<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 19 Jun 2026 22:56:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 19 Jun 2026 22:56:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا ایران مذاکرات کی منسوخی، اسٹاک مارکیٹ میں مندی، کے ایس ای 100 انڈیکس 2,500 پوائنٹس گر گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287698/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) شدید اتار چڑھاؤ کی زد میں رہی، جب یہ خبر سامنے آئی کہ سوئٹزرلینڈ میں جمعہ کو امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ مذاکرات نہیں ہوں گے جس کے باعث 100 انڈیکس تقریباً ڈھائی ہزار پوائنٹس تک گرگیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفصیلات کے مطابق مارکیٹ کا آغاز مثبت زون میں ہوا اور ابتدائی طور پر انڈیکس اوپر کی طرف بڑھتے ہوئے 182,185.87 پوائنٹس کی بلند ترین سطح کو چھو گیا۔ تاہم یہ مثبت رجحان عارضی ثابت ہوا کیونکہ دوپہر سے قبل ہی مارکیٹ میں فروخت کا دباؤ شروع ہو گیا، جس نے انڈیکس کو شدید مندی کی طرف دھکیل کر صبح کے تمام تر فائدے کو ختم کر دیا۔ اس دوران انڈیکس 177,836.16 پوائنٹس کی نچلی سطح تک چلا گیا، جو دن کی بلند ترین اور کم ترین سطح کے درمیان 4,300 سے زائد پوائنٹس کے غیر معمولی اتار چڑھاؤ کو ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دن کی کم ترین سطح کو چھونے کے بعد ٹریڈنگ سیشن کے دوسرے ہاف میں مارکیٹ نے جزوی طور پر بحالی کی کوشش کی لیکن آخری گھنٹے میں دوبارہ شروع ہونے والی فروخت نے اس ریکوری کو محدود کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 2,475.46 پوائنٹس یا 1.36 فیصد کے بھاری خسارے کے ساتھ 178,922.75 کی سطح پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بروکریج ہاؤس  ٹاپ لائن سیکورٹیز نے مارکیٹ کے اختتام پر جاری  اپنی رپورٹ میں بتایا کہ  کاروبار کے ابتدائی گھنٹوں کے دوران کے ایس ای 100 انڈیکس ایک محدود حد میں ٹریڈ کرتا رہا، تاہم سیشن کے دوسرے ہاف میں اس وقت فروخت کا شدید دباؤ دیکھا گیا جب یہ خبر سامنے آئی کہ جنوبی لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لڑائی میں شدت آنے کے بعد امریکہ اور ایران نے سوئٹزرلینڈ میں مستقل امن معاہدے اور ایران کے جوہری پروگرام پر ہونے والے مجوزہ مذاکرات مؤخر کر دیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن کے مطابق انڈیکس کو سب سے زیادہ نقصان پہنچانے والے نمایاں اداروں میں یو بی ایل، ایف ایف سی، اینگرو، پی پی ایل، او جی ڈی سی، لک، ایچ بی ایل  اور سسٹم  شامل رہے، جنہوں نے مجموعی طور پر انڈیکس پر 1,273 پوائنٹس کا بوجھ ڈالا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا وائٹ ہاؤس کے ترجمان کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے سوئٹزرلینڈ میں ایرانی مذاکرات کاروں سے ملاقات کے لیے طے شدہ دورہ منسوخ کر دیا ہے۔ اس ملاقات کا مقصد تہران اور واشنگٹن کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والے 14 نکاتی معاہدے پر عمل درآمد کے حوالے سے پیچیدہ بات چیت کا آغاز کرنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکام نے اس ہفتے کہا تھا کہ وہ جنیوا میں امریکہ ایران معاہدے پر دستخط کی ایک باضابطہ تقریب منعقد کریں گے لیکن ایران کی وزارت خارجہ نے اس پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بدھ کو دونوں ممالک کے صدور کی جانب سے معاہدے پر دستخط کے بعد اب اس کی ضرورت نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کواسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان برقرار رہا۔ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں کمی اور ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کے حوالے سے بڑھتی امیدوں نے سرمایہ کاروں کا اعتماد مضبوط کیا جس کے نتیجے میں اہم شعبوں میں بڑے پیمانے پر خریداری دیکھنے میں آئی۔ بینچ مارک 100 انڈیکس 887.20 پوائنٹس یا 0.49 فیصد اضافے سے 181,398.22 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی سطح پر جمعہ کو جاپان اور جنوبی کوریا کی اسٹاک مارکیٹوں میں ریکارڈ بلندی دیکھی گئی جس کی بنیادی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں امن اور آبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا ہے۔ اس پیش رفت نے تیل کی قیمتوں میں مزید کمی کی جس سے عالمی افراطِ زر (مہنگائی) کے خدشات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی ڈالر میں زبردست تیزی دیکھی گئی اور یہ اپنے اہم حریف کرنسیوں کے مقابلے میں 13 ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گیا ہے۔ اس کی وجہ فیڈرل ریزرو (امریکی مرکزی بینک) کا سخت مانیٹری پالیسی اپنانا ہے جس کے بعد مارکیٹوں میں توقع کی جا رہی ہے کہ اس سال شرح سود میں ایک سے زائد بار اضافہ کیا جائے گا۔ اس صورتحال نے جاپانی ین کو دو سال کی کم ترین سطح پر دھکیل دیا ہے جس سے یہ قیاس آرائیاں شدت اختیار کرگئی کہ جاپانی حکام کو کرنسی کی قدر میں کمی کو روکنے کے لیے جلد ہی مداخلت کرنی پڑسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کے بعد تیل کے ٹینکرز نے وہاں سے گزرنا شروع کر دیا ہے کیونکہ امریکہ نے جمعرات کو ایران پر عائد ناکہ بندی ختم کر دی ہے۔ یہ اقدام تین ماہ تک جاری رہنے والی جنگ کو ختم کرنے کے لیے کیے گئے ایک عبوری معاہدے کے تحت عمل میں آیا ہے۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں جمعہ کو برینٹ کروڈ آئل کے فیوچر معاہدوں میں 1 فیصد کمی واقع ہوئی اور قیمت 79.03 ڈالر فی بیرل تک آ گئی جبکہ مجموعی طور پر اس ہفتے کے دوران تیل کی قیمتوں میں 9.5 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹاک مارکیٹوں کے لیے یہ ہفتہ انتہائی شاندار رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپان کے نکی انڈیکس نے 0.8 فیصد اضافے کے ساتھ مسلسل پانچویں سیشن میں ایک نئی ریکارڈ بلندی کو چھوا جس کے ساتھ اس کی ہفتہ وار کارکردگی 8.5 فیصد تک پہنچ گئی۔ اسی طرح جنوبی کوریا کی اسٹاک مارکیٹ میں 3.1 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا جس کے بعد اس کی ہفتہ وار مجموعی ترقی 15.3 فیصد ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب مین لینڈ چائنا (چین) اور ہانگ کانگ کی اسٹاک مارکیٹیں ڈریگن بوٹ فیسٹیول کی تعطیل کے باعث بند رہیں۔ تائیوان میں بھی آج مارکیٹ بند تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر انٹربینک مارکیٹ میں جمعہ کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں  روپے کی قدر میں معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی 1 پیسے کے معمولی اضافے کے بعد 278.25 روپے پر بند ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آل شیئر انڈیکس پر کاروباری حجم (والیوم) گزشتہ سیشن کے 1 ارب 24 کروڑ 17 لاکھ شیئرز سے کم ہو کر 1 ارب 5 کروڑ شیئرز رہا۔ تاہم شیئرز کی مجموعی کاروباری مالیت گزشتہ سیشن کے 58 ارب ایک کروڑ روپے کے مقابلے میں کم ہو کر 54 ارب 14 کروڑ روپے ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سُوئی سدرن گیس (ایس ایس جی سی) 8 کروڑ 73 لاکھ شیئرز کے ساتھ والیوم لیڈر رہی، جس کے بعد کوہ نور اسپننگ 8 کروڑ 6 لاکھ شیئرز اور ٹی پی ایل کارپوریشن لمیٹڈ 4 کروڑ 70 لاکھ شیئرز کے ساتھ نمایاں رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ کو مجموعی طور پر 497 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا، جن میں سے 141 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ اور 329 کمپنیوں  میں کمی  جبکہ 27 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں مستحکم رہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/06/1919053664cbc43.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/06/1919053664cbc43.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) شدید اتار چڑھاؤ کی زد میں رہی، جب یہ خبر سامنے آئی کہ سوئٹزرلینڈ میں جمعہ کو امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ مذاکرات نہیں ہوں گے جس کے باعث 100 انڈیکس تقریباً ڈھائی ہزار پوائنٹس تک گرگیا۔</strong></p>
