<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Technology</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 25 Jun 2026 01:16:06 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 25 Jun 2026 01:16:06 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹیلی کام بل: حکومتی کمیٹی نے رضامندی کے بغیر نجی املاک تک رسائی کی تجویز مسترد کر دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287924/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ری آرگنائزیشن (ترمیمی) بل 2026 میں شامل رائٹ آف وے سے متعلق شقوں کا جائزہ لینے کے لیے قائم کی گئی کمیٹی نے بدھ کو اپنی عبوری رپورٹ پیش کر دی، جس میں اس بات کا اعادہ کیا گیا ہے کہ مجوزہ قانونی فریم ورک کے تحت نجی املاک کے حقوق اور مالکان کی رضامندی کو مکمل تحفظ حاصل ہوگا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جائیداد کے حقوق سے متعلق بڑھتی ہوئی سیاسی تنقید اور عوامی خدشات کے پیشِ نظر وزیراعظم شہباز شریف نے اتوار کو ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی تھی تاکہ بل کی متنازع شقوں، خصوصاً ٹیلی کام انفراسٹرکچر کے لیے رائٹ آف وے تک رسائی سے متعلق دفعات، کا ہنگامی بنیادوں پر جائزہ لیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ کی سربراہی میں قائم کمیٹی میں سینیٹر شیری رحمٰن، وزیرِ مملکت برائے آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ، اٹارنی جنرل منصور اعوان کے علاوہ قانونی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہرین شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی کو مجوزہ قانون کی اہم دفعات، یعنی سیکشن 2(qb)، 2(ma)، 27A اور 27B کا جائزہ لینے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ ان دفعات کا تعلق ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کی تنصیب، نجی املاک اور ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں رسائی کے انتظامات سے متعلق ریگولیٹری اختیارات سے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خصوصی طور پر تنازع سیکشن 27B پر تھا، جس کے تحت ٹیلی کام انفراسٹرکچر کے لیے رائٹ آف وے تک رسائی سے انکار یا اس میں رکاوٹ ڈالنے والے جائیداد مالکان، کرایہ داروں، مکان مالکان یا اداروں پر 5 کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناقدین کا مؤقف تھا کہ یہ شق شہریوں پر تنصیبات کی اجازت دینے کے لیے غیر ضروری دباؤ ڈالنے کا ذریعہ بن سکتی ہے، جس سے قانونی تقاضوں کی پاسداری اور جائیداد کے حقوق کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ کی جانب سے پیش کیا گیا اور قومی اسمبلی سے منظور شدہ یہ بل اس وقت سینیٹ میں زیر غور ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت قانون و انصاف کے مطابق کمیٹی نے اپنی عبوری رپورٹ میں کہا ہے کہ بل کا بنیادی مقصد شہریوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بناتے ہوئے ملک بھر میں ڈیجیٹل رابطوں کو بہتر بنانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا، ’’تاہم کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ بعض دفعات کے متن میں مزید وضاحت کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی قسم کا ابہام دور کیا جا سکے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت قانون کے بیان کے مطابق، ’’رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ نجی املاک سے متعلق معاملات میں مالک کی رضامندی اور باہمی اتفاق بنیادی تقاضے رہیں گے۔ کسی بھی نجی فرد یا نجی قانونی ادارے کی زمین، عمارت، جائیداد یا اثاثوں تک رسائی یا ان کے استعمال سے متعلق کوئی اقدام مالک کی رضامندی اور باہمی طے شدہ انتظام کے بغیر نہیں کیا جائے گا۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفصیلات کے مطابق کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ قانون کے دائرۂ کار کو واضح طور پر ان اراضی، عمارتوں، جائیدادوں اور اثاثوں تک محدود کیا جائے جو سرکاری اداروں، وفاقی اور صوبائی حکومتوں، مقامی حکومتوں، ضابطہ کار کے تحت چلنے والی نجی رہائشی اسکیموں، کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور اسی نوعیت کے دیگر اداروں کی ملکیت یا انتظام میں ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے مزید سفارش کی کہ نجی زمین، نجی جائیداد، نجی افراد، کمپنیوں، کوآپریٹو سوسائٹیوں اور مشترکہ ملکیت کی دیگر صورتوں کی تعریفیں قانون میں واضح اور صریح طور پر شامل کی جائیں تاکہ کسی بھی سطح پر غلط فہمی پیدا نہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق زمین کے اوپر نصب ہونے والے اور زیرِ زمین ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر، رائٹ آف وے اور متعلقہ آلات کے درمیان واضح فرق برقرار رکھا جائے گا اور ہر زمرے کے لیے الگ طریقہ کار وضع کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا کہ اگر کسی لائسنس یافتہ ادارے اور کسی سرکاری اتھارٹی، رہائشی اسکیم، کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی یا اسی نوعیت کے کسی دوسرے ادارے کے درمیان تنازع پیدا ہو تو معاملہ متعلقہ حکومت کے پاس بھیجا جائے گا، جو قانون کے مطابق 45 روز کے اندر فیصلہ کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے سفارش کی کہ متعلقہ حکومت کے لیے واضح رہنما اصول مقرر کیے جائیں تاکہ وہ کسی بھی تجویز کی ضرورت، موزونیت، عوامی مفاد اور قابلِ ادا معاوضے کا جائزہ لے سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پینل نے مزید سفارش کی کہ متعلقہ حکومت کے فیصلے سے متاثر ہونے والا کوئی بھی فریق پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (ری آرگنائزیشن) ایکٹ 1996 کے سیکشن 7A کے تحت قائم ٹیلی کمیونیکیشن اپیلیٹ ٹریبونل سے رجوع کرنے کا حق رکھے، اور ایسے معاملات میں ٹریبونل کا فیصلہ حتمی ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں یہ بھی سفارش کی گئی کہ قانون کے متن اور مقاصد میں ہم آہنگی پیدا کرنے اور شہریوں کے حقوق سے متعلق کسی بھی ابہام کو دور کرنے کے لیے بالادست شق (اوور رائیڈنگ کلاز) پر ازسرِ نو غور کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے سیکشن 27B(1) کے تحت مجوزہ جرمانے کی رقم کا بھی دوبارہ جائزہ لینے اور اسے قانون کے مجموعی مقاصد، ڈھانچے اور دفعات سے ہم آہنگ کرنے کی سفارش کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت قانون کے مطابق کمیٹی نے وسیع تر اصولوں، پالیسی مقاصد اور ضروری ترامیم پر اتفاقِ رائے حاصل کر لیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ری آرگنائزیشن (ترمیمی) بل 2026 میں مجوزہ ترامیم کا مسودہ ایک ہفتے کے اندر حتمی شکل دے کر مزید غور اور ہدایات کے لیے پیش کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت نے واضح کیا کہ حکومت ٹیلی کمیونیکیشن اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق، ’’تاہم یہ ترقی شہریوں کے آئینی اور قانونی حقوق کے مکمل تحفظ کے ساتھ آگے بڑھائی جائے گی۔ نجی املاک کے تحفظ، مالکان کی رضامندی، اعتراض کے حق، قانونی تحفظات اور معاوضے کے اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ رائٹ آف وے اصلاحات کا مقصد عوام کو بہتر، قابلِ اعتماد اور تیز رفتار انٹرنیٹ خدمات فراہم کرنا ہے، نہ کہ کسی شہری کے حقِ ملکیت کو متاثر کرنا۔