<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 21 Jun 2026 14:29:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 21 Jun 2026 14:29:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیر خزانہ کا مالی سال 2026-27 کے بجٹ کا بھرپور دفاع</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287766/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اپوزیشن کی جانب سے سرکاری معاشی اعداد و شمار میں تضادات کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی جی ڈی پی کے اعداد و شمار بین الاقوامی معیار کے مطابق تیار کیے جاتے ہیں اور 2026-27 کا وفاقی بجٹ ترقی پر مبنی پالیسی کا عکاس ہے، جس کا مقصد ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا، برآمدات بڑھانا اور پائیدار اقتصادی ترقی کو تیز کرنا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی اسمبلی میں مالی سال 2026-27 کے بجٹ پر بحث سمیٹتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کو پارلیمنٹ اور اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے بجٹ کی مجموعی سمت پر مثبت ردعمل ملا ہے۔ ان کے مطابق یہ بجٹ گزشتہ دو برسوں کی معاشی بہتری کو مزید مستحکم بنانے کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے واضح کیا کہ اقتصادی اشاریوں کی رپورٹنگ کے طریقہ کار میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور جی ڈی پی سمیت تمام پیمائشیں تسلسل کے ساتھ بین الاقوامی معیار کے مطابق کی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق مالی سال 2026 میں حقیقی جی ڈی پی گروتھ 3.7 فیصد رہی جو 2015-16 کے مستقل قیمتوں کے بیس سال کے مطابق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے کہا کہ برائے نام اور حقیقی جی ڈی پی مختلف تصورات ہیں جبکہ فی کس آمدنی کا حساب قومی آمدنی (جی این آئی)، موجودہ قیمتوں اور 2023 کی مردم شماری کے بعد کی آبادیاتی تخمینوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی برائے نام جی ڈی پی مالی سال 2025 کے 408.2 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2026 میں 452.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ حکومت کا ہدف برآمدات پر مبنی، پائیدار اور جامع معاشی ترقی ہے۔ ٹیکس نظام کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ حکومت نے موجودہ ٹیکس دہندگان پر بوجھ بڑھانے کے بجائے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے پر توجہ دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں اصلاحات جاری ہیں، ٹیکس پالیسی اور انتظامیہ کو الگ کیا جا رہا ہے جبکہ ڈیجیٹل نظام کے ذریعے شفافیت بڑھائی جائے گی اور ٹیکس افسران و ٹیکس دہندگان کے درمیان براہِ راست رابطہ کم ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں میں حکومت نے 14 ارب ڈالر کی اضافی آمدن حاصل کی جو 1988 کے بعد ریکارڈ ہے۔ زراعت کے شعبے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کسانوں کے لیے مختلف ریلیف پیکجز اور سبسڈی اقدامات کا ذکر کیا، جن میں زرخیز اسکیم کے تحت 7 لاکھ 50 ہزار چھوٹے کسانوں کو بغیر ضمانت قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ کھاد پر 15.8 ارب روپے کا سبسڈی پیکج دیا گیا ہے جبکہ زرعی مشینری پر درآمدی ڈیوٹی ختم کرنے سے شعبے کی جدید کاری میں مدد ملے گی۔ اس کے علاوہ زرعی کولڈ اسٹوریج اور ویلیو چین منصوبے بھی شروع کیے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف، پنشن اصلاحات، اور ضروری ادویات پر ٹیکس میں کمی کی گئی ہے۔ معاشی اشاریوں پر بات کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ بڑی صنعتوں کی ترقی 6.6 فیصد تک پہنچ گئی ہے، ترسیلات زر 4.25 ارب ڈالر تک ریکارڈ کی گئیں جبکہ آئی ٹی برآمدات میں بھی 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں انہوں نے پاکستان کے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں کردار کو تاریخی پیش رفت قرار دیتے ہوئے پارلیمنٹ اور تمام سیاسی جماعتوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ معاشی استحکام کے لیے قومی اتفاق رائے ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اپوزیشن کی جانب سے سرکاری معاشی اعداد و شمار میں تضادات کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی جی ڈی پی کے اعداد و شمار بین الاقوامی معیار کے مطابق تیار کیے جاتے ہیں اور 2026-27 کا وفاقی بجٹ ترقی پر مبنی پالیسی کا عکاس ہے، جس کا مقصد ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا، برآمدات بڑھانا اور پائیدار اقتصادی ترقی کو تیز کرنا ہے۔</strong></p>