<p>تفصیلات کے مطابق مارکیٹ کا آغاز مثبت زون میں ہوا اور ابتدائی طور پر انڈیکس اوپر کی طرف بڑھتے ہوئے 182,185.87 پوائنٹس کی بلند ترین سطح کو چھو گیا۔ تاہم یہ مثبت رجحان عارضی ثابت ہوا کیونکہ دوپہر سے قبل ہی مارکیٹ میں فروخت کا دباؤ شروع ہو گیا، جس نے انڈیکس کو شدید مندی کی طرف دھکیل کر صبح کے تمام تر فائدے کو ختم کر دیا۔ اس دوران انڈیکس 177,836.16 پوائنٹس کی نچلی سطح تک چلا گیا، جو دن کی بلند ترین اور کم ترین سطح کے درمیان 4,300 سے زائد پوائنٹس کے غیر معمولی اتار چڑھاؤ کو ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p>دن کی کم ترین سطح کو چھونے کے بعد ٹریڈنگ سیشن کے دوسرے ہاف میں مارکیٹ نے جزوی طور پر بحالی کی کوشش کی لیکن آخری گھنٹے میں دوبارہ شروع ہونے والی فروخت نے اس ریکوری کو محدود کر دیا۔</p>
<p>کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 2,475.46 پوائنٹس یا 1.36 فیصد کے بھاری خسارے کے ساتھ 178,922.75 کی سطح پر بند ہوا۔</p>
<p>بروکریج ہاؤس  ٹاپ لائن سیکورٹیز نے مارکیٹ کے اختتام پر جاری  اپنی رپورٹ میں بتایا کہ  کاروبار کے ابتدائی گھنٹوں کے دوران کے ایس ای 100 انڈیکس ایک محدود حد میں ٹریڈ کرتا رہا، تاہم سیشن کے دوسرے ہاف میں اس وقت فروخت کا شدید دباؤ دیکھا گیا جب یہ خبر سامنے آئی کہ جنوبی لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لڑائی میں شدت آنے کے بعد امریکہ اور ایران نے سوئٹزرلینڈ میں مستقل امن معاہدے اور ایران کے جوہری پروگرام پر ہونے والے مجوزہ مذاکرات مؤخر کر دیے ہیں۔</p>
<p>ٹاپ لائن کے مطابق انڈیکس کو سب سے زیادہ نقصان پہنچانے والے نمایاں اداروں میں یو بی ایل، ایف ایف سی، اینگرو، پی پی ایل، او جی ڈی سی، لک، ایچ بی ایل  اور سسٹم  شامل رہے، جنہوں نے مجموعی طور پر انڈیکس پر 1,273 پوائنٹس کا بوجھ ڈالا۔</p>
<p>دریں اثنا وائٹ ہاؤس کے ترجمان کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے سوئٹزرلینڈ میں ایرانی مذاکرات کاروں سے ملاقات کے لیے طے شدہ دورہ منسوخ کر دیا ہے۔ اس ملاقات کا مقصد تہران اور واشنگٹن کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والے 14 نکاتی معاہدے پر عمل درآمد کے حوالے سے پیچیدہ بات چیت کا آغاز کرنا تھا۔</p>
<p>امریکی حکام نے اس ہفتے کہا تھا کہ وہ جنیوا میں امریکہ ایران معاہدے پر دستخط کی ایک باضابطہ تقریب منعقد کریں گے لیکن ایران کی وزارت خارجہ نے اس پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بدھ کو دونوں ممالک کے صدور کی جانب سے معاہدے پر دستخط کے بعد اب اس کی ضرورت نہیں ہے۔</p>
<p>جمعرات کواسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان برقرار رہا۔ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں کمی اور ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کے حوالے سے بڑھتی امیدوں نے سرمایہ کاروں کا اعتماد مضبوط کیا جس کے نتیجے میں اہم شعبوں میں بڑے پیمانے پر خریداری دیکھنے میں آئی۔ بینچ مارک 100 انڈیکس 887.20 پوائنٹس یا 0.49 فیصد اضافے سے 181,398.22 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>بین الاقوامی سطح پر جمعہ کو جاپان اور جنوبی کوریا کی اسٹاک مارکیٹوں میں ریکارڈ بلندی دیکھی گئی جس کی بنیادی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں امن اور آبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا ہے۔ اس پیش رفت نے تیل کی قیمتوں میں مزید کمی کی جس سے عالمی افراطِ زر (مہنگائی) کے خدشات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔</p>
