھتے ہوئے ماحولیاتی دباؤ سے نبرد آزما ہیں۔ دوسری جانب ملک اب بھی درآمدی توانائی پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے اور اپنے توانائی کے ذرائع کو متنوع بنانے کے طریقے تلاش کر رہا ہے۔ ویسٹ ٹو انرجی منصوبے اگرچہ توانائی کے تمام مسائل کا حل نہیں، لیکن یہ ان کے حل میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، جبکہ ساتھ ہی ایک الگ اور سنگین ماحولیاتی مسئلے سے بھی نمٹ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاشی اعتبار سے بھی اس کے حق میں دلائل نہایت مضبوط ہیں۔ شہری کچرا درحقیقت ایک ایسا وسیلہ ہے جسے اس وقت ضائع کیا جا رہا ہے، جبکہ اس کی وجہ سے مقامی حکومتوں اور ماحولیاتی اداروں پر اضافی مالی بوجھ بھی پڑ رہا ہے۔ اگر ویسٹ ٹو انرجی تنصیبات کا مؤثر انداز میں انتظام کیا جائے تو وہ اس بوجھ کے ایک حصے کو معاشی قدر میں تبدیل کر سکتی ہیں۔ یہ بجلی پیدا کر سکتی ہیں، لینڈ فل کی ضرورت کو کم کر سکتی ہیں اور ایسے شعبے میں نجی سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کر سکتی ہیں جس میں طویل المدتی امکانات نمایاں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا حکومت اس موقع کو پہچاننے پر داد کی مستحق ہے۔ ٹاسک فورس کو بین الاقوامی بہترین طریقۂ کار  کا جائزہ لینے، قانونی اور ضابطہ جاتی رکاوٹوں کی نشاندہی کرنے اور ایک قومی پالیسی مرتب کرنے کی جو ذمہ داری سونپی گئی ہے، وہ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ حکومت کو یہ احساس ہے کہ بکھرے ہوئے اور غیر مربوط اقدامات کامیاب نہیں ہو سکتے۔ اس کے علاوہ صوبائی نمائندوں، نجی شعبے کے اسٹیک ہولڈرز اور ماحولیاتی اداروں کی شمولیت سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ عملی نفاذ سے پہلے اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اس امید پسندی کو ماضی کے تجربات کی روشنی میں اعتدال میں رکھنا چاہیے۔ پاکستان میں کمیٹیوں، ٹاسک فورسز، پالیسی فریم ورکس اور اصلاحاتی تجاویز کی کبھی کمی نہیں رہی۔ ملک کی ترقیاتی تاریخ ایسے منصوبوں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے اعلان کے وقت تو خاصا جوش و خروش پیدا کیا، لیکن بعد میں قابلِ پیمائش نتائج دینے میں ناکام رہے۔ ویسٹ ٹو انرجی کا تصور بھی اس سے پہلے کئی مرتبہ پالیسی مباحث کا حصہ بن چکا ہے، مگر ہر بار بیوروکریٹک تاخیر، ضابطہ جاتی غیر یقینی صورتحال اور دیگر ترجیحات کے باعث پس منظر میں چلا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حقیقت پسندی کی بھی ضرورت ہے۔ ویسٹ ٹو انرجی کو کچرے کے انتظام میں وسیع تر اصلاحات کا متبادل نہیں بلکہ ان کی تکمیل کرنے والا جزو ہونا چاہیے۔ ری سائیکلنگ، کچرے کی علیحدگی (ویسٹ سیگریگیشن) اور بہتر جمع آوری کا نظام کسی بھی پائیدار حکمت عملی کے لازمی عناصر ہیں۔ جن ممالک نے ویسٹ ٹو انرجی ٹیکنالوجی کو کامیابی سے اپنایا، انہوں نے اسے الگ تھلگ حل کے طور پر نہیں بلکہ ایک مربوط اور جامع ویسٹ مینجمنٹ نظام کے حصے کے طور پر نافذ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اقدام کی وسیع تر اہمیت اس بات میں مضمر ہے کہ یہ پاکستان کی ترقیاتی ترجیحات کے بارے میں کیا پیغام دیتا ہے۔ ملک بڑھتے ہوئے ماحولیاتی دباؤ، تیز رفتار شہری آبادی میں اضافے اور مسلسل توانائی کے مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے حل جو ایک ہی وقت میں متعدد مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہوں، سنجیدہ توجہ کے مستحق ہیں، اور ویسٹ ٹو انرجی بلا شبہ انہی میں شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صرف اسی وجہ سے یہ اقدام آگے بڑھانے کے قابل ہے۔ یہ ٹیکنالوجی آزمودہ ہے، اس کی ضرورت واضح ہے اور اس کے ممکنہ فوائد بھی نمایاں ہیں۔ اب سوال یہ نہیں رہا کہ پاکستان کو ویسٹ ٹو انرجی کے امکانات کا جائزہ لینا چاہیے یا نہیں۔ یہ بحث تو برسوں پہلے ختم ہو جانی چاہیے تھی۔ اصل چیلنج اب یہ ہے کہ اس بار یہ کوشش ان سابقہ مباحث کی طرح ناکام نہ ہو، بلکہ عملی کامیابی سے ہمکنار ہو۔ دیر آئے، درست آئے یقیناً ایک مناسب جذبہ ہے، لیکن دیر سے آئے اور مؤثر بھی ثابت ہو، یہ اس سے کہیں بہتر ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ پاکستان نے بالآخر ویسٹ ٹو انرجی (کچرے سے توانائی پیدا کرنے) کے منصوبوں کے لیے ایک جامع قومی پالیسی تیار کرنے کی جانب پیش رفت کی ہے، اگرچہ یہ اقدام کئی برس پہلے اٹھایا جانا چاہیے تھا۔ ضابطہ جاتی خلا کو پُر کرنے، سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنے اور ایک قومی فریم ورک تجویز کرنے کے لیے 18 رکنی ٹاسک فورس کی تشکیل قابلِ حمایت ہے، کیونکہ اس کے پس منظر میں موجود منطق سے اختلاف کرنا مشکل ہے۔ آخرکار، دنیا میں بہت کم ایسے ممالک ہیں جہاں ایک طرف کچرے کے انتظام کے اتنے سنگین مسائل ہوں اور دوسری طرف توانائی کی اتنی مسلسل قلت کا سامنا ہو۔ یہ حقیقت کہ یہ دونوں مسائل ایک دوسرے کے حل میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، بہت عرصے سے واضح ہے۔</strong></p>
<p>دنیا بھر میں ویسٹ ٹو انرجی ٹیکنالوجیز تجرباتی تصورات سے نکل کر جدید توانائی اور ماحولیاتی پالیسی کا باقاعدہ حصہ بن چکی ہیں۔ یورپ اور ایشیا کے متعدد ممالک نے کئی دہائیوں کے دوران ایسے نظام تیار کیے ہیں جو شہری کچرے کو بجلی، حرارت اور صنعتی ایندھن میں تبدیل کرتے ہیں، جبکہ ساتھ ہی لینڈ فل  پر دباؤ کم کرتے اور شہری صفائی کے نظام کو بہتر بناتے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی نہ تو نئی ہے اور نہ ہی غیر آزمودہ۔ پاکستان میں جس چیز کی کمی رہی ہے، وہ صرف یہ ہے کہ باتوں اور منصوبہ بندی سے آگے بڑھ کر عملی نفاذ کی جانب سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا گیا۔</p>
<p>اس تاخیر کی ایک قیمت بھی ادا کرنا پڑی ہے۔ پاکستان کے شہر آج بھی بڑھتے ہوئے کچرے، ناکافی تلفی کے نظام اور بڑھتے ہوئے ماحولیاتی دباؤ سے نبرد آزما ہیں۔ دوسری جانب ملک اب بھی درآمدی توانائی پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے اور اپنے توانائی کے ذرائع کو متنوع بنانے کے طریقے تلاش کر رہا ہے۔ ویسٹ ٹو انرجی منصوبے اگرچہ توانائی کے تمام مسائل کا حل نہیں، لیکن یہ ان کے حل میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، جبکہ ساتھ ہی ایک الگ اور سنگین ماحولیاتی مسئلے سے بھی نمٹ سکتے ہیں۔</p>
<p>معاشی اعتبار سے بھی اس کے حق میں دلائل نہایت مضبوط ہیں۔ شہری کچرا درحقیقت ایک ایسا وسیلہ ہے جسے اس وقت ضائع کیا جا رہا ہے، جبکہ اس کی وجہ سے مقامی حکومتوں اور ماحولیاتی اداروں پر اضافی مالی بوجھ بھی پڑ رہا ہے۔ اگر ویسٹ ٹو انرجی تنصیبات کا مؤثر انداز میں انتظام کیا جائے تو وہ اس بوجھ کے ایک حصے کو معاشی قدر میں تبدیل کر سکتی ہیں۔ یہ بجلی پیدا کر سکتی ہیں، لینڈ فل کی ضرورت کو کم کر سکتی ہیں اور ایسے شعبے میں نجی سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کر سکتی ہیں جس میں طویل المدتی امکانات نمایاں ہیں۔</p>
