<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 19 Jun 2026 01:43:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 19 Jun 2026 01:43:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وینس نے ایران ڈیل پر اسرائیل کو آڑے ہاتھوں لے لیا، نیویارک ٹائمز کو انٹرویو</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287686/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے جمعرات کو جاری ہونے والے ایک انٹرویو میں امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر اسرائیل کو ”غیر معمولی گھبراہٹ“ اور ”شدید ردعمل“ کا نشانہ بناتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا ہے، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ معاہدے پر تنقید کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے بعض اتحادیوں سمیت اسرائیلی سیاسی و عسکری حلقوں نے معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں ایران کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام سے متعلق ان کے خدشات کو شامل نہیں کیا گیا، اور یہ لبنان میں ملیشیا کے خلاف اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وینس نے نیویارک ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ”اسرائیلی نظام میں ایک عجیب سی گھبراہٹ ہے جس کا میں نے مشاہدہ کیا ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ ایران کے حق میں ہونے والا ہر اقدام بغیر کسی رویے کی تبدیلی کے ہوگا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;”یہ معاہدہ اس طرح نہیں لکھا گیا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اگر ایران کسی دہشت گرد تنظیم کی مالی معاونت جاری رکھے گا تو امریکا اس پر عائد پابندیاں ختم نہیں کرے گا، جس سے ان کی مراد مبینہ طور پر حزب اللہ تھی، جسے واشنگٹن طویل عرصے سے غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وینس نے اسرائیل پر اپنے سب سے قریبی اتحادی پر اعتماد نہ کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ”مجھے اسرائیل میں یہ سارا شدید ردعمل کچھ عجیب لگتا ہے کیونکہ یہ عدم اعتماد سے جنم لیتا ہے، اور میرا خیال ہے کہ امریکا نے اس خطے کا اعتماد حاصل کیا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ”ہم نے اس مخصوص ملک اور حکومت کے ساتھ بہت اچھا کام کیا ہے، اور یہ خیال کہ ہم نے ایک برا معاہدہ کیا ہے، حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا اور وسیع تر تعلقات کو دیکھتے ہوئے اس کا کوئی جواز نہیں بنتا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس میں جی سیون سربراہی اجلاس کے اختتامی کلمات کے دوران اسرائیلی خدشات کو کم کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ لبنان میں حزب اللہ کے خلاف جنگ میں وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو کو ”نرم رویہ“ اختیار کرنا چاہیے، جو ایران کے خلاف جنگ میں امریکی شراکت دار پر ان کی تازہ عوامی تنقید تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ اور ایرانی قیادت نے اس ہفتے ایک مفاہمتی یادداشت کی منظوری دی ہے جس میں اہم ترین امور کو اگلے مرحلے کے مذاکرات تک موخر کر دیا گیا ہے، اور ان کے حتمی حل کی کوئی ضمانت موجود نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاہدے کے ناقدین میں شامل اسرائیلی کابینہ کے دائیں بازو کے وزرا ایتامار بن گویر اور بیزالیل اسموتریچ کا حوالہ دیتے ہوئے وینس نے کہا: “میرا ان سے سوال یہ ہوگا کہ آپ کا متبادل منصوبہ کیا ہے؟ آپ نو ملین آبادی کا ملک ہیں، آپ ہر قومی سلامتی مسئلے کو صرف طاقت کے زور پر حل نہیں کر سکتے۔”&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے جمعرات کو جاری ہونے والے ایک انٹرویو میں امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر اسرائیل کو ”غیر معمولی گھبراہٹ“ اور ”شدید ردعمل“ کا نشانہ بناتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا ہے، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ معاہدے پر تنقید کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔</strong></p>
<p>وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے بعض اتحادیوں سمیت اسرائیلی سیاسی و عسکری حلقوں نے معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں ایران کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام سے متعلق ان کے خدشات کو شامل نہیں کیا گیا، اور یہ لبنان میں ملیشیا کے خلاف اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔</p>
<p>وینس نے نیویارک ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ”اسرائیلی نظام میں ایک عجیب سی گھبراہٹ ہے جس کا میں نے مشاہدہ کیا ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ ایران کے حق میں ہونے والا ہر اقدام بغیر کسی رویے کی تبدیلی کے ہوگا۔“</p>
<p>”یہ معاہدہ اس طرح نہیں لکھا گیا۔“</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اگر ایران کسی دہشت گرد تنظیم کی مالی معاونت جاری رکھے گا تو امریکا اس پر عائد پابندیاں ختم نہیں کرے گا، جس سے ان کی مراد مبینہ طور پر حزب اللہ تھی، جسے واشنگٹن طویل عرصے سے غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے۔</p>
<p>وینس نے اسرائیل پر اپنے سب سے قریبی اتحادی پر اعتماد نہ کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ”مجھے اسرائیل میں یہ سارا شدید ردعمل کچھ عجیب لگتا ہے کیونکہ یہ عدم اعتماد سے جنم لیتا ہے، اور میرا خیال ہے کہ امریکا نے اس خطے کا اعتماد حاصل کیا ہے۔“</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ”ہم نے اس مخصوص ملک اور حکومت کے ساتھ بہت اچھا کام کیا ہے، اور یہ خیال کہ ہم نے ایک برا معاہدہ کیا ہے، حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا اور وسیع تر تعلقات کو دیکھتے ہوئے اس کا کوئی جواز نہیں بنتا۔“</p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس میں جی سیون سربراہی اجلاس کے اختتامی کلمات کے دوران اسرائیلی خدشات کو کم کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ لبنان میں حزب اللہ کے خلاف جنگ میں وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو کو ”نرم رویہ“ اختیار کرنا چاہیے، جو ایران کے خلاف جنگ میں امریکی شراکت دار پر ان کی تازہ عوامی تنقید تھی۔</p>
<p>ٹرمپ اور ایرانی قیادت نے اس ہفتے ایک مفاہمتی یادداشت کی منظوری دی ہے جس میں اہم ترین امور کو اگلے مرحلے کے مذاکرات تک موخر کر دیا گیا ہے، اور ان کے حتمی حل کی کوئی ضمانت موجود نہیں۔</p>
<p>معاہدے کے ناقدین میں شامل اسرائیلی کابینہ کے دائیں بازو کے وزرا ایتامار بن گویر اور بیزالیل اسموتریچ کا حوالہ دیتے ہوئے وینس نے کہا: “میرا ان سے سوال یہ ہوگا کہ آپ کا متبادل منصوبہ کیا ہے؟ آپ نو ملین آبادی کا ملک ہیں، آپ ہر قومی سلامتی مسئلے کو صرف طاقت کے زور پر حل نہیں کر سکتے۔”</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287686</guid>
      <pubDate>Thu, 18 Jun 2026 23:13:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/18230424c0fccf7.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/18230424c0fccf7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
