<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 28 Jun 2026 17:12:19 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 28 Jun 2026 17:12:19 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاک ایران کارگو کی نقل و حمل : ایف بی آر نے نیا فریم ورک جاری کر دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288023/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے خلیجی خطے میں جنگ جیسی صورتحال کے پیشِ نظر پاکستان اور ایران کے درمیان تجارتی سامان (کارگو) کی نقل و حمل کے لیے ایک نیا ریگولیٹری فریم ورک جاری کر دیا ہے۔ کسٹمز جنرل آرڈر نمبر 05 آف 2026 کے تحت یہ احکامات فوری طور پر نافذ العمل ہوں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئے طریقہ کار کے مطابق بین الاقوامی کسٹمز ٹرانزٹ (ٹی آئی آر) کے تحت آنے والے سامان پر کسٹمز رولز 2001 کے باب 29 کا اطلاق ہوگا۔ جبکہ عام ٹرانزٹ کارگو کے لیے وزارتِ تجارت کی جانب سے مخصوص کردہ زمینی راستوں کا استعمال لازمی ہوگا۔ اس کے علاوہ ایران جانے والے کارگو کی پاکستانی بندرگاہوں اور آف ڈاک ٹرمینلز پر کراس اسٹفنگ (سامان کی منتقلی) کی اجازت ہوگی۔ کراچی میں ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ٹرانزٹ ٹریڈ کو اس پورے عمل کی نگرانی سونپی گئی ہے، جو چوری یا ہیرا پھیری روکنے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر ڈیٹا کی جانچ کرے گا اور خلاف ورزی پر کسٹمز ایکٹ 1969 کے تحت سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے خلیجی خطے میں جنگ جیسی صورتحال کے پیشِ نظر پاکستان اور ایران کے درمیان تجارتی سامان (کارگو) کی نقل و حمل کے لیے ایک نیا ریگولیٹری فریم ورک جاری کر دیا ہے۔ کسٹمز جنرل آرڈر نمبر 05 آف 2026 کے تحت یہ احکامات فوری طور پر نافذ العمل ہوں گے۔</strong></p>
<p>نئے طریقہ کار کے مطابق بین الاقوامی کسٹمز ٹرانزٹ (ٹی آئی آر) کے تحت آنے والے سامان پر کسٹمز رولز 2001 کے باب 29 کا اطلاق ہوگا۔ جبکہ عام ٹرانزٹ کارگو کے لیے وزارتِ تجارت کی جانب سے مخصوص کردہ زمینی راستوں کا استعمال لازمی ہوگا۔ اس کے علاوہ ایران جانے والے کارگو کی پاکستانی بندرگاہوں اور آف ڈاک ٹرمینلز پر کراس اسٹفنگ (سامان کی منتقلی) کی اجازت ہوگی۔ کراچی میں ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ٹرانزٹ ٹریڈ کو اس پورے عمل کی نگرانی سونپی گئی ہے، جو چوری یا ہیرا پھیری روکنے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر ڈیٹا کی جانچ کرے گا اور خلاف ورزی پر کسٹمز ایکٹ 1969 کے تحت سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288023</guid>
      <pubDate>Sun, 28 Jun 2026 13:31:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/281327250dc2729.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/281327250dc2729.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