‘‘&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ری آرگنائزیشن (ترمیمی) بل 2026 میں شامل رائٹ آف وے سے متعلق شقوں کا جائزہ لینے کے لیے قائم کی گئی کمیٹی نے بدھ کو اپنی عبوری رپورٹ پیش کر دی، جس میں اس بات کا اعادہ کیا گیا ہے کہ مجوزہ قانونی فریم ورک کے تحت نجی املاک کے حقوق اور مالکان کی رضامندی کو مکمل تحفظ حاصل ہوگا۔</strong></p>
<p>جائیداد کے حقوق سے متعلق بڑھتی ہوئی سیاسی تنقید اور عوامی خدشات کے پیشِ نظر وزیراعظم شہباز شریف نے اتوار کو ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی تھی تاکہ بل کی متنازع شقوں، خصوصاً ٹیلی کام انفراسٹرکچر کے لیے رائٹ آف وے تک رسائی سے متعلق دفعات، کا ہنگامی بنیادوں پر جائزہ لیا جا سکے۔</p>
<p>وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ کی سربراہی میں قائم کمیٹی میں سینیٹر شیری رحمٰن، وزیرِ مملکت برائے آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ، اٹارنی جنرل منصور اعوان کے علاوہ قانونی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہرین شامل تھے۔</p>
<p>کمیٹی کو مجوزہ قانون کی اہم دفعات، یعنی سیکشن 2(qb)، 2(ma)، 27A اور 27B کا جائزہ لینے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ ان دفعات کا تعلق ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کی تنصیب، نجی املاک اور ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں رسائی کے انتظامات سے متعلق ریگولیٹری اختیارات سے ہے۔</p>
<p>خصوصی طور پر تنازع سیکشن 27B پر تھا، جس کے تحت ٹیلی کام انفراسٹرکچر کے لیے رائٹ آف وے تک رسائی سے انکار یا اس میں رکاوٹ ڈالنے والے جائیداد مالکان، کرایہ داروں، مکان مالکان یا اداروں پر 5 کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔</p>
<p>ناقدین کا مؤقف تھا کہ یہ شق شہریوں پر تنصیبات کی اجازت دینے کے لیے غیر ضروری دباؤ ڈالنے کا ذریعہ بن سکتی ہے، جس سے قانونی تقاضوں کی پاسداری اور جائیداد کے حقوق کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا ہوتے ہیں۔</p>
<p>وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ کی جانب سے پیش کیا گیا اور قومی اسمبلی سے منظور شدہ یہ بل اس وقت سینیٹ میں زیر غور ہے۔</p>
<p>وزارت قانون و انصاف کے مطابق کمیٹی نے اپنی عبوری رپورٹ میں کہا ہے کہ بل کا بنیادی مقصد شہریوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بناتے ہوئے ملک بھر میں ڈیجیٹل رابطوں کو بہتر بنانا ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا، ’’تاہم کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ بعض دفعات کے متن میں مزید وضاحت کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی قسم کا ابہام دور کیا جا سکے۔‘‘</p>
<p>وزارت قانون کے بیان کے مطابق، ’’رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ نجی املاک سے متعلق معاملات میں مالک کی رضامندی اور باہمی اتفاق بنیادی تقاضے رہیں گے۔ کسی بھی نجی فرد یا نجی قانونی ادارے کی زمین، عمارت، جائیداد یا اثاثوں تک رسائی یا ان کے استعمال سے متعلق کوئی اقدام مالک کی رضامندی اور باہمی طے شدہ انتظام کے بغیر نہیں کیا جائے گا۔‘‘</p>
<p>تفصیلات کے مطابق کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ قانون کے دائرۂ کار کو واضح طور پر ان اراضی، عمارتوں، جائیدادوں اور اثاثوں تک محدود کیا جائے جو سرکاری اداروں، وفاقی اور صوبائی حکومتوں، مقامی حکومتوں، ضابطہ کار کے تحت چلنے والی نجی رہائشی اسکیموں، کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور اسی نوعیت کے دیگر اداروں کی ملکیت یا انتظام میں ہوں۔</p>
