<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 17:11:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 17:11:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تیزی سے بڑھتی آبادی، خطرے کی گھنٹی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287895/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی سالانہ آبادی میں اضافے کی شرح 2.55 فیصد ہے جس کا مطلب ہے کہ ہر سال تقریباً 70 لاکھ افراد کا اضافہ ہورہا ہے، یہ پھیلاؤ پہلے سے انتہائی خستہ حال سماجی اور فزیکل انفرااسٹرکچر پر دباؤ کو مزید بڑھا رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم شہبازشریف نے آبادی میں اضافے کی اس شرح کو ایک تشویشناک رجحان قرار دیا جوجی ڈی پی کی شرح نمو کو ختم کردیتی ہے اور قدرتی وسائل پر بوجھ بنتی ہے۔ انہوں نے بارہا آبادی پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ ملک کے نوجوانوں کو پیداواری معاشی اثاثوں میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ تاہم اگرچہ وزیراعظم نے سرمایہ کاری کو آسان بنانے کے لیے متعدد پروگرام شروع کیے ہیں (بشمول نوجوانوں کے لیے کاروباری قرضے، جن کے لیے بجٹ 27-2026 میں 10 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ گزشتہ سال یہ رقم 40 کروڑ روپے تھی)، اس کے باوجود اپریل 2022 میں وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد سے ملک کے بجٹوں میں خاندانی منصوبہ بندی (پاپولیشن پلاننگ) کے لیے مختص رقوم کی کمی رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ محمد اورنگزیب ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے آبادی میں اضافے کو پاکستان کے لیے وجودی خطرہ قرار دے چکے ہیں اور انہوں نے وزیراعظم کے اس جائز مؤقف کی تائید بھی کی ہے کہ تیزی سے بڑھتی آبادی نہ صرف معاشی ترقی کے ثمرات کو زائل کر رہی ہے بلکہ بچوں میں غذائی قلت کے باعث نشوونما کی کمی (اسٹنٹنگ) کو فروغ دے رہی ہے اور لاکھوں افراد کو بنیادی تعلیم سے بھی محروم کررہی ہے۔ تاہم بجٹ دستاویزات برائے 27-2026 کا بغور جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ متعلقہ نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن ڈویژن نے آبادی پر قابو پانے کے لیے مختص کسی رقم کا ذکر نہیں کیا ، اگرچہ صحت کا شعبہ صوبوں کو منتقل کردیا گیا ہے جو اس کی ایک وجہ ہو سکتی ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مرکز اب اس مسئلے کے لیے فنڈز مختص کرنا مناسب کیوں نہیں سمجھتا؟ بالخصوص جبکہ وزیر خزانہ کے مطابق یہ ملک کے لیے وجودی خطرہ ہے اور صوبے بھی واضح طور پر اس پر کوئی توجہ نہیں دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور اس کی ایک ممکنہ وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں 82 فیصد وزن آبادی کو دیا گیا ہے۔ دوسرے الفاظ میں جس صوبے کی آبادی جتنی زیادہ ہوگی، اسے قابلِ تقسیم محاصل کے مشترکہ فنڈ (ڈویزیبل پول) سے اتنا ہی زیادہ حصہ ملے گا اور اسی بنیاد پر یہ بھی طے ہوتا ہے کہ وفاقی ملازمتوں میں کسی مخصوص صوبے کا حصہ کتنا ہوگا۔ اس لیے ضروری ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں 2010 سے نافذ العمل این ایف سی ایوارڈ پر نظرثانی کریں اور باہمی اتفاقِ رائے سے ایسا فیصلہ کریں جس کے تحت آبادی کو دیے جانے والے وزن میں کم از کم مزید 15 فیصد کمی کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس بھارت نے اپنی شرحِ پیدائش کو کنٹرول کرلیا ہے جو گر کر 1.9 فیصد پر آ گئی ہے، یعنی یہ آبادی کو مستحکم رکھنے کے لیے درکار 2.1 فیصد کی سطح سے بھی نیچے چلی گئی ہے۔ تاہم یہ فرض کرنا غلط نہ ہوگا کہ یورپی ممالک کے برعکس، جہاں ریپلیسمنٹ لیول سے کم آبادی کی شرح ریاست کی جانب سے چائلڈ سپورٹ میں توسیع جیسے خدشات کو جنم دے رہی ہے، بھارت ابھی تک اس حد تک نہیں پہنچا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت کی آبادی کی پالیسی کا مرکز رضاکارانہ خاندانی منصوبہ بندی اور صحت کی دیکھ بھال ہے اور شاید پاکستان، اپنی محدود مالی گنجائش  کے پیشِ نظر اس سے کچھ قیمتی اسباق سیکھ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیش میں بھی شرحِ پیدائش میں گراوٹ دیکھی گئی ہے جو کہ ریپلیسمنٹ لیول یعنی 2.1 فیصد کے قریب یا اس سے قدرے کم ہو چکی ہے اور بھارت کی طرح یہ کامیابی بھی رضاکارانہ خاندانی منصوبہ بندی اور خواتین کو بااختیار بنانے کے ذریعے حاصل کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اور دیگر دو جنوبی ایشیائی ممالک کے درمیان بنیادی فرق خواندگی کی شرح میں ہے جہاں پاکستان میں یہ شرح 63 فیصد ہے، وہیں بھارت میں یہ 77 فیصد اور بنگلہ دیش میں 79 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تعلیم کا شعبہ بھی 2010 میں اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعے صوبوں کے سپرد کر دیا گیا تھا، تاہم کسی بھی صوبے میں اس شعبے کو درکار مالی وسائل فراہم کرنے کی نہ تو صلاحیت ہے اور نہ ہی خواہش۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلاصہ یہ کہ حکومت کے لیے اشد ضروری ہے کہ وہ این ایف سی ایوارڈ پر دوبارہ بات چیت کا آغاز کرے تاکہ صوبائی حصص کی تقسیم کے لیے آبادی کو دیے گئے بے تحاشا وزن پر نظر ثانی کی جاسکے اور صوبائی حکومتیں اپنے تعلیمی بجٹ میں اضافے کے ساتھ ساتھ رضاکارانہ خاندانی منصوبہ بندی کے منصوبوں کی حوصلہ افزائی بھی کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی سالانہ آبادی میں اضافے کی شرح 2.55 فیصد ہے جس کا مطلب ہے کہ ہر سال تقریباً 70 لاکھ افراد کا اضافہ ہورہا ہے، یہ پھیلاؤ پہلے سے انتہائی خستہ حال سماجی اور فزیکل انفرااسٹرکچر پر دباؤ کو مزید بڑھا رہا ہے۔</strong></p>
<p>وزیراعظم شہبازشریف نے آبادی میں اضافے کی اس شرح کو ایک تشویشناک رجحان قرار دیا جوجی ڈی پی کی شرح نمو کو ختم کردیتی ہے اور قدرتی وسائل پر بوجھ بنتی ہے۔ انہوں نے بارہا آبادی پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ ملک کے نوجوانوں کو پیداواری معاشی اثاثوں میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ تاہم اگرچہ وزیراعظم نے سرمایہ کاری کو آسان بنانے کے لیے متعدد پروگرام شروع کیے ہیں (بشمول نوجوانوں کے لیے کاروباری قرضے، جن کے لیے بجٹ 27-2026 میں 10 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ گزشتہ سال یہ رقم 40 کروڑ روپے تھی)، اس کے باوجود اپریل 2022 میں وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد سے ملک کے بجٹوں میں خاندانی منصوبہ بندی (پاپولیشن پلاننگ) کے لیے مختص رقوم کی کمی رہی ہے۔</p>