<p>لہٰذا حکومت اس موقع کو پہچاننے پر داد کی مستحق ہے۔ ٹاسک فورس کو بین الاقوامی بہترین طریقۂ کار  کا جائزہ لینے، قانونی اور ضابطہ جاتی رکاوٹوں کی نشاندہی کرنے اور ایک قومی پالیسی مرتب کرنے کی جو ذمہ داری سونپی گئی ہے، وہ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ حکومت کو یہ احساس ہے کہ بکھرے ہوئے اور غیر مربوط اقدامات کامیاب نہیں ہو سکتے۔ اس کے علاوہ صوبائی نمائندوں، نجی شعبے کے اسٹیک ہولڈرز اور ماحولیاتی اداروں کی شمولیت سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ عملی نفاذ سے پہلے اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔</p>
<p>تاہم اس امید پسندی کو ماضی کے تجربات کی روشنی میں اعتدال میں رکھنا چاہیے۔ پاکستان میں کمیٹیوں، ٹاسک فورسز، پالیسی فریم ورکس اور اصلاحاتی تجاویز کی کبھی کمی نہیں رہی۔ ملک کی ترقیاتی تاریخ ایسے منصوبوں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے اعلان کے وقت تو خاصا جوش و خروش پیدا کیا، لیکن بعد میں قابلِ پیمائش نتائج دینے میں ناکام رہے۔ ویسٹ ٹو انرجی کا تصور بھی اس سے پہلے کئی مرتبہ پالیسی مباحث کا حصہ بن چکا ہے، مگر ہر بار بیوروکریٹک تاخیر، ضابطہ جاتی غیر یقینی صورتحال اور دیگر ترجیحات کے باعث پس منظر میں چلا گیا۔</p>
<p>حقیقت پسندی کی بھی ضرورت ہے۔ ویسٹ ٹو انرجی کو کچرے کے انتظام میں وسیع تر اصلاحات کا متبادل نہیں بلکہ ان کی تکمیل کرنے والا جزو ہونا چاہیے۔ ری سائیکلنگ، کچرے کی علیحدگی (ویسٹ سیگریگیشن) اور بہتر جمع آوری کا نظام کسی بھی پائیدار حکمت عملی کے لازمی عناصر ہیں۔ جن ممالک نے ویسٹ ٹو انرجی ٹیکنالوجی کو کامیابی سے اپنایا، انہوں نے اسے الگ تھلگ حل کے طور پر نہیں بلکہ ایک مربوط اور جامع ویسٹ مینجمنٹ نظام کے حصے کے طور پر نافذ کیا۔</p>
<p>اس اقدام کی وسیع تر اہمیت اس بات میں مضمر ہے کہ یہ پاکستان کی ترقیاتی ترجیحات کے بارے میں کیا پیغام دیتا ہے۔ ملک بڑھتے ہوئے ماحولیاتی دباؤ، تیز رفتار شہری آبادی میں اضافے اور مسلسل توانائی کے مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے حل جو ایک ہی وقت میں متعدد مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہوں، سنجیدہ توجہ کے مستحق ہیں، اور ویسٹ ٹو انرجی بلا شبہ انہی میں شامل ہے۔</p>
<p>صرف اسی وجہ سے یہ اقدام آگے بڑھانے کے قابل ہے۔ یہ ٹیکنالوجی آزمودہ ہے، اس کی ضرورت واضح ہے اور اس کے ممکنہ فوائد بھی نمایاں ہیں۔ اب سوال یہ نہیں رہا کہ پاکستان کو ویسٹ ٹو انرجی کے امکانات کا جائزہ لینا چاہیے یا نہیں۔ یہ بحث تو برسوں پہلے ختم ہو جانی چاہیے تھی۔ اصل چیلنج اب یہ ہے کہ اس بار یہ کوشش ان سابقہ مباحث کی طرح ناکام نہ ہو، بلکہ عملی کامیابی سے ہمکنار ہو۔ دیر آئے، درست آئے یقیناً ایک مناسب جذبہ ہے، لیکن دیر سے آئے اور مؤثر بھی ثابت ہو، یہ اس سے کہیں بہتر ہوگا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288046</guid>
      <pubDate>Mon, 29 Jun 2026 12:32:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/291221280baa1ac.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/291221280baa1ac.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
