<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - BR Research</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 00:52:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 00:52:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بڑی صنتوں نے قدم جمالیے؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287853/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بڑی صنعتوں کی پیداوار (لارج اسکیل مینوفیکچرنگ) اب دوبارہ بحالی کی کہانی سے زیادہ ایک معمول کی طرف واپسی کی صورت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپریل 2026 میں بھی مسلسل مضبوط توسیع دیکھی گئی، جس میں بڑی صنعتوں نے سالانہ 6.06 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا۔ 10 ماہ  کے دوران مجموعی ترقی اب 6.44 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جو اس شعبے کو سالانہ ہدف حاصل کرنے کی مضبوط پوزیشن میں رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رفتار اگرچہ جنوری اور مارچ میں دیکھے گئے دوہرے ہندسوں والے اضافے سے کچھ کم ہوئی ہے، لیکن اس میں تسلسل اب زیادہ اہم کہانی بن رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بحالی اب پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ وسیع بنیادوں پر قائم ہے۔ ایل ایس ایم کے 22 ذیلی شعبوں میں سے 16 اب مثبت زون میں ہیں، جبکہ صرف 6 شعبے سکڑاؤ کا شکار ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/230739583c19db3.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/230739583c19db3.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مزید اہم بات یہ ہے کہ کمزور کارکردگی والے شعبوں کا وزن نسبتاً کم ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ توسیع اب صرف ایک یا دو صنعتوں کی کارکردگی پر منحصر نہیں رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ایک وسیع تناظر ضروری ہے۔ بہتری کے باوجود ماہانہ اور مجموعی ایل ایس ایم انڈیکس اب بھی مالی سال 2022 کی بلند ترین سطح سے تقریباً 14 فیصد اور 4 فیصد نیچے ہیں۔ یہ فرق اگرچہ کم ہوا ہے، لیکن یہ یاد دہانی بھی ہے کہ موجودہ بحالی زیادہ تر کھوئی ہوئی صنعتی زمین واپس حاصل کرنے کی کوشش ہے، نہ کہ کسی نئی بلند سطح تک پہنچنے کی۔ مالی سال 2022 اب بھی معیار ہے، اور اس سال اس سطح تک پہنچنے کے امکانات کم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترقی کی ساخت بھی مسلسل تبدیل ہو رہی ہے۔ مجموعی طور پر آٹوموبائلز سب سے بڑا حصہ ڈالنے والا شعبہ ہے، اس کے بعد خوراک اور ملبوسات آتے ہیں۔ اپریل میں ماہانہ بنیاد پر کہانی کی قیادت آٹوموبائلز اور ملبوسات نے کی، جبکہ فرنیچر بھی غیر متوقع طور پر نمایاں شعبوں میں شامل ہو گیا۔ تاہم چونکہ فرنیچر کا مجموعی انڈیکس میں وزن صرف آدھے فیصد کے قریب ہے، اس لیے اس کا حصہ زیادہ تر شماریاتی دلچسپی کا باعث ہے نہ کہ کسی بڑی ساختی تبدیلی کا اشارہ۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/23074001ddf8f54.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/23074001ddf8f54.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;خوراک کا شعبہ بدستور اہم سہارا فراہم کر رہا ہے۔ چینی کی پیداوار کئی برسوں کی بلند ترین سطح کی طرف جا رہی ہے، جو مجموعی صنعتی ترقی میں اس شعبے کے کردار کو مضبوط بناتی ہے۔ اسی دوران سگریٹس کی پیداوار میں بھی نمایاں بحالی دیکھی گئی ہے، جو 36 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اس بہتری کی بڑی وجہ غیر قانونی فروخت میں کمی بتائی جا رہی ہے، جسے حالیہ علاقائی کشیدگی کے دوران سخت پابندیوں نے بھی سہارا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صارفین کی طلب میں بھی ابتدائی طور پر وسعت کے آثار نظر آ رہے ہیں۔ موٹر سائیکل اور سائیکل کی پیداوار بالترتیب 48 ماہ اور 70 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، جبکہ وائٹ گڈز میں بھی خاموش بحالی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ اپریل میں ریفریجریٹرز اور ڈیپ فریزرز کی پیداوار پچھلے چار سال کی اوسط ماہانہ پیداوار کے مقابلے میں تقریباً ایک تہائی زیادہ رہی، جو مقامی طلب میں بہتری کا اشارہ ہے۔ تاہم تعمیراتی شعبے سے منسلک صنعتیں اب بھی مایوس کن کارکردگی دکھا رہی ہیں، اور تعمیراتی مواد میں ابھی تک کسی واضح بہتری کے آثار نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آگے دیکھنے والے اشارے ملا جلا منظر پیش کرتے ہیں۔ کاروباری اعتماد اب بھی کمزور ہے، مہنگائی کی توقعات بلند ہیں، اور پیداواری صلاحیت کا استعمال تقریباً 66 فیصد کے آس پاس ہی موجود رہا ہے، بغیر کسی واضح بہتری کے۔ دوسرے لفظوں میں پیداوار بحال ہو رہی ہے لیکن اعتماد پیچھے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم پالیسی کا ماحول بتدریج زیادہ معاون ہوتا جا رہا ہے۔ صنعتی بجلی کے نرخ گزشتہ ایک سال میں نمایاں طور پر کم ہوئے ہیں، جس سے پاکستان کی صنعتی مسابقت بہتر ہوئی ہے۔ اگر ایران امریکہ تنازعے میں سکون برقرار رہتا ہے تو توانائی کی کم قیمتیں مزید سہارا فراہم کر سکتی ہیں۔ مالیاتی پالیسی بھی ایک اہم موڑ کے قریب دکھائی دیتی ہے۔ اگر تیل کی قیمتیں قابو میں رہیں تو شرح سود کے موجودہ وقفے کے بعد سال کے آخر میں نرمی کا مرحلہ شروع ہو سکتا ہے، جو صنعتی سرگرمیوں کو مزید سہارا دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ ماہ کے ابتدائی اشارے حوصلہ افزا ہیں۔ ملبوسات کی برآمدات نے مئی میں پہلے ہی تقریباً 18 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ شعبہ آگے بھی اہم کردار ادا کرتا رہے گا۔ آٹوموبائل کی فروخت بھی بڑھ رہی ہے، اگرچہ بیس ایفیکٹس مزید سخت ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعتی بحالی ابھی مالی سال 2022 کی سطح تک پہنچنے سے کافی دور ہے، لیکن اب یہ معیار کم اہم ہوتا جا رہا ہے۔ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ موجودہ بہتری پائیدار، شعبہ جاتی طور پر متنوع اور بہتر معاشی بنیادوں کی حمایت سے آگے بڑھ رہی ہے۔ یہی اسے پچھلے برسوں کی عارضی بحالی کے مقابلے میں زیادہ پائیدار بناتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بڑی صنعتوں کی پیداوار (لارج اسکیل مینوفیکچرنگ) اب دوبارہ بحالی کی کہانی سے زیادہ ایک معمول کی طرف واپسی کی صورت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔</strong></p>
<p>اپریل 2026 میں بھی مسلسل مضبوط توسیع دیکھی گئی، جس میں بڑی صنعتوں نے سالانہ 6.06 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا۔ 10 ماہ  کے دوران مجموعی ترقی اب 6.44 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جو اس شعبے کو سالانہ ہدف حاصل کرنے کی مضبوط پوزیشن میں رکھتی ہے۔</p>
<p>رفتار اگرچہ جنوری اور مارچ میں دیکھے گئے دوہرے ہندسوں والے اضافے سے کچھ کم ہوئی ہے، لیکن اس میں تسلسل اب زیادہ اہم کہانی بن رہا ہے۔</p>
<p>بحالی اب پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ وسیع بنیادوں پر قائم ہے۔ ایل ایس ایم کے 22 ذیلی شعبوں میں سے 16 اب مثبت زون میں ہیں، جبکہ صرف 6 شعبے سکڑاؤ کا شکار ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/230739583c19db3.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/230739583c19db3.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>مزید اہم بات یہ ہے کہ کمزور کارکردگی والے شعبوں کا وزن نسبتاً کم ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ توسیع اب صرف ایک یا دو صنعتوں کی کارکردگی پر منحصر نہیں رہی۔</p>
<p>تاہم ایک وسیع تناظر ضروری ہے۔ بہتری کے باوجود ماہانہ اور مجموعی ایل ایس ایم انڈیکس اب بھی مالی سال 2022 کی بلند ترین سطح سے تقریباً 14 فیصد اور 4 فیصد نیچے ہیں۔ یہ فرق اگرچہ کم ہوا ہے، لیکن یہ یاد دہانی بھی ہے کہ موجودہ بحالی زیادہ تر کھوئی ہوئی صنعتی زمین واپس حاصل کرنے کی کوشش ہے، نہ کہ کسی نئی بلند سطح تک پہنچنے کی۔ مالی سال 2022 اب بھی معیار ہے، اور اس سال اس سطح تک پہنچنے کے امکانات کم ہیں۔</p>
