<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 26 Jun 2026 15:44:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 26 Jun 2026 15:44:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سونا ہفتہ وار بنیادوں پر مسلسل چوتھی بار گراوٹ کی جانب گامزن</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287959/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سونے کی قیمتیں جمعہ کو مسلسل چوتھے ہفتے بھی گراوٹ کی جانب گامزن رہیں کیونکہ مضبوط امریکی ڈالر اور افراطِ زر پر قابو پانے کے لیے امریکہ میں شرح سود میں تیزی سے اضافے کی توقعات نے قیمتی دھات کو دباؤ میں رکھا، جس کے باعث سونا فی اونس تقریباً 4,000 ڈالر کی سطح کے قریب رہا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;04:41 جی ایم ٹی تک اسپاٹ گولڈ  0.6 فیصد گر کر 4,002.77 ڈالر فی اونس پر آ گیا۔ جبکہ اگست میں ڈلیوری کے لیے امریکی گولڈ فیوچرز 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 4,017.30 ڈالر پر ٹریڈ کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں ہفتے سونے کی قیمت میں 3.8 فیصد کمی متوقع ہے جبکہ بدھ کو یہ نومبر 2025 کے بعد پہلی بار 4,000 ڈالر کی اہم حد سے نیچے گر گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوآنڈا  کے سینئر مارکیٹ تجزیہ کار کیلون وونگ  نے کہا ہے کہ امریکی فیڈرل ریزرو کے سخت مانیٹری پالیسی کے رجحان  کی تیزی سے نئی قیمتوں کے تعین  نے امریکی ڈالرمیں مضبوط تیزی کا مومینٹم پیدا کیا جس کے نتیجے میں بالآخر سونے کی قیمتوں میں یہ نمایاں گراوٹ دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی ڈالر انڈیکس مئی 2025 کے بعد اپنی بلند ترین سطح کے قریب برقرار ہے اور مسلسل دوسرے ہفتے اضافے کی جانب گامزن ہے جس کی وجہ سے دیگر کرنسیوں کے حامل افراد کے لیے سونا خریدنا مزید مہنگا ہوگیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیلون وونگ کا ماننا ہے کہ جنوری کے آخر میں سونے کی قیمتوں کے ریکارڈ بلندی پر پہنچنے کے بعد سے جاری کئی ماہ کی یہ اصلاحی گراوٹ طویل مدت میں 3,400 ڈالر تک جاری رہ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سونے کی قیمتیں 29 جنوری کو 5,594.82 ڈالر کی ریکارڈ بلندی سے تقریباً 29 فیصد تک گرچکی ہیں جس کی بڑی وجہ امریکہ ایران جنگ سے پیدا ہونے والی افراطِ زر (مہنگائی) ہے جس کے باعث شرح سود میں اضافے کی توقعات بڑھ گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق مئی میں امریکی افراطِ زر میں مزید اضافہ ہوا اور یہ تین سال میں پہلی بار 4.0 فیصد کی سطح سے تجاوز کرگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ سونے کو عام طور پر افراطِ زر کے خلاف ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے لیکن زیادہ شرح سود کے ماحول میں غیر منافع بخش اثاثہ ہونے کے ناطے اس کی کشش کم ہو جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی ایم ای فیڈ واچ ٹول  کے مطابق تاجروں کو اس سال فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں تین اضافوں کی توقع ہے اور وہ ستمبر میں شرح سود بڑھنے کے تقریباً 64 فیصد امکان کو مدنظر رکھ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیگر دھاتوں کی بات کریں تو اسپاٹ سلور  2.6 فیصد گر کر 56.39 ڈالر فی اونس، پلاٹینم 2 فیصد کمی کے ساتھ 1,568.55 ڈالر اور پیلاڈیم 0.6 فیصد گر کر 1,177.12 ڈالر پر آ گئیں۔ یہ تمام دھاتیں ہفتہ وار نقصان کی جانب گامزن ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سونے کی قیمتیں جمعہ کو مسلسل چوتھے ہفتے بھی گراوٹ کی جانب گامزن رہیں کیونکہ مضبوط امریکی ڈالر اور افراطِ زر پر قابو پانے کے لیے امریکہ میں شرح سود میں تیزی سے اضافے کی توقعات نے قیمتی دھات کو دباؤ میں رکھا، جس کے باعث سونا فی اونس تقریباً 4,000 ڈالر کی سطح کے قریب رہا۔</strong></p>
<p>04:41 جی ایم ٹی تک اسپاٹ گولڈ  0.6 فیصد گر کر 4,002.77 ڈالر فی اونس پر آ گیا۔ جبکہ اگست میں ڈلیوری کے لیے امریکی گولڈ فیوچرز 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 4,017.30 ڈالر پر ٹریڈ کررہے ہیں۔</p>
<p>رواں ہفتے سونے کی قیمت میں 3.8 فیصد کمی متوقع ہے جبکہ بدھ کو یہ نومبر 2025 کے بعد پہلی بار 4,000 ڈالر کی اہم حد سے نیچے گر گیا تھا۔</p>
<p>اوآنڈا  کے سینئر مارکیٹ تجزیہ کار کیلون وونگ  نے کہا ہے کہ امریکی فیڈرل ریزرو کے سخت مانیٹری پالیسی کے رجحان  کی تیزی سے نئی قیمتوں کے تعین  نے امریکی ڈالرمیں مضبوط تیزی کا مومینٹم پیدا کیا جس کے نتیجے میں بالآخر سونے کی قیمتوں میں یہ نمایاں گراوٹ دیکھی گئی۔</p>
<p>امریکی ڈالر انڈیکس مئی 2025 کے بعد اپنی بلند ترین سطح کے قریب برقرار ہے اور مسلسل دوسرے ہفتے اضافے کی جانب گامزن ہے جس کی وجہ سے دیگر کرنسیوں کے حامل افراد کے لیے سونا خریدنا مزید مہنگا ہوگیا ہے۔</p>
<p>کیلون وونگ کا ماننا ہے کہ جنوری کے آخر میں سونے کی قیمتوں کے ریکارڈ بلندی پر پہنچنے کے بعد سے جاری کئی ماہ کی یہ اصلاحی گراوٹ طویل مدت میں 3,400 ڈالر تک جاری رہ سکتی ہے۔</p>
<p>سونے کی قیمتیں 29 جنوری کو 5,594.82 ڈالر کی ریکارڈ بلندی سے تقریباً 29 فیصد تک گرچکی ہیں جس کی بڑی وجہ امریکہ ایران جنگ سے پیدا ہونے والی افراطِ زر (مہنگائی) ہے جس کے باعث شرح سود میں اضافے کی توقعات بڑھ گئی ہیں۔</p>
<p>جمعرات کو جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق مئی میں امریکی افراطِ زر میں مزید اضافہ ہوا اور یہ تین سال میں پہلی بار 4.0 فیصد کی سطح سے تجاوز کرگئی۔</p>
<p>اگرچہ سونے کو عام طور پر افراطِ زر کے خلاف ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے لیکن زیادہ شرح سود کے ماحول میں غیر منافع بخش اثاثہ ہونے کے ناطے اس کی کشش کم ہو جاتی ہے۔</p>
<p>سی ایم ای فیڈ واچ ٹول  کے مطابق تاجروں کو اس سال فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں تین اضافوں کی توقع ہے اور وہ ستمبر میں شرح سود بڑھنے کے تقریباً 64 فیصد امکان کو مدنظر رکھ رہے ہیں۔</p>
<p>دیگر دھاتوں کی بات کریں تو اسپاٹ سلور  2.6 فیصد گر کر 56.39 ڈالر فی اونس، پلاٹینم 2 فیصد کمی کے ساتھ 1,568.55 ڈالر اور پیلاڈیم 0.6 فیصد گر کر 1,177.12 ڈالر پر آ گئیں۔ یہ تمام دھاتیں ہفتہ وار نقصان کی جانب گامزن ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287959</guid>
      <pubDate>Fri, 26 Jun 2026 12:17:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/261217347b579c3.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/261217347b579c3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
