<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 25 Jun 2026 00:09:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 25 Jun 2026 00:09:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت کی امریکہ کے ساتھ تجارتی مذاکرات میں پیش رفت کی تعریف، مگر تاحال کوئی معاہدہ نہ ہو سکا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287917/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت نے امریکہ کے ساتھ تجارتی مذاکرات کو کسی حتمی معاہدے کی جانب ایک  اہم قدم قرار دیتے ہوئے اس کی تعریف کی ہے، تاہم باقی ماندہ اختلافات پر کسی بڑی کامیابی یا بریک تھرو کا اعلان نہیں کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی وزیر تجارت پیوش گوئل نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ دورے پر آئے ہوئے امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریر کے ساتھ دو روزہ مذاکرات  تعمیری اور مستقبل کے حوالے سے مثبت انداز  میں منعقد ہوئے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/PiyushGoyal/status/2069708774659739990?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2069708774659739990%7Ctwgr%5E2cd7931725924d96461bd419bf13ff0cd7bf3328%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40427155'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/PiyushGoyal/status/2069708774659739990?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2069708774659739990%7Ctwgr%5E2cd7931725924d96461bd419bf13ff0cd7bf3328%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40427155"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;نئی دہلی اور واشنگٹن نے فروری میں ایک ابتدائی مفاہمت کا اعلان کیا تھا جس کے تحت امریکہ امپورٹ ٹیرف 25 فیصد سے کم کرکے 18 فیصد کرے گا، جبکہ بھارت مختلف صنعتی اور زرعی مصنوعات پر ڈیوٹی میں کٹوتی کرے گا، تاہم جب سے امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بڑے پیمانے پر نافذ کردہ ٹیرف نظام کے زیادہ تر حصے کو کالعدم قرار دیا ہے، تب سے یہ مذاکرات طویل ہوتے جا رہے ہیں۔ بعد ازاں صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہو گئی جب واشنگٹن نے بھارت سمیت کئی ممالک کے خلاف غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کی تحقیقات شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی وزارت تجارت کے ایک بیان میں کہا گیا کہ پیوش گوئل اور جیمی سن گریر کے درمیان مذاکرات کے  متعدد دور ہوئے اور یہ دورہ  جاری کوششوں میں ایک اہم قدم ہے۔ دونوں فریقین نے عبوری معاہدے کو حتمی شکل دینے کے امکان پر پرامید انداز میں بات چیت کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیوش گوئل نے اس بات پر اصرار کیا ہے کہ معاہدے کی پہلی قسط کا  99 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔ بھارت میں امریکی سفیر سرجیو گور کا کہنا تھا کہ مذاکرات کار اب  آخری ایک فیصد پر کام کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیوش گوئل نے اشارہ دیا کہ ایک اہم رکاوٹ بھارت کی یہ ضرورت ہے جس کے تحت وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ خطے میں اس کے دیگر مینوفیکچرنگ حریفوں کے مقابلے میں اس کی حتمی ٹیرف کی شرح مسابقتی رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی وزارت تجارت کے ایک اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ نئی دہلی نے ایک ایسی شق کی تجویز بھی پیش کی ہے جس کے تحت دونوں ممالک کو ایک مقررہ مدت کے بعد معاہدے کی شرائط پر نظرثانی کی اجازت ہوگی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت نے امریکہ کے ساتھ تجارتی مذاکرات کو کسی حتمی معاہدے کی جانب ایک  اہم قدم قرار دیتے ہوئے اس کی تعریف کی ہے، تاہم باقی ماندہ اختلافات پر کسی بڑی کامیابی یا بریک تھرو کا اعلان نہیں کیا۔</strong></p>
<p>بھارتی وزیر تجارت پیوش گوئل نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ دورے پر آئے ہوئے امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریر کے ساتھ دو روزہ مذاکرات  تعمیری اور مستقبل کے حوالے سے مثبت انداز  میں منعقد ہوئے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/PiyushGoyal/status/2069708774659739990?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2069708774659739990%7Ctwgr%5E2cd7931725924d96461bd419bf13ff0cd7bf3328%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40427155'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/PiyushGoyal/status/2069708774659739990?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2069708774659739990%7Ctwgr%5E2cd7931725924d96461bd419bf13ff0cd7bf3328%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40427155"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>نئی دہلی اور واشنگٹن نے فروری میں ایک ابتدائی مفاہمت کا اعلان کیا تھا جس کے تحت امریکہ امپورٹ ٹیرف 25 فیصد سے کم کرکے 18 فیصد کرے گا، جبکہ بھارت مختلف صنعتی اور زرعی مصنوعات پر ڈیوٹی میں کٹوتی کرے گا، تاہم جب سے امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بڑے پیمانے پر نافذ کردہ ٹیرف نظام کے زیادہ تر حصے کو کالعدم قرار دیا ہے، تب سے یہ مذاکرات طویل ہوتے جا رہے ہیں۔ بعد ازاں صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہو گئی جب واشنگٹن نے بھارت سمیت کئی ممالک کے خلاف غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کی تحقیقات شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔</p>
<p>بھارتی وزارت تجارت کے ایک بیان میں کہا گیا کہ پیوش گوئل اور جیمی سن گریر کے درمیان مذاکرات کے  متعدد دور ہوئے اور یہ دورہ  جاری کوششوں میں ایک اہم قدم ہے۔ دونوں فریقین نے عبوری معاہدے کو حتمی شکل دینے کے امکان پر پرامید انداز میں بات چیت کی ہے۔</p>
<p>پیوش گوئل نے اس بات پر اصرار کیا ہے کہ معاہدے کی پہلی قسط کا  99 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔ بھارت میں امریکی سفیر سرجیو گور کا کہنا تھا کہ مذاکرات کار اب  آخری ایک فیصد پر کام کر رہے ہیں۔</p>
<p>پیوش گوئل نے اشارہ دیا کہ ایک اہم رکاوٹ بھارت کی یہ ضرورت ہے جس کے تحت وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ خطے میں اس کے دیگر مینوفیکچرنگ حریفوں کے مقابلے میں اس کی حتمی ٹیرف کی شرح مسابقتی رہے۔</p>
<p>بھارتی وزارت تجارت کے ایک اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ نئی دہلی نے ایک ایسی شق کی تجویز بھی پیش کی ہے جس کے تحت دونوں ممالک کو ایک مقررہ مدت کے بعد معاہدے کی شرائط پر نظرثانی کی اجازت ہوگی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287917</guid>
      <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 19:14:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/24190821d4eb861.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/24190821d4eb861.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
