<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 00:52:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 00:52:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام اسلام آباد ایم او یو کا حصہ نہیں، وزیراعظم شہباز شریف</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287869/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے منگل کے روز کہا ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کا کوئی ذکر نہیں تھا، اور یہ معاملہ مذاکرات کے دوران نہ تو کبھی زیرِ بحث آیا اور نہ ہی ایجنڈے میں شامل تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد میں ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پیزشکیان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بیلسٹک میزائل صلاحیتوں کے معاملے پر کوئی دہرا معیار نہیں ہونا چاہیے، اور ”کچھ ممالک کے پاس بیلسٹک میزائل ہوں اور ایران کے پاس نہ ہوں“ جیسا رویہ قابلِ قبول نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے ایران کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پاکستان پر اعتماد کرتے ہوئے ثالثی کے کردار پر بھروسہ کیا، جس سے معاہدے کی راہ ہموار ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ”میں ایرانی قیادت کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں کہ انہوں نے پاکستان کی نیک نیتی پر اعتماد کیا“ اور ”بھائیوں کی حیثیت سے ہم آپ کو کبھی مایوس نہیں کریں گے“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ ان کی قیادت نے ایران کو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت اور بعد ازاں ”باعزت جنگ بندی“ تک پہنچنے میں مدد دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے حالیہ تنازع میں شہری ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایرانی عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ”ہم اپنے ایرانی بھائیوں اور بہنوں، بشمول بچوں کی شہادت پر دلی تعزیت پیش کرتے ہیں، جن کی تعداد ہزاروں تک پہنچ چکی ہے“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ایران کے مستقبل کے معاشی امکانات پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ قیادت کے تحت ایران دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں شامل ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی موقع پر ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پیزشکیان نے مغربی ایشیا اور خلیج فارس میں ایک نئے علاقائی سکیورٹی ڈھانچے کی ضرورت پر زور دیا، جو مکالمے، باہمی احترام اور تعاون پر مبنی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے اسے کشیدگی کم کرنے اور علاقائی مشاورت میں ”ذمہ دار اور دوراندیش“ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور برادرانہ تعلقات ہیں، اور دونوں ممالک خطے میں امن، ترقی اور اقتصادی روابط کے فروغ کے لیے مل کر کام کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/GovtofPakistan/status/2069408427491905762'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/GovtofPakistan/status/2069408427491905762"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایرانی صدر کا ایئرپورٹ پر شاندار استقبال کیا گیا، جہاں صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ان کا خیرمقدم کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آمد کے موقع پر ایرانی صدر کو 21 توپوں کی سلامی دی گئی، جبکہ روایتی لباس میں ملبوس بچوں نے انہیں پھولوں کے گلدستے پیش کیے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=IafYIJFmZgw'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/IafYIJFmZgw?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھی ایرانی صدر سے ملاقات کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے علاقائی صورتحال اور جاری امن اقدامات پر تبادلہ خیال کیا، آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایرانی صدر سے ملاقات کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف نے حالیہ ہفتے کے اختتام پر سوئٹزرلینڈ میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے براہِ راست مذاکرات میں بھی شرکت کی تھی، جہاں فریقین نے علاقائی امن کے لیے ایک فریم ورک پر تبادلہ خیال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بتایا گیا ہے کہ دونوں رہنما 28 فروری کو امریکا اوراسرائیل حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے تناظر میں خطے میں امن کی کوششوں میں مصروف ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات کے دوران ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پیزشکیان نے پاکستان کے ”تعمیری اور ذمہ دارانہ کردار“ کو سراہا، جس نے مکالمے کے فروغ، کشیدگی میں کمی اور علاقائی استحکام کے لیے کردار ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے پاکستان کی ان ”مسلسل کوششوں“ کا بھی اعتراف کیا جن