<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 20 Jun 2026 15:24:30 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 20 Jun 2026 15:24:30 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ کے ایلچی اور ایرانی وزیر خارجہ مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ روانہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287731/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ روانہ ہورہے ہیں۔ خبر رساں ادارے ایکسیوس کے مطابق لبنان میں جنگ بندی کے بعد ان سفارتی کوششوں کو نئی تقویت ملی ہے جن کا مقصد ایران سے متعلق عارضی معاہدے کو ایک جامع اور پائیدار علاقائی سمجھوتے میں تبدیل کرنا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل اور حزب اللہ نے جمعہ کو لبنان میں جنگ بندی پر اتفاق کرلیا جس سے خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والے ان خدشات میں کمی آئی جو امریکہ اور ایران کے درمیان جاری اہم مذاکرات پر منڈلارہے تھے۔ یہ مذاکرات آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور عالمی تیل کی سپلائی کو مستحم کرنے کے لیے انتہائی اہم تصور کیے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت اس 14 نکاتی  مفاہمتی یادداشتِ کے بعد سامنے آئی جس پر دونوں فریقوں نے رواں ہفتے دستخط کیے تھے۔ معاہدے کا مقصد لڑائی کا خاتمہ اور 60 روزہ سفارتی مہلت فراہم کرنا ہے تاکہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تنازعات سمیت دیگر پیچیدہ اور حساس معاملات کو حل کیا جا سکے، جو ایک جامع، پائیدار اور طویل المدتی معاہدے کی بنیاد رکھنے کے لیے ناگزیر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ایران کے حمایت یافتہ عسکریت پسند گروپ حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان لبنان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے جمعرات کو مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ جانے کا اپنا منصوبہ منسوخ کردیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ بندی کے نافذ ہونے کے بعد ایکسیوس کے مطابق اسٹیو وٹکوف سوئٹزرلینڈ روانہ ہو رہے ہیں تاکہ وہاں موجود صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیریڈ کشنر کے ساتھ مذاکرات میں شریک ہو سکیں۔ مزید برآں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے بارے میں اطلاع ہے کہ وہ بھی ہفتے کے روز سوئٹزرلینڈ کا دورہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت اس بات کا اشارہ ہو سکتی ہے کہ دونوں فریقین ایک مستقل جنگ بندی کو یقینی بنانے کے مقصد سے تکنیکی مذاکرات شروع کرنے کے خواہشمند ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائٹ ہاؤس نے وٹکوف کے اس دورے سے متعلق سوالات کا کوئی جواب نہیں دیا ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک امریکی اعلیٰ عہدیدار نے بتایا کہ لبنان میں فائرنگ کے تبادلے کے بعد شام تقریباً 4 بجے جنگ بندی نافذ ہو گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور قطر کے مذاکرات کاروں نے ایران کی مدد سے اس معاہدے کو حتمی شکل دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حزب اللہ کے دو ذرائع اور ایک اسرائیلی عہدیدار نے رائٹرز کے ساتھ بات کرتے ہوئے اس جنگ بندی کی تصدیق کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی عہدیدار نے کہا کہ اگر حزب اللہ ہم پر حملہ نہیں کرتی تو ہمارے لیے یہ جنگ کا وقت نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل اپنی افواج کو جنوبی لبنان میں برقرار رکھے گا جہاں اس نے اپنی شمالی سرحد کے ساتھ ایک علاقے پر قبضہ کر رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لبنان کے دو سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ اسرائیل نے جنگ بندی کے پہلے گھنٹے میں ایک درجن فضائی حملے کیے لیکن شام 5 بجے کے بعد کوئی حملہ ریکارڈ نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لبنان کی وزارت صحت کے مطابق جمعہ کی نصف شب کے بعد ہونے والے اسرائیلی حملوں میں 47 افراد مارے جاچکے جب کہ 97 زخمی ہوئے، اسرائیلی فوج نے بتایا کہ لبنان میں ایک واقعے میں ان کے چار فوجی مارے گئے تاہم انہوں نے اس کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لبنان میں جاری یہ تنازع مذاکرات پر اثر انداز ہو سکتا ہے کیونکہ وہاں لڑائی کا خاتمہ امریکہ-ایران کے وسیع تر معاہدے کے لیے ایک لازمی شرط ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="" href="#" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/h3&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ روانہ ہورہے ہیں۔ خبر رساں ادارے ایکسیوس کے مطابق لبنان میں جنگ بندی کے بعد ان سفارتی کوششوں کو نئی تقویت ملی ہے جن کا مقصد ایران سے متعلق عارضی معاہدے کو ایک جامع اور پائیدار علاقائی سمجھوتے میں تبدیل کرنا ہے۔</strong></p>