<p>ترقی کی ساخت بھی مسلسل تبدیل ہو رہی ہے۔ مجموعی طور پر آٹوموبائلز سب سے بڑا حصہ ڈالنے والا شعبہ ہے، اس کے بعد خوراک اور ملبوسات آتے ہیں۔ اپریل میں ماہانہ بنیاد پر کہانی کی قیادت آٹوموبائلز اور ملبوسات نے کی، جبکہ فرنیچر بھی غیر متوقع طور پر نمایاں شعبوں میں شامل ہو گیا۔ تاہم چونکہ فرنیچر کا مجموعی انڈیکس میں وزن صرف آدھے فیصد کے قریب ہے، اس لیے اس کا حصہ زیادہ تر شماریاتی دلچسپی کا باعث ہے نہ کہ کسی بڑی ساختی تبدیلی کا اشارہ۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/23074001ddf8f54.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/23074001ddf8f54.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>خوراک کا شعبہ بدستور اہم سہارا فراہم کر رہا ہے۔ چینی کی پیداوار کئی برسوں کی بلند ترین سطح کی طرف جا رہی ہے، جو مجموعی صنعتی ترقی میں اس شعبے کے کردار کو مضبوط بناتی ہے۔ اسی دوران سگریٹس کی پیداوار میں بھی نمایاں بحالی دیکھی گئی ہے، جو 36 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اس بہتری کی بڑی وجہ غیر قانونی فروخت میں کمی بتائی جا رہی ہے، جسے حالیہ علاقائی کشیدگی کے دوران سخت پابندیوں نے بھی سہارا دیا۔</p>
<p>صارفین کی طلب میں بھی ابتدائی طور پر وسعت کے آثار نظر آ رہے ہیں۔ موٹر سائیکل اور سائیکل کی پیداوار بالترتیب 48 ماہ اور 70 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، جبکہ وائٹ گڈز میں بھی خاموش بحالی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ اپریل میں ریفریجریٹرز اور ڈیپ فریزرز کی پیداوار پچھلے چار سال کی اوسط ماہانہ پیداوار کے مقابلے میں تقریباً ایک تہائی زیادہ رہی، جو مقامی طلب میں بہتری کا اشارہ ہے۔ تاہم تعمیراتی شعبے سے منسلک صنعتیں اب بھی مایوس کن کارکردگی دکھا رہی ہیں، اور تعمیراتی مواد میں ابھی تک کسی واضح بہتری کے آثار نہیں۔</p>
<p>آگے دیکھنے والے اشارے ملا جلا منظر پیش کرتے ہیں۔ کاروباری اعتماد اب بھی کمزور ہے، مہنگائی کی توقعات بلند ہیں، اور پیداواری صلاحیت کا استعمال تقریباً 66 فیصد کے آس پاس ہی موجود رہا ہے، بغیر کسی واضح بہتری کے۔ دوسرے لفظوں میں پیداوار بحال ہو رہی ہے لیکن اعتماد پیچھے ہے۔</p>
<p>تاہم پالیسی کا ماحول بتدریج زیادہ معاون ہوتا جا رہا ہے۔ صنعتی بجلی کے نرخ گزشتہ ایک سال میں نمایاں طور پر کم ہوئے ہیں، جس سے پاکستان کی صنعتی مسابقت بہتر ہوئی ہے۔ اگر ایران امریکہ تنازعے میں سکون برقرار رہتا ہے تو توانائی کی کم قیمتیں مزید سہارا فراہم کر سکتی ہیں۔ مالیاتی پالیسی بھی ایک اہم موڑ کے قریب دکھائی دیتی ہے۔ اگر تیل کی قیمتیں قابو میں رہیں تو شرح سود کے موجودہ وقفے کے بعد سال کے آخر میں نرمی کا مرحلہ شروع ہو سکتا ہے، جو صنعتی سرگرمیوں کو مزید سہارا دے گا۔</p>
<p>موجودہ ماہ کے ابتدائی اشارے حوصلہ افزا ہیں۔ ملبوسات کی برآمدات نے مئی میں پہلے ہی تقریباً 18 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ شعبہ آگے بھی اہم کردار ادا کرتا رہے گا۔ آٹوموبائل کی فروخت بھی بڑھ رہی ہے، اگرچہ بیس ایفیکٹس مزید سخت ہو رہے ہیں۔</p>
<p>صنعتی بحالی ابھی مالی سال 2022 کی سطح تک پہنچنے سے کافی دور ہے، لیکن اب یہ معیار کم اہم ہوتا جا رہا ہے۔ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ موجودہ بہتری پائیدار، شعبہ جاتی طور پر متنوع اور بہتر معاشی بنیادوں کی حمایت سے آگے بڑھ رہی ہے۔ یہی اسے پچھلے برسوں کی عارضی بحالی کے مقابلے میں زیادہ پائیدار بناتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287853</guid>
      <pubDate>Tue, 23 Jun 2026 12:31:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/231227123807ed5.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/231227123807ed5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
