<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 28 Jun 2026 15:38:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 28 Jun 2026 15:38:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران کا امریکی حملوں کا جواب، کویت اور بحرین میں امریکی اڈوں پر حملے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288024/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اتوار کو دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایرانی سرزمین پر امریکی حملوں کے جواب میں کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ خبردار کیا ہے کہ آئندہ کسی بھی جارحیت کا فیصلہ کن اور کچل دینے والا جواب دیا جائے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران اور امریکہ دونوں ایک دوسرے پر نازک جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کر رہے ہیں، جس کے باعث مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات ایک بار پھر دباؤ کا شکار ہو گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا کہ کویت کے علی السالم فوجی اڈے اور بحرین کے پورٹ سلمان میں قائم امریکی ففتھ فلیٹ کے بحری اڈے پر واقع آٹھ اہم امریکی فوجی تنصیبات کو تباہ کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا کہ دشمن کی کسی بھی جارحیت، خواہ وہ کسی بھی بہانے یا معمولی ہدف کے خلاف کیوں نہ ہو، کا بھرپور اور کچل دینے والا جواب دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ جون کے وسط میں پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط ہوئے تھے، جس کا مقصد جنگ کا مستقل خاتمہ تھا۔ معاہدے میں دونوں ممالک اور ان کے اتحادیوں نے ایک دوسرے کے خلاف جنگ یا فوجی کارروائی نہ کرنے اور طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی سے گریز کرنے پر اتفاق کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم امریکہ نے ہفتے کے روز مسلسل دوسرے دن ایران پر حملے کیے، جنہیں اس نے آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر پر ایرانی حملے کا جواب قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت پر کنٹرول کے لیے نئے اقدامات کیے گئے ہیں اور ایرانی ہدایات کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کے خلاف پہلے سے زیادہ سخت کارروائی کی جائے گی۔ ایران پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ اس وقت صرف اس کی ساحلی پٹی کے ساتھ قائم مخصوص بحری راستہ ہی جہازوں کی آمدورفت کے لیے مجاز ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اتوار کو دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایرانی سرزمین پر امریکی حملوں کے جواب میں کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ خبردار کیا ہے کہ آئندہ کسی بھی جارحیت کا فیصلہ کن اور کچل دینے والا جواب دیا جائے گا۔</strong></p>
<p>ایران اور امریکہ دونوں ایک دوسرے پر نازک جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کر رہے ہیں، جس کے باعث مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات ایک بار پھر دباؤ کا شکار ہو گئے ہیں۔</p>
<p>پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا کہ کویت کے علی السالم فوجی اڈے اور بحرین کے پورٹ سلمان میں قائم امریکی ففتھ فلیٹ کے بحری اڈے پر واقع آٹھ اہم امریکی فوجی تنصیبات کو تباہ کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا کہ دشمن کی کسی بھی جارحیت، خواہ وہ کسی بھی بہانے یا معمولی ہدف کے خلاف کیوں نہ ہو، کا بھرپور اور کچل دینے والا جواب دیا جائے گا۔</p>
<p>یاد رہے کہ جون کے وسط میں پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط ہوئے تھے، جس کا مقصد جنگ کا مستقل خاتمہ تھا۔ معاہدے میں دونوں ممالک اور ان کے اتحادیوں نے ایک دوسرے کے خلاف جنگ یا فوجی کارروائی نہ کرنے اور طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی سے گریز کرنے پر اتفاق کیا تھا۔</p>
<p>تاہم امریکہ نے ہفتے کے روز مسلسل دوسرے دن ایران پر حملے کیے، جنہیں اس نے آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر پر ایرانی حملے کا جواب قرار دیا۔</p>
<p>دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت پر کنٹرول کے لیے نئے اقدامات کیے گئے ہیں اور ایرانی ہدایات کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کے خلاف پہلے سے زیادہ سخت کارروائی کی جائے گی۔ ایران پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ اس وقت صرف اس کی ساحلی پٹی کے ساتھ قائم مخصوص بحری راستہ ہی جہازوں کی آمدورفت کے لیے مجاز ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288024</guid>
      <pubDate>Sun, 28 Jun 2026 13:35:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/28133344149b370.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/28133344149b370.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