<p>قومی اسمبلی میں مالی سال 2026-27 کے بجٹ پر بحث سمیٹتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کو پارلیمنٹ اور اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے بجٹ کی مجموعی سمت پر مثبت ردعمل ملا ہے۔ ان کے مطابق یہ بجٹ گزشتہ دو برسوں کی معاشی بہتری کو مزید مستحکم بنانے کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے واضح کیا کہ اقتصادی اشاریوں کی رپورٹنگ کے طریقہ کار میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور جی ڈی پی سمیت تمام پیمائشیں تسلسل کے ساتھ بین الاقوامی معیار کے مطابق کی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق مالی سال 2026 میں حقیقی جی ڈی پی گروتھ 3.7 فیصد رہی جو 2015-16 کے مستقل قیمتوں کے بیس سال کے مطابق ہے۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے کہا کہ برائے نام اور حقیقی جی ڈی پی مختلف تصورات ہیں جبکہ فی کس آمدنی کا حساب قومی آمدنی (جی این آئی)، موجودہ قیمتوں اور 2023 کی مردم شماری کے بعد کی آبادیاتی تخمینوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی برائے نام جی ڈی پی مالی سال 2025 کے 408.2 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2026 میں 452.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ حکومت کا ہدف برآمدات پر مبنی، پائیدار اور جامع معاشی ترقی ہے۔ ٹیکس نظام کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ حکومت نے موجودہ ٹیکس دہندگان پر بوجھ بڑھانے کے بجائے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے پر توجہ دی ہے۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں اصلاحات جاری ہیں، ٹیکس پالیسی اور انتظامیہ کو الگ کیا جا رہا ہے جبکہ ڈیجیٹل نظام کے ذریعے شفافیت بڑھائی جائے گی اور ٹیکس افسران و ٹیکس دہندگان کے درمیان براہِ راست رابطہ کم ہوگا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں میں حکومت نے 14 ارب ڈالر کی اضافی آمدن حاصل کی جو 1988 کے بعد ریکارڈ ہے۔ زراعت کے شعبے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کسانوں کے لیے مختلف ریلیف پیکجز اور سبسڈی اقدامات کا ذکر کیا، جن میں زرخیز اسکیم کے تحت 7 لاکھ 50 ہزار چھوٹے کسانوں کو بغیر ضمانت قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ کھاد پر 15.8 ارب روپے کا سبسڈی پیکج دیا گیا ہے جبکہ زرعی مشینری پر درآمدی ڈیوٹی ختم کرنے سے شعبے کی جدید کاری میں مدد ملے گی۔ اس کے علاوہ زرعی کولڈ اسٹوریج اور ویلیو چین منصوبے بھی شروع کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف، پنشن اصلاحات، اور ضروری ادویات پر ٹیکس میں کمی کی گئی ہے۔ معاشی اشاریوں پر بات کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ بڑی صنعتوں کی ترقی 6.6 فیصد تک پہنچ گئی ہے، ترسیلات زر 4.25 ارب ڈالر تک ریکارڈ کی گئیں جبکہ آئی ٹی برآمدات میں بھی 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>آخر میں انہوں نے پاکستان کے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں کردار کو تاریخی پیش رفت قرار دیتے ہوئے پارلیمنٹ اور تمام سیاسی جماعتوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ معاشی استحکام کے لیے قومی اتفاق رائے ضروری ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287766</guid>
      <pubDate>Sun, 21 Jun 2026 10:54:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نوید بٹذوالفقار احمد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/21105122c857bda.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/21105122c857bda.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