<p>اسرائیل اور حزب اللہ نے جمعہ کو لبنان میں جنگ بندی پر اتفاق کرلیا جس سے خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والے ان خدشات میں کمی آئی جو امریکہ اور ایران کے درمیان جاری اہم مذاکرات پر منڈلارہے تھے۔ یہ مذاکرات آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور عالمی تیل کی سپلائی کو مستحم کرنے کے لیے انتہائی اہم تصور کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p>یہ پیش رفت اس 14 نکاتی  مفاہمتی یادداشتِ کے بعد سامنے آئی جس پر دونوں فریقوں نے رواں ہفتے دستخط کیے تھے۔ معاہدے کا مقصد لڑائی کا خاتمہ اور 60 روزہ سفارتی مہلت فراہم کرنا ہے تاکہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تنازعات سمیت دیگر پیچیدہ اور حساس معاملات کو حل کیا جا سکے، جو ایک جامع، پائیدار اور طویل المدتی معاہدے کی بنیاد رکھنے کے لیے ناگزیر ہیں۔</p>
<p>تاہم ایران کے حمایت یافتہ عسکریت پسند گروپ حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان لبنان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے جمعرات کو مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ جانے کا اپنا منصوبہ منسوخ کردیا تھا۔</p>
<p>جنگ بندی کے نافذ ہونے کے بعد ایکسیوس کے مطابق اسٹیو وٹکوف سوئٹزرلینڈ روانہ ہو رہے ہیں تاکہ وہاں موجود صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیریڈ کشنر کے ساتھ مذاکرات میں شریک ہو سکیں۔ مزید برآں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے بارے میں اطلاع ہے کہ وہ بھی ہفتے کے روز سوئٹزرلینڈ کا دورہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔</p>
<p>یہ پیش رفت اس بات کا اشارہ ہو سکتی ہے کہ دونوں فریقین ایک مستقل جنگ بندی کو یقینی بنانے کے مقصد سے تکنیکی مذاکرات شروع کرنے کے خواہشمند ہیں۔</p>
<p>وائٹ ہاؤس نے وٹکوف کے اس دورے سے متعلق سوالات کا کوئی جواب نہیں دیا ۔</p>
<p>ایک امریکی اعلیٰ عہدیدار نے بتایا کہ لبنان میں فائرنگ کے تبادلے کے بعد شام تقریباً 4 بجے جنگ بندی نافذ ہو گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور قطر کے مذاکرات کاروں نے ایران کی مدد سے اس معاہدے کو حتمی شکل دی ہے۔</p>
<p>حزب اللہ کے دو ذرائع اور ایک اسرائیلی عہدیدار نے رائٹرز کے ساتھ بات کرتے ہوئے اس جنگ بندی کی تصدیق کی ہے۔</p>
<p>اسرائیلی عہدیدار نے کہا کہ اگر حزب اللہ ہم پر حملہ نہیں کرتی تو ہمارے لیے یہ جنگ کا وقت نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل اپنی افواج کو جنوبی لبنان میں برقرار رکھے گا جہاں اس نے اپنی شمالی سرحد کے ساتھ ایک علاقے پر قبضہ کر رکھا ہے۔</p>
<p>لبنان کے دو سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ اسرائیل نے جنگ بندی کے پہلے گھنٹے میں ایک درجن فضائی حملے کیے لیکن شام 5 بجے کے بعد کوئی حملہ ریکارڈ نہیں کیا گیا۔</p>
<p>لبنان کی وزارت صحت کے مطابق جمعہ کی نصف شب کے بعد ہونے والے اسرائیلی حملوں میں 47 افراد مارے جاچکے جب کہ 97 زخمی ہوئے، اسرائیلی فوج نے بتایا کہ لبنان میں ایک واقعے میں ان کے چار فوجی مارے گئے تاہم انہوں نے اس کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔</p>
<p>لبنان میں جاری یہ تنازع مذاکرات پر اثر انداز ہو سکتا ہے کیونکہ وہاں لڑائی کا خاتمہ امریکہ-ایران کے وسیع تر معاہدے کے لیے ایک لازمی شرط ہے۔</p>
<h3><a id="" href="#" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a></h3>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287731</guid>
      <pubDate>Sat, 20 Jun 2026 11:00:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/20105229abbe1ac.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/20105229abbe1ac.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
