<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 25 Jun 2026 14:35:57 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 25 Jun 2026 14:35:57 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران جنگ پر ٹرمپ اور ریپبلکن سینیٹر کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287936/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بدھ کے روز ایران جنگ کے حوالے سے اپنی ہی جماعت ریپبلکنز کے ارکان کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جس کے کچھ ہی دیر بعد ان کی انتظامیہ نے جنگ کے اخراجات کے لیے کانگریس سے اربوں ڈالر کی اضافی فنڈنگ بھی طلب کر لی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بند کمرہ اجلاس میں متعدد ریپبلکن رہنماؤں نے بتایا کہ ٹرمپ اور سینیٹر بل کیسڈی کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا، جس میں بل کیسڈی نے کہا کہ حکومت کو ایران کے ساتھ ہونے والے فریم ورک معاہدے کی وضاحت کرنا ہوگی، کیونکہ اس میں ایران کے لیے مالی مراعات شامل ہیں لیکن جنگ کے آغاز میں طے شدہ مقاصد حاصل نہیں ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بل کیسڈی نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ عوام کو وہ معلومات نہیں دی جا رہیں جو انہیں ملنی چاہئیں، اور یہ واضح نہیں کہ پالیسی وہ نتائج دے رہی ہے جو ابتدا میں بتائے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی سینیٹ نے علامتی طور پر ٹرمپ کو جنگ ختم کرنے کی ہدایت دی، جس کی حمایت چار ریپبلکن اراکین نے بھی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں ٹرمپ نے سینیٹ کی قرارداد کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ بے معنی ہے اور ایران اس پر کوئی خاص ردعمل نہیں دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی روز چند گھنٹوں بعد امریکی انتظامیہ نے کانگریس سے جنگی اخراجات کے لیے 70 ارب ڈالر کی اضافی رقم طلب کی، جو پہلے سے موجود 867 ارب ڈالر کے دفاعی بجٹ کے علاوہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان ابتدائی معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل بحال ہو گئی ہے، جس کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہو کر جنگ سے پہلے کی سطح پر آ گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم معاہدے کی تفصیلات پر اب بھی اختلافات موجود ہیں، جن میں ایران کے جوہری پروگرام، مالی مراعات، اور آبنائے ہرمز کے کنٹرول جیسے حساس معاملات شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا اپنے اتحادیوں کی سلامتی کو نقصان پہنچانے والی کوئی پالیسی قبول نہیں کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر لبنان اور اسرائیل کے درمیان بھی امریکی حمایت یافتہ تجویز پر بات چیت جاری ہے، جبکہ جنوبی لبنان میں ایک اسرائیلی ڈرون حملے میں کم از کم دو افراد ہلاک ہو گئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بدھ کے روز ایران جنگ کے حوالے سے اپنی ہی جماعت ریپبلکنز کے ارکان کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جس کے کچھ ہی دیر بعد ان کی انتظامیہ نے جنگ کے اخراجات کے لیے کانگریس سے اربوں ڈالر کی اضافی فنڈنگ بھی طلب کر لی۔</strong></p>
<p>بند کمرہ اجلاس میں متعدد ریپبلکن رہنماؤں نے بتایا کہ ٹرمپ اور سینیٹر بل کیسڈی کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا، جس میں بل کیسڈی نے کہا کہ حکومت کو ایران کے ساتھ ہونے والے فریم ورک معاہدے کی وضاحت کرنا ہوگی، کیونکہ اس میں ایران کے لیے مالی مراعات شامل ہیں لیکن جنگ کے آغاز میں طے شدہ مقاصد حاصل نہیں ہوئے۔</p>
<p>بل کیسڈی نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ عوام کو وہ معلومات نہیں دی جا رہیں جو انہیں ملنی چاہئیں، اور یہ واضح نہیں کہ پالیسی وہ نتائج دے رہی ہے جو ابتدا میں بتائے گئے تھے۔</p>
<p>یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی سینیٹ نے علامتی طور پر ٹرمپ کو جنگ ختم کرنے کی ہدایت دی، جس کی حمایت چار ریپبلکن اراکین نے بھی کی۔</p>
<p>بعد ازاں ٹرمپ نے سینیٹ کی قرارداد کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ بے معنی ہے اور ایران اس پر کوئی خاص ردعمل نہیں دے گا۔</p>
<p>اسی روز چند گھنٹوں بعد امریکی انتظامیہ نے کانگریس سے جنگی اخراجات کے لیے 70 ارب ڈالر کی اضافی رقم طلب کی، جو پہلے سے موجود 867 ارب ڈالر کے دفاعی بجٹ کے علاوہ ہے۔</p>
<p>دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان ابتدائی معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل بحال ہو گئی ہے، جس کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہو کر جنگ سے پہلے کی سطح پر آ گئی ہیں۔</p>
<p>تاہم معاہدے کی تفصیلات پر اب بھی اختلافات موجود ہیں، جن میں ایران کے جوہری پروگرام، مالی مراعات، اور آبنائے ہرمز کے کنٹرول جیسے حساس معاملات شامل ہیں۔</p>
<p>امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا اپنے اتحادیوں کی سلامتی کو نقصان پہنچانے والی کوئی پالیسی قبول نہیں کرے گا۔</p>
<p>ادھر لبنان اور اسرائیل کے درمیان بھی امریکی حمایت یافتہ تجویز پر بات چیت جاری ہے، جبکہ جنوبی لبنان میں ایک اسرائیلی ڈرون حملے میں کم از کم دو افراد ہلاک ہو گئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287936</guid>
      <pubDate>Thu, 25 Jun 2026 12:06:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/25120410f55fb68.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/25120410f55fb68.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
