<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 11 Aug 2026 12:45:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 11 Aug 2026 12:45:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران کے مذاکرات کار امریکہ سے معاہدے پر بات چیت کے لیے سوئٹزرلینڈ روانہ، سرکاری میڈیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287762/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سرکاری میڈیا کے مطابق ایک ایرانی مذاکراتی ٹیم ہفتے کے روز ایران سے سوئٹزرلینڈ روانہ ہوئی تاکہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ کے ساتھ طے پانے والے سمجھوتے پر عملدرآمد سے متعلق مذاکرات میں حصہ لے سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا (آئی آر این اے) نے وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے حوالے سے وفد کی روانگی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ معاہدے کے تحت ”وہ معاہدے کے تحت دوسرے فریق کے وعدوں پر عملدرآمد کا تقاضا کریں گے اور پیش رفت کا جائزہ لیں گے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ”دوسرے فریق کو فوری طور پر ضروری اقدامات کرنا ہوں گے، بصورت دیگر یہ پورا سمجھوتہ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران نے زور دیا تھا کہ امریکہ کے ساتھ طے پانے والے معاہدے میں لبنان میں جاری لڑائی کا خاتمہ بھی شامل ہو، جہاں اسرائیل اور ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کے درمیان ہفتے کے روز دوبارہ جھڑپیں ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں ایرانی فوج نے اعلان کیا کہ اسرائیلی حملوں کے ردعمل میں آبنائے ہرمز کو ایک بار پھر بند کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق سوئٹزرلینڈ جانے والے وفد میں اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت دیگر سینئر حکام شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سرکاری میڈیا کے مطابق ایک ایرانی مذاکراتی ٹیم ہفتے کے روز ایران سے سوئٹزرلینڈ روانہ ہوئی تاکہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ کے ساتھ طے پانے والے سمجھوتے پر عملدرآمد سے متعلق مذاکرات میں حصہ لے سکے۔</strong></p>
<p>سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا (آئی آر این اے) نے وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے حوالے سے وفد کی روانگی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ معاہدے کے تحت ”وہ معاہدے کے تحت دوسرے فریق کے وعدوں پر عملدرآمد کا تقاضا کریں گے اور پیش رفت کا جائزہ لیں گے۔“</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ”دوسرے فریق کو فوری طور پر ضروری اقدامات کرنا ہوں گے، بصورت دیگر یہ پورا سمجھوتہ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔“</p>
<p>ایران نے زور دیا تھا کہ امریکہ کے ساتھ طے پانے والے معاہدے میں لبنان میں جاری لڑائی کا خاتمہ بھی شامل ہو، جہاں اسرائیل اور ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کے درمیان ہفتے کے روز دوبارہ جھڑپیں ہوئیں۔</p>
<p>بعد ازاں ایرانی فوج نے اعلان کیا کہ اسرائیلی حملوں کے ردعمل میں آبنائے ہرمز کو ایک بار پھر بند کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق سوئٹزرلینڈ جانے والے وفد میں اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت دیگر سینئر حکام شامل ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287762</guid>
      <pubDate>Sun, 21 Jun 2026 01:39:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/210121404329f2d.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/210121404329f2d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
