<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 16:03:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 16:03:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ونڈ پاور منصوبوں کی پیداوار میں کمی سے اربوں کا نقصان، وفاقی چیمبر کا اظہار تشویش</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287901/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈانڈسٹرسی کےصدر عاطف اکرام شیخ نے بتایا ہے کہ فیڈریشن کی سینٹرل اسٹینڈنگ کمیٹی برائے قابلِ تجدید توانائی، جس کے کنوینر فواد جاوید ہیں نے ہوا سے بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں سے خریداری میں کمی اور نتیجتاً ان کی پیداوار میں مسلسل گراوٹ پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ قومی بجلی کے ترسیلی نظام کی یہ ناکامی اربوں روپے کے مالی نقصانات کا باعث بن رہی ہے اور ماحول دوست گرین انرجی میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو دیوالیہ ہونے کے خطرے سے دوچار کررہی ہے۔ مہنگائی سے متاثر عوام کو مہنگے درآمدی ایندھن کا بوجھ برداشت کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے وضاحت کی کہ اگرچہ حکومت کی جانب سے یہ یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ گھارو اور جھمپیر کے علاقوں میں بجلی کی ترسیل میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے گا لیکن نیشنل گرڈ کمپنی اور اینڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹربار بار بجلی کی ترسیل کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے میں ناکام رہے ہیں، اسکے نتیجے میں قومی گرڈ پاکستان کے سب سے سستے اور ماحول دوست بجلی کے ذریعے کو محدود کر رہا ہےجو کہ صرف 14روپے فی یونٹ کے حساب سے دستیاب ہےجبکہ ملک ایک طرف لوڈشیڈنگ کا شکار ہے اور دوسری طرف مہنگی درآمدی گیس اور کوئلے پر قیمتی زرمبادلہ خرچ کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ کے مطابق ایف پی سی سی آئی کی مرکزی قائمہ کمیٹی برائے قابلِ تجدید توانائی نے بجلی کے نرخوں میں ایک حیران کن تضاد کی نشاندہی کی ہے جسکے مطابق نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کے مطابق مقررہ بینچ مارک سے زیادہ ہوا سے حاصل شدہ بجلی کی قیمت ایک روپے فی یونٹ سے بھی کم رہ جاتی ہے، لیکن اس کے باوجود بجلی کا نظام چلانے والے ادارے اس تقریباً مفت مقامی بجلی کو قبول کرنے کے بجائے اربوں ڈالر مالیت کے درآمدی تھرمل ایندھن کو ترجیح دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں نان پراجیکٹ مسڈوالیم میکانزیم کے ازالے کے موجودہ نظام کے تحت، بجلی پیدا نہ ہونے سے ہونے والے نقصانات کا صرف 38 فیصد معاوضہ دیا جاتا ہےحالانکہ ہوا سے چلنے والے وہ بجلی گھر 100 فیصد فعال اور بجلی پیدا کرنے کےلیے تیارہوتے ہیں واضح رہے کہ یہ صورتحال سرمایہ کاروں کے لیے مکمل مالی تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف پی سی سی آئی نے خبردار کیا ہے کہ ایک ایسے ترسیلی نظام پر جو پہلے ہی گنجائش کی کمی اور متعدد مسائل کا شکار ہے اور مسابقتی دوطرفہ معاہداتی بجلی منڈی اور ترسیلی نیلامیاں اس صورتحال میں قومی گرڈ کےاستحکام کو مزید خطرے میں ڈال سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف پی سی سی آئی نے وزیراعظم آفس، وزارتِ توانائی اور نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی سے فوری مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہوا سے بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں کو لازمی طور پر چلانے کا درجہ دیا جائے ذمہ دار اداروں اور افراد کا مؤثر احتساب کیا جائے جبکہ ہوا سے دستیاب بجلی کو قومی گرڈ میں شامل کرنے کو یقینی بنایا جائے تاکہ نقصانات کے ازالے کے موجودہ نظام میں اصلاحات کی جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈانڈسٹرسی کےصدر عاطف اکرام شیخ نے بتایا ہے کہ فیڈریشن کی سینٹرل اسٹینڈنگ کمیٹی برائے قابلِ تجدید توانائی، جس کے کنوینر فواد جاوید ہیں نے ہوا سے بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں سے خریداری میں کمی اور نتیجتاً ان کی پیداوار میں مسلسل گراوٹ پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔</strong></p>
