<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets - Energy</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 06:20:14 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 02 Oct 2026 06:20:14 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آبنائے ہرمز سے خام تیل کی بلا رکاوٹ ترسیل کی توقعات، برینٹ کی قیمتوں میں مزید کمی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287884/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;برینٹ خام تیل کی قیمتیں بدھ کو 3 فیصد گر کر ایران جنگ شروع ہونے سے پہلے کی کم ترین سطح پر آ گئیں، جس کی وجہ آبنائے ہرمز سے مزید آئل ٹینکرز کی روانگی کے آثار ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی وقت کے مطابق 12:18 بجے تک برینٹ خام تیل کے سودے 2.32 ڈالر یا 3.01 فیصد کمی کے ساتھ 74.76 ڈالر فی بیرل پر آگئے۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ  بھی 2.17 ڈالر یا 2.96 فیصد گر کر 71.04 ڈالر پر آگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ نے 74.61 ڈالر کی کم ترین سطح کو چھوا، جو 27 فروری کے بعد اس کی سب سے کم ترین سطح ہے، یعنی ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کے آغاز سے ایک دن پہلے کی سطح۔ دوسری جانب ڈبلیو ٹی آئی گر کر 70.91 ڈالر تک آگیا، جو 3 مارچ کے بعد اس کی کم ترین سطح ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ اینالسٹ ٹم واٹرر کا کہنا ہے کہ  اگرچہ ٹینکرز کی نقل و حرکت میں اضافے کے ابتدائی حوصلہ افزا آثار موجود ہیں لیکن مارکیٹ عالمی منڈی میں ایرانی تیل کی دوبارہ واپسی اور آبنائے ہرمز کی صورتحال معمول پر آنے کے وسیع تر منظر نامے کو مدنظر رکھ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹم واٹرر نے مزید کہا کہ  اگر پابندیوں میں نرمی کی جاتی ہے تو ٹینکرز میں ذخیرہ شدہ تیل کی بڑی مقدار کے پیش نظر ایرانی پیداوار اور برآمدات نسبتاً تیزی سے بڑھ سکتی ہیں اور اس کے لیے مہینوں کے بجائے ممکنہ طور پر چند ہفتے ہی درکار ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ میں مندی کے دیگر اشاروں کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں خام تیل کی کھیپ ڈسکاؤنٹ پر فروخت ہو رہی ہے، جس سے تجارتی بہاؤ تبدیل ہو رہا ہے۔ مارکیٹیں مشرق وسطیٰ کی تیزی سے بڑھتی ہوئی سپلائی کے دباؤ میں ہیں کیونکہ امریکی پابندیوں سے عارضی چھوٹ کے بعد ایران اپنی فروخت بڑھانے کے لیے تیار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمان نے کہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو بغیر کسی ٹول ٹیکس کے جہاز رانی کے لیے کھلا رکھے گا اور خطے سے روانہ ہونے والے بحری جہازوں کے محفوظ گزرنے کی سہولت کے لیے موجودہ شپنگ لین کے شمال اور جنوب میں دو عارضی راستے مختص کر دیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں ہفتے قیمتیں اس 60 روزہ پابندیوں کی چھوٹ کی وجہ سے بھی دباؤ کا شکار رہیں جو واشنگٹن نے ابتدائی امن مذاکرات کے بعد تہران کو دی ہے، جس کے تحت ایران کو تیل فروخت کرنے کی اجازت ملی ہے اور ساتھ ہی لبنان میں کشیدگی میں کمی بھی اس کی ایک وجہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ کی شپنگ ایجنسی کے ترجمان نے  بتایا کہ نئے شروع کیے گئے انخلا کے منصوبے کے تحت بحری جہاز پہلے ہی آبنائے ہرمز سے گزر چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم امریکہ ایران معاہدے کے پائیدار ہونے کے بارے میں غیر یقینی صورتحال اب بھی برقرار ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو کہا تھا کہ ایران  لا محدود جوہری معائنوں پر راضی ہو گیا ہے، حالانکہ تہران کا کہنا ہے کہ اس نے ایسی کوئی رعایت نہیں دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیبرٹ فنانشل کے سی آئی او مارک مالیک کا کہنا ہے کہ  مارکیٹیں فی الحال غیر حل شدہ جوہری مسائل اور معائنہ کے تنازعات سے وابستہ خطرات کو پوری طرح نظر انداز کرتے ہوئے، سازگار نتائج پر ضرورت سے زیادہ اعتماد کا اظہار کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جے پی مورگن نے او ای سی ڈی  کے تجارتی اسٹاک میں توقع سے کم کمی اور تیل کی کمزور طلب کے باعث 2026 کی دوسری چھماہی کے لیے برینٹ خام تیل کی قیمت کی پیشگوئی کو کم کر دیا۔ بینک کے مطابق تیسری سہ ماہی میں برینٹ کی اوسط قیمت 86 ڈالر اور آخری سہ ماہی میں 80 ڈالر فی بیرل رہنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب انڈسٹری کے دو ذرائع نے  بتایا کہ یوکرینی ڈرون حملوں میں شدید نقصان پہنچنے کے بعد ماسکو کی آئل ریفائنری کم از کم چھ ماہ کے لیے بند رہے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>برینٹ خام تیل کی قیمتیں بدھ کو 3 فیصد گر کر ایران جنگ شروع ہونے سے پہلے کی کم ترین سطح پر آ گئیں، جس کی وجہ آبنائے ہرمز سے مزید آئل ٹینکرز کی روانگی کے آثار ہیں۔</strong></p>