کے ذریعے خطے میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے دوران تنازعات کے پرامن حل اور فریقین کے درمیان افہام و تفہیم کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز نے پاکستان کے علاقائی امن و استحکام کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق دونوں جانب سے پاکستان اور ایران کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور باہمی دلچسپی کے امور پر قریبی رابطہ برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا، جس کا مقصد خطے میں امن، خوشحالی اور استحکام کو فروغ دینا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل ایرانی صدر کے اعزاز میں پاک فضائیہ کے جے ایف-17 تھنڈر طیاروں کے اسکواڈرن نے بھی روایتی فضائی سلامی پیش کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفتر خارجہ کے مطابق صدر پیزشکیان اپنے دورے میں اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ ہیں، جس میں وزرا اور دیگر اعلیٰ حکام شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دورے کے دوران وہ صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کریں گے اور وزیراعظم سے مذاکرات کریں گے، جبکہ چیئرمین سینیٹ، اسپیکر قومی اسمبلی اور نائب وزیراعظم بھی ایرانی صدر سے ملاقات کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ڈاکٹر پیزشکیان کا بطور ایرانی صدر پاکستان کا دوسرا دورہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا اور تجارت، توانائی، سرحدی سلامتی، عوامی روابط اور علاقائی رابطہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے نئے مواقع تلاش کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دورے کے دوران اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے بعد جاری سفارتی پیش رفت اور علاقائی و عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دورہ پاکستان اور ایران کے تاریخی و ثقافتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے اور خطے میں امن، استحکام اور پائیدار ترقی کے لیے ان کی مشترکہ خواہش کو اجاگر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی بھی صدر پیزشکیان کے وفد کے ہمراہ اسلام آباد پہنچے، جہاں نور خان ایئر بیس پر ان کا استقبال نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم شہباز شریف نے منگل کے روز کہا ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کا کوئی ذکر نہیں تھا، اور یہ معاملہ مذاکرات کے دوران نہ تو کبھی زیرِ بحث آیا اور نہ ہی ایجنڈے میں شامل تھا۔</strong></p>
<p>اسلام آباد میں ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پیزشکیان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بیلسٹک میزائل صلاحیتوں کے معاملے پر کوئی دہرا معیار نہیں ہونا چاہیے، اور ”کچھ ممالک کے پاس بیلسٹک میزائل ہوں اور ایران کے پاس نہ ہوں“ جیسا رویہ قابلِ قبول نہیں۔</p>
<p>وزیراعظم نے ایران کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پاکستان پر اعتماد کرتے ہوئے ثالثی کے کردار پر بھروسہ کیا، جس سے معاہدے کی راہ ہموار ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ”میں ایرانی قیادت کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں کہ انہوں نے پاکستان کی نیک نیتی پر اعتماد کیا“ اور ”بھائیوں کی حیثیت سے ہم آپ کو کبھی مایوس نہیں کریں گے“۔</p>
<p>وزیراعظم نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ ان کی قیادت نے ایران کو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت اور بعد ازاں ”باعزت جنگ بندی“ تک پہنچنے میں مدد دی۔</p>
<p>وزیراعظم نے حالیہ تنازع میں شہری ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایرانی عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ”ہم اپنے ایرانی بھائیوں اور بہنوں، بشمول بچوں کی شہادت پر دلی تعزیت پیش کرتے ہیں، جن کی تعداد ہزاروں تک پہنچ چکی ہے“۔</p>
<p>انہوں نے ایران کے مستقبل کے معاشی امکانات پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ قیادت کے تحت ایران دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں شامل ہو سکتا ہے۔</p>
<p>اسی موقع پر ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پیزشکیان نے مغربی ایشیا اور خلیج فارس میں ایک نئے علاقائی سکیورٹی ڈھانچے کی ضرورت پر زور دیا، جو مکالمے، باہمی احترام اور تعاون پر مبنی ہو۔</p>
<p>انہوں نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے اسے کشیدگی کم کرنے اور علاقائی مشاورت میں ”ذمہ دار اور دوراندیش“ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور برادرانہ تعلقات ہیں، اور دونوں ممالک خطے میں امن، ترقی اور اقتصادی روابط کے فروغ کے لیے مل کر کام کر سکتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/GovtofPakistan/status/2069408427491905762'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/GovtofPakistan/status/2069408427491905762"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ایرانی صدر کا ایئرپورٹ پر شاندار استقبال کیا گیا، جہاں صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ان کا خیرمقدم کیا۔</p>