<p>صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ قومی بجلی کے ترسیلی نظام کی یہ ناکامی اربوں روپے کے مالی نقصانات کا باعث بن رہی ہے اور ماحول دوست گرین انرجی میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو دیوالیہ ہونے کے خطرے سے دوچار کررہی ہے۔ مہنگائی سے متاثر عوام کو مہنگے درآمدی ایندھن کا بوجھ برداشت کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔</p>
<p>انہوں نے وضاحت کی کہ اگرچہ حکومت کی جانب سے یہ یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ گھارو اور جھمپیر کے علاقوں میں بجلی کی ترسیل میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے گا لیکن نیشنل گرڈ کمپنی اور اینڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹربار بار بجلی کی ترسیل کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے میں ناکام رہے ہیں، اسکے نتیجے میں قومی گرڈ پاکستان کے سب سے سستے اور ماحول دوست بجلی کے ذریعے کو محدود کر رہا ہےجو کہ صرف 14روپے فی یونٹ کے حساب سے دستیاب ہےجبکہ ملک ایک طرف لوڈشیڈنگ کا شکار ہے اور دوسری طرف مہنگی درآمدی گیس اور کوئلے پر قیمتی زرمبادلہ خرچ کر رہا ہے۔</p>
<p>صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ کے مطابق ایف پی سی سی آئی کی مرکزی قائمہ کمیٹی برائے قابلِ تجدید توانائی نے بجلی کے نرخوں میں ایک حیران کن تضاد کی نشاندہی کی ہے جسکے مطابق نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کے مطابق مقررہ بینچ مارک سے زیادہ ہوا سے حاصل شدہ بجلی کی قیمت ایک روپے فی یونٹ سے بھی کم رہ جاتی ہے، لیکن اس کے باوجود بجلی کا نظام چلانے والے ادارے اس تقریباً مفت مقامی بجلی کو قبول کرنے کے بجائے اربوں ڈالر مالیت کے درآمدی تھرمل ایندھن کو ترجیح دے رہے ہیں۔</p>
<p>مزید برآں نان پراجیکٹ مسڈوالیم میکانزیم کے ازالے کے موجودہ نظام کے تحت، بجلی پیدا نہ ہونے سے ہونے والے نقصانات کا صرف 38 فیصد معاوضہ دیا جاتا ہےحالانکہ ہوا سے چلنے والے وہ بجلی گھر 100 فیصد فعال اور بجلی پیدا کرنے کےلیے تیارہوتے ہیں واضح رہے کہ یہ صورتحال سرمایہ کاروں کے لیے مکمل مالی تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔</p>
<p>ایف پی سی سی آئی نے خبردار کیا ہے کہ ایک ایسے ترسیلی نظام پر جو پہلے ہی گنجائش کی کمی اور متعدد مسائل کا شکار ہے اور مسابقتی دوطرفہ معاہداتی بجلی منڈی اور ترسیلی نیلامیاں اس صورتحال میں قومی گرڈ کےاستحکام کو مزید خطرے میں ڈال سکتی ہیں۔</p>
<p>ایف پی سی سی آئی نے وزیراعظم آفس، وزارتِ توانائی اور نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی سے فوری مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہوا سے بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں کو لازمی طور پر چلانے کا درجہ دیا جائے ذمہ دار اداروں اور افراد کا مؤثر احتساب کیا جائے جبکہ ہوا سے دستیاب بجلی کو قومی گرڈ میں شامل کرنے کو یقینی بنایا جائے تاکہ نقصانات کے ازالے کے موجودہ نظام میں اصلاحات کی جائیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287901</guid>
      <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 13:01:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/2412435130303a3.webp" type="image/webp" medium="image" height="400" width="600">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/2412435130303a3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