<p>امریکی ڈالر میں زبردست تیزی دیکھی گئی اور یہ اپنے اہم حریف کرنسیوں کے مقابلے میں 13 ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گیا ہے۔ اس کی وجہ فیڈرل ریزرو (امریکی مرکزی بینک) کا سخت مانیٹری پالیسی اپنانا ہے جس کے بعد مارکیٹوں میں توقع کی جا رہی ہے کہ اس سال شرح سود میں ایک سے زائد بار اضافہ کیا جائے گا۔ اس صورتحال نے جاپانی ین کو دو سال کی کم ترین سطح پر دھکیل دیا ہے جس سے یہ قیاس آرائیاں شدت اختیار کرگئی کہ جاپانی حکام کو کرنسی کی قدر میں کمی کو روکنے کے لیے جلد ہی مداخلت کرنی پڑسکتی ہے۔</p>
<p>آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کے بعد تیل کے ٹینکرز نے وہاں سے گزرنا شروع کر دیا ہے کیونکہ امریکہ نے جمعرات کو ایران پر عائد ناکہ بندی ختم کر دی ہے۔ یہ اقدام تین ماہ تک جاری رہنے والی جنگ کو ختم کرنے کے لیے کیے گئے ایک عبوری معاہدے کے تحت عمل میں آیا ہے۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں جمعہ کو برینٹ کروڈ آئل کے فیوچر معاہدوں میں 1 فیصد کمی واقع ہوئی اور قیمت 79.03 ڈالر فی بیرل تک آ گئی جبکہ مجموعی طور پر اس ہفتے کے دوران تیل کی قیمتوں میں 9.5 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>اسٹاک مارکیٹوں کے لیے یہ ہفتہ انتہائی شاندار رہا ہے۔</p>
<p>جاپان کے نکی انڈیکس نے 0.8 فیصد اضافے کے ساتھ مسلسل پانچویں سیشن میں ایک نئی ریکارڈ بلندی کو چھوا جس کے ساتھ اس کی ہفتہ وار کارکردگی 8.5 فیصد تک پہنچ گئی۔ اسی طرح جنوبی کوریا کی اسٹاک مارکیٹ میں 3.1 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا جس کے بعد اس کی ہفتہ وار مجموعی ترقی 15.3 فیصد ہو گئی۔</p>
<p>دوسری جانب مین لینڈ چائنا (چین) اور ہانگ کانگ کی اسٹاک مارکیٹیں ڈریگن بوٹ فیسٹیول کی تعطیل کے باعث بند رہیں۔ تائیوان میں بھی آج مارکیٹ بند تھی۔</p>
<p>ادھر انٹربینک مارکیٹ میں جمعہ کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں  روپے کی قدر میں معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی 1 پیسے کے معمولی اضافے کے بعد 278.25 روپے پر بند ہوئی۔</p>
<p>آل شیئر انڈیکس پر کاروباری حجم (والیوم) گزشتہ سیشن کے 1 ارب 24 کروڑ 17 لاکھ شیئرز سے کم ہو کر 1 ارب 5 کروڑ شیئرز رہا۔ تاہم شیئرز کی مجموعی کاروباری مالیت گزشتہ سیشن کے 58 ارب ایک کروڑ روپے کے مقابلے میں کم ہو کر 54 ارب 14 کروڑ روپے ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>سُوئی سدرن گیس (ایس ایس جی سی) 8 کروڑ 73 لاکھ شیئرز کے ساتھ والیوم لیڈر رہی، جس کے بعد کوہ نور اسپننگ 8 کروڑ 6 لاکھ شیئرز اور ٹی پی ایل کارپوریشن لمیٹڈ 4 کروڑ 70 لاکھ شیئرز کے ساتھ نمایاں رہیں۔</p>
<p>جمعہ کو مجموعی طور پر 497 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا، جن میں سے 141 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ اور 329 کمپنیوں  میں کمی  جبکہ 27 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں مستحکم رہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/06/1919053664cbc43.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/06/1919053664cbc43.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287698</guid>
      <pubDate>Fri, 19 Jun 2026 20:00:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/19110041937d8e9.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/19110041937d8e9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