<p>وزیر خزانہ محمد اورنگزیب ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے آبادی میں اضافے کو پاکستان کے لیے وجودی خطرہ قرار دے چکے ہیں اور انہوں نے وزیراعظم کے اس جائز مؤقف کی تائید بھی کی ہے کہ تیزی سے بڑھتی آبادی نہ صرف معاشی ترقی کے ثمرات کو زائل کر رہی ہے بلکہ بچوں میں غذائی قلت کے باعث نشوونما کی کمی (اسٹنٹنگ) کو فروغ دے رہی ہے اور لاکھوں افراد کو بنیادی تعلیم سے بھی محروم کررہی ہے۔ تاہم بجٹ دستاویزات برائے 27-2026 کا بغور جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ متعلقہ نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن ڈویژن نے آبادی پر قابو پانے کے لیے مختص کسی رقم کا ذکر نہیں کیا ، اگرچہ صحت کا شعبہ صوبوں کو منتقل کردیا گیا ہے جو اس کی ایک وجہ ہو سکتی ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مرکز اب اس مسئلے کے لیے فنڈز مختص کرنا مناسب کیوں نہیں سمجھتا؟ بالخصوص جبکہ وزیر خزانہ کے مطابق یہ ملک کے لیے وجودی خطرہ ہے اور صوبے بھی واضح طور پر اس پر کوئی توجہ نہیں دے رہے ہیں۔</p>
<p>اور اس کی ایک ممکنہ وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں 82 فیصد وزن آبادی کو دیا گیا ہے۔ دوسرے الفاظ میں جس صوبے کی آبادی جتنی زیادہ ہوگی، اسے قابلِ تقسیم محاصل کے مشترکہ فنڈ (ڈویزیبل پول) سے اتنا ہی زیادہ حصہ ملے گا اور اسی بنیاد پر یہ بھی طے ہوتا ہے کہ وفاقی ملازمتوں میں کسی مخصوص صوبے کا حصہ کتنا ہوگا۔ اس لیے ضروری ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں 2010 سے نافذ العمل این ایف سی ایوارڈ پر نظرثانی کریں اور باہمی اتفاقِ رائے سے ایسا فیصلہ کریں جس کے تحت آبادی کو دیے جانے والے وزن میں کم از کم مزید 15 فیصد کمی کی جائے۔</p>
<p>اس کے برعکس بھارت نے اپنی شرحِ پیدائش کو کنٹرول کرلیا ہے جو گر کر 1.9 فیصد پر آ گئی ہے، یعنی یہ آبادی کو مستحکم رکھنے کے لیے درکار 2.1 فیصد کی سطح سے بھی نیچے چلی گئی ہے۔ تاہم یہ فرض کرنا غلط نہ ہوگا کہ یورپی ممالک کے برعکس، جہاں ریپلیسمنٹ لیول سے کم آبادی کی شرح ریاست کی جانب سے چائلڈ سپورٹ میں توسیع جیسے خدشات کو جنم دے رہی ہے، بھارت ابھی تک اس حد تک نہیں پہنچا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت کی آبادی کی پالیسی کا مرکز رضاکارانہ خاندانی منصوبہ بندی اور صحت کی دیکھ بھال ہے اور شاید پاکستان، اپنی محدود مالی گنجائش  کے پیشِ نظر اس سے کچھ قیمتی اسباق سیکھ سکتا ہے۔</p>
<p>بنگلہ دیش میں بھی شرحِ پیدائش میں گراوٹ دیکھی گئی ہے جو کہ ریپلیسمنٹ لیول یعنی 2.1 فیصد کے قریب یا اس سے قدرے کم ہو چکی ہے اور بھارت کی طرح یہ کامیابی بھی رضاکارانہ خاندانی منصوبہ بندی اور خواتین کو بااختیار بنانے کے ذریعے حاصل کی گئی۔</p>
<p>پاکستان اور دیگر دو جنوبی ایشیائی ممالک کے درمیان بنیادی فرق خواندگی کی شرح میں ہے جہاں پاکستان میں یہ شرح 63 فیصد ہے، وہیں بھارت میں یہ 77 فیصد اور بنگلہ دیش میں 79 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔</p>
<p>تعلیم کا شعبہ بھی 2010 میں اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعے صوبوں کے سپرد کر دیا گیا تھا، تاہم کسی بھی صوبے میں اس شعبے کو درکار مالی وسائل فراہم کرنے کی نہ تو صلاحیت ہے اور نہ ہی خواہش۔</p>
<p>خلاصہ یہ کہ حکومت کے لیے اشد ضروری ہے کہ وہ این ایف سی ایوارڈ پر دوبارہ بات چیت کا آغاز کرے تاکہ صوبائی حصص کی تقسیم کے لیے آبادی کو دیے گئے بے تحاشا وزن پر نظر ثانی کی جاسکے اور صوبائی حکومتیں اپنے تعلیمی بجٹ میں اضافے کے ساتھ ساتھ رضاکارانہ خاندانی منصوبہ بندی کے منصوبوں کی حوصلہ افزائی بھی کریں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287895</guid>
      <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 13:54:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/2411544754f7692.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/2411544754f7692.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