<p>عالمی وقت کے مطابق 12:18 بجے تک برینٹ خام تیل کے سودے 2.32 ڈالر یا 3.01 فیصد کمی کے ساتھ 74.76 ڈالر فی بیرل پر آگئے۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ  بھی 2.17 ڈالر یا 2.96 فیصد گر کر 71.04 ڈالر پر آگیا۔</p>
<p>برینٹ نے 74.61 ڈالر کی کم ترین سطح کو چھوا، جو 27 فروری کے بعد اس کی سب سے کم ترین سطح ہے، یعنی ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کے آغاز سے ایک دن پہلے کی سطح۔ دوسری جانب ڈبلیو ٹی آئی گر کر 70.91 ڈالر تک آگیا، جو 3 مارچ کے بعد اس کی کم ترین سطح ہے۔</p>
<p>کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ اینالسٹ ٹم واٹرر کا کہنا ہے کہ  اگرچہ ٹینکرز کی نقل و حرکت میں اضافے کے ابتدائی حوصلہ افزا آثار موجود ہیں لیکن مارکیٹ عالمی منڈی میں ایرانی تیل کی دوبارہ واپسی اور آبنائے ہرمز کی صورتحال معمول پر آنے کے وسیع تر منظر نامے کو مدنظر رکھ رہی ہے۔</p>
<p>ٹم واٹرر نے مزید کہا کہ  اگر پابندیوں میں نرمی کی جاتی ہے تو ٹینکرز میں ذخیرہ شدہ تیل کی بڑی مقدار کے پیش نظر ایرانی پیداوار اور برآمدات نسبتاً تیزی سے بڑھ سکتی ہیں اور اس کے لیے مہینوں کے بجائے ممکنہ طور پر چند ہفتے ہی درکار ہوں گے۔</p>
<p>مارکیٹ میں مندی کے دیگر اشاروں کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں خام تیل کی کھیپ ڈسکاؤنٹ پر فروخت ہو رہی ہے، جس سے تجارتی بہاؤ تبدیل ہو رہا ہے۔ مارکیٹیں مشرق وسطیٰ کی تیزی سے بڑھتی ہوئی سپلائی کے دباؤ میں ہیں کیونکہ امریکی پابندیوں سے عارضی چھوٹ کے بعد ایران اپنی فروخت بڑھانے کے لیے تیار ہے۔</p>
<p>عمان نے کہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو بغیر کسی ٹول ٹیکس کے جہاز رانی کے لیے کھلا رکھے گا اور خطے سے روانہ ہونے والے بحری جہازوں کے محفوظ گزرنے کی سہولت کے لیے موجودہ شپنگ لین کے شمال اور جنوب میں دو عارضی راستے مختص کر دیے ہیں۔</p>
<p>رواں ہفتے قیمتیں اس 60 روزہ پابندیوں کی چھوٹ کی وجہ سے بھی دباؤ کا شکار رہیں جو واشنگٹن نے ابتدائی امن مذاکرات کے بعد تہران کو دی ہے، جس کے تحت ایران کو تیل فروخت کرنے کی اجازت ملی ہے اور ساتھ ہی لبنان میں کشیدگی میں کمی بھی اس کی ایک وجہ ہے۔</p>
<p>اقوام متحدہ کی شپنگ ایجنسی کے ترجمان نے  بتایا کہ نئے شروع کیے گئے انخلا کے منصوبے کے تحت بحری جہاز پہلے ہی آبنائے ہرمز سے گزر چکے ہیں۔</p>
<p>تاہم امریکہ ایران معاہدے کے پائیدار ہونے کے بارے میں غیر یقینی صورتحال اب بھی برقرار ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو کہا تھا کہ ایران  لا محدود جوہری معائنوں پر راضی ہو گیا ہے، حالانکہ تہران کا کہنا ہے کہ اس نے ایسی کوئی رعایت نہیں دی۔</p>
<p>سیبرٹ فنانشل کے سی آئی او مارک مالیک کا کہنا ہے کہ  مارکیٹیں فی الحال غیر حل شدہ جوہری مسائل اور معائنہ کے تنازعات سے وابستہ خطرات کو پوری طرح نظر انداز کرتے ہوئے، سازگار نتائج پر ضرورت سے زیادہ اعتماد کا اظہار کر رہی ہیں۔</p>
<p>جے پی مورگن نے او ای سی ڈی  کے تجارتی اسٹاک میں توقع سے کم کمی اور تیل کی کمزور طلب کے باعث 2026 کی دوسری چھماہی کے لیے برینٹ خام تیل کی قیمت کی پیشگوئی کو کم کر دیا۔ بینک کے مطابق تیسری سہ ماہی میں برینٹ کی اوسط قیمت 86 ڈالر اور آخری سہ ماہی میں 80 ڈالر فی بیرل رہنے کا امکان ہے۔</p>
<p>دوسری جانب انڈسٹری کے دو ذرائع نے  بتایا کہ یوکرینی ڈرون حملوں میں شدید نقصان پہنچنے کے بعد ماسکو کی آئل ریفائنری کم از کم چھ ماہ کے لیے بند رہے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287884</guid>
      <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 19:29:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/24090635f7f29a2.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/24090635f7f29a2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