<p>آمد کے موقع پر ایرانی صدر کو 21 توپوں کی سلامی دی گئی، جبکہ روایتی لباس میں ملبوس بچوں نے انہیں پھولوں کے گلدستے پیش کیے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=IafYIJFmZgw'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/IafYIJFmZgw?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>آئی ایس پی آر کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھی ایرانی صدر سے ملاقات کی۔</p>
<p>ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے علاقائی صورتحال اور جاری امن اقدامات پر تبادلہ خیال کیا، آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا۔</p>
<p>چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایرانی صدر سے ملاقات کی۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف نے حالیہ ہفتے کے اختتام پر سوئٹزرلینڈ میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے براہِ راست مذاکرات میں بھی شرکت کی تھی، جہاں فریقین نے علاقائی امن کے لیے ایک فریم ورک پر تبادلہ خیال کیا۔</p>
<p>بتایا گیا ہے کہ دونوں رہنما 28 فروری کو امریکا اوراسرائیل حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے تناظر میں خطے میں امن کی کوششوں میں مصروف ہیں۔</p>
<p>آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات کے دوران ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پیزشکیان نے پاکستان کے ”تعمیری اور ذمہ دارانہ کردار“ کو سراہا، جس نے مکالمے کے فروغ، کشیدگی میں کمی اور علاقائی استحکام کے لیے کردار ادا کیا۔</p>
<p>انہوں نے پاکستان کی ان ”مسلسل کوششوں“ کا بھی اعتراف کیا جن کے ذریعے خطے میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے دوران تنازعات کے پرامن حل اور فریقین کے درمیان افہام و تفہیم کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی۔</p>
<p>آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز نے پاکستان کے علاقائی امن و استحکام کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔</p>
<p>بیان کے مطابق دونوں جانب سے پاکستان اور ایران کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور باہمی دلچسپی کے امور پر قریبی رابطہ برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا، جس کا مقصد خطے میں امن، خوشحالی اور استحکام کو فروغ دینا ہے۔</p>
<p>اس سے قبل ایرانی صدر کے اعزاز میں پاک فضائیہ کے جے ایف-17 تھنڈر طیاروں کے اسکواڈرن نے بھی روایتی فضائی سلامی پیش کی۔</p>
<p>دفتر خارجہ کے مطابق صدر پیزشکیان اپنے دورے میں اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ ہیں، جس میں وزرا اور دیگر اعلیٰ حکام شامل ہیں۔</p>
<p>دورے کے دوران وہ صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کریں گے اور وزیراعظم سے مذاکرات کریں گے، جبکہ چیئرمین سینیٹ، اسپیکر قومی اسمبلی اور نائب وزیراعظم بھی ایرانی صدر سے ملاقات کریں گے۔</p>
<p>یہ ڈاکٹر پیزشکیان کا بطور ایرانی صدر پاکستان کا دوسرا دورہ ہے۔</p>
<p>دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا اور تجارت، توانائی، سرحدی سلامتی، عوامی روابط اور علاقائی رابطہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے نئے مواقع تلاش کیے جائیں گے۔</p>
<p>دورے کے دوران اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے بعد جاری سفارتی پیش رفت اور علاقائی و عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔</p>
<p>دورہ پاکستان اور ایران کے تاریخی و ثقافتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے اور خطے میں امن، استحکام اور پائیدار ترقی کے لیے ان کی مشترکہ خواہش کو اجاگر کرتا ہے۔</p>
<p>اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی بھی صدر پیزشکیان کے وفد کے ہمراہ اسلام آباد پہنچے، جہاں نور خان ایئر بیس پر ان کا استقبال نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287869</guid>
      <pubDate>Tue, 23 Jun 2026 22:34:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.ytimg.com/vi/Shz-P6qewKI/maxresdefault.jpg" type="image/jpeg" medium="video" height="480" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.ytimg.com/vi/Shz-P6qewKI/mqdefault.jpg"/>
        <media:player url="https://www.youtube.com/watch?v=Shz-P6qewKI"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.ytimg.com/vi/Shz-P6qewKI/maxresdefault.jpg" type="image/jpeg" medium="video" height="480" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.ytimg.com/vi/Shz-P6qewKI/mqdefault.jpg"/>
        <media:player url="https://www.youtube.com/watch?v=Shz-P6qewKI"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