<p>کمیٹی نے مزید سفارش کی کہ نجی زمین، نجی جائیداد، نجی افراد، کمپنیوں، کوآپریٹو سوسائٹیوں اور مشترکہ ملکیت کی دیگر صورتوں کی تعریفیں قانون میں واضح اور صریح طور پر شامل کی جائیں تاکہ کسی بھی سطح پر غلط فہمی پیدا نہ ہو۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق زمین کے اوپر نصب ہونے والے اور زیرِ زمین ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر، رائٹ آف وے اور متعلقہ آلات کے درمیان واضح فرق برقرار رکھا جائے گا اور ہر زمرے کے لیے الگ طریقہ کار وضع کیا جائے گا۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا کہ اگر کسی لائسنس یافتہ ادارے اور کسی سرکاری اتھارٹی، رہائشی اسکیم، کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی یا اسی نوعیت کے کسی دوسرے ادارے کے درمیان تنازع پیدا ہو تو معاملہ متعلقہ حکومت کے پاس بھیجا جائے گا، جو قانون کے مطابق 45 روز کے اندر فیصلہ کرے گی۔</p>
<p>کمیٹی نے سفارش کی کہ متعلقہ حکومت کے لیے واضح رہنما اصول مقرر کیے جائیں تاکہ وہ کسی بھی تجویز کی ضرورت، موزونیت، عوامی مفاد اور قابلِ ادا معاوضے کا جائزہ لے سکے۔</p>
<p>پینل نے مزید سفارش کی کہ متعلقہ حکومت کے فیصلے سے متاثر ہونے والا کوئی بھی فریق پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (ری آرگنائزیشن) ایکٹ 1996 کے سیکشن 7A کے تحت قائم ٹیلی کمیونیکیشن اپیلیٹ ٹریبونل سے رجوع کرنے کا حق رکھے، اور ایسے معاملات میں ٹریبونل کا فیصلہ حتمی ہوگا۔</p>
<p>رپورٹ میں یہ بھی سفارش کی گئی کہ قانون کے متن اور مقاصد میں ہم آہنگی پیدا کرنے اور شہریوں کے حقوق سے متعلق کسی بھی ابہام کو دور کرنے کے لیے بالادست شق (اوور رائیڈنگ کلاز) پر ازسرِ نو غور کیا جائے۔</p>
<p>کمیٹی نے سیکشن 27B(1) کے تحت مجوزہ جرمانے کی رقم کا بھی دوبارہ جائزہ لینے اور اسے قانون کے مجموعی مقاصد، ڈھانچے اور دفعات سے ہم آہنگ کرنے کی سفارش کی ہے۔</p>
<p>وزارت قانون کے مطابق کمیٹی نے وسیع تر اصولوں، پالیسی مقاصد اور ضروری ترامیم پر اتفاقِ رائے حاصل کر لیا ہے۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ری آرگنائزیشن (ترمیمی) بل 2026 میں مجوزہ ترامیم کا مسودہ ایک ہفتے کے اندر حتمی شکل دے کر مزید غور اور ہدایات کے لیے پیش کیا جائے گا۔</p>
<p>وزارت نے واضح کیا کہ حکومت ٹیلی کمیونیکیشن اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے۔</p>
<p>بیان کے مطابق، ’’تاہم یہ ترقی شہریوں کے آئینی اور قانونی حقوق کے مکمل تحفظ کے ساتھ آگے بڑھائی جائے گی۔ نجی املاک کے تحفظ، مالکان کی رضامندی، اعتراض کے حق، قانونی تحفظات اور معاوضے کے اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ رائٹ آف وے اصلاحات کا مقصد عوام کو بہتر، قابلِ اعتماد اور تیز رفتار انٹرنیٹ خدمات فراہم کرنا ہے، نہ کہ کسی شہری کے حقِ ملکیت کو متاثر کرنا۔‘‘</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287924</guid>
      <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 22:47:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریحان ایوب)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/242241397a4e5d4.webp" type="image/webp" medium="image" height="1024" width="1536">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/242241397a4e5d4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
