<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 18 Jun 2026 23:14:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 18 Jun 2026 23:14:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی امریکا ایران معاہدے پر عملدرآمد کے عملی اقدامات طے کرنے میں مدد کے لیے تیار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287680/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے جمعرات کے روز کہا ہے کہ وہ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے پر عملدرآمد کے لیے درکار ”ٹھوس اقدامات“ کی وضاحت کا عمل شروع کرنے کے لیے تیار ہے، جس کا مقصد مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کا خاتمہ ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بدھ کے روز ایک معاہدے پر دستخط کیے جس کا مقصد مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کا خاتمہ ہے، جس کے تحت تہران نے اپنی افزودہ یورینیم کی سطح کم کرنے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ اس کے بدلے میں اسے بڑے پیمانے پر معاشی ریلیف فراہم کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی اے ای اے کے سربراہ رافائل گروسی نے جنیوا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”اب وقت ہے کہ ہم اپنے امریکی اور ایرانی ہم منصبوں کے ساتھ بیٹھیں اور ان ٹھوس اقدامات کی تشکیل شروع کریں جو لازماً اٹھائے جائیں گے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس معاہدے کا مقصد اُس جنگ کے خاتمے کی کوشش ہے جو 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے شروع کی تھی، جس کے جواب میں ایران نے خطے بھر میں میزائل اور ڈرون حملے کیے، اور اس کے نتیجے میں عالمی معیشت کے لیے اہم سمجھی جانے والی آبنائے ہرمز عملی طور پر بند ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے جواب میں واشنگٹن نے ایرانی بندرگاہوں سے آنے اور جانے والی شپنگ پر پابندی عائد کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکام کی جانب سے جاری کردہ معاہدے کی تفصیلات کے مطابق ایران اپنے افزودہ یورینیم کے ذخائر کو کم کرے گا، ممکنہ طور پر “اقوامِ متحدہ کے جوہری نگران ادارے (آئی اے ای اے) کی نگرانی میں اسی مقام پر افزودگی کی سطح کم کرنے” کے ذریعے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی اے ای اے کے سربراہ رافائل گروسی نے کہا کہ یہ ایک نہایت پیچیدہ عمل ہے اور اس میں انتہائی تفصیلی تکنیکی کام درکار ہوگا۔ ان کے مطابق اس کا نتیجہ دونوں فریقوں کے سیاسی عزم پر منحصر ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ”جب دونوں فریق کسی چیز کو انجام دینا چاہیں تو کوئی بھی عمل ممکن بنایا جا سکتا ہے“، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اب ذمہ داری اس ادارے پر عائد ہوتی ہے کہ وہ فریقین کو بتائے کہ اس کے لیے کیا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;”غیر جانب دار“ کردار&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی اے ای اے کے اندازوں کے مطابق اسرائیل اور امریکا کی جانب سے گزشتہ سال جون میں حملوں کے آغاز کے وقت ایران کے پاس تقریباً 440 کلوگرام یورینیم موجود تھا جو 60 فیصد تک افزودہ تھا،جو جوہری ہتھیار بنانے کی حد کے قریب سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد ایران نے آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون معطل کر دیا تھا اور معائنہ کاروں کو اس مواد تک رسائی نہیں دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوامِ متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے بورڈ نے گزشتہ ہفتے ایک مغربی قرارداد منظور کی تھی جس میں ایران سے فوری طور پر اپنے یورینیم کے ذخائر اور پیداواری تنصیبات سے متعلق معلومات اور رسائی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران نے اس قرارداد کو مذاکرات کے دوران ”غیر تعمیری“ اور ”سیاسی طور پر متاثر“ قرار دیتے ہوئے مسترد کیا، تاہم رافائل گروسی نے ان الزامات کو سختی سے رد کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ آئی اے ای اے کا کام ”غیر جانب دار اور تکنیکی نوعیت کا ہے“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق اس معاہدے میں ادارے کے مرکزی کردار کو تسلیم کیا گیا ہے، جو ان کی ساکھ اور اہمیت کا واضح اعتراف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاہدہ ایک عارضی انتظام ہے جس کا مقصد طویل المدتی مذاکرات کے لیے وقت حاصل کرنا ہے، خاص طور پر ایران کے جوہری پروگرام پر مستقل کنٹرول کے حوالے سے، جس کے بارے میں امریکا کو طویل عرصے سے شبہ ہے کہ اس کے پیچھے خفیہ عسکری مقاصد ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رافائل گروسی نے کہا کہ ”یہ اچھی بات ہے کہ یادداشتِ معاہدہ موجود ہے، اب اصل تکنیکی کام شروع ہوگا۔“&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے جمعرات کے روز کہا ہے کہ وہ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے پر عملدرآمد کے لیے درکار ”ٹھوس اقدامات“ کی وضاحت کا عمل شروع کرنے کے لیے تیار ہے، جس کا مقصد مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کا خاتمہ ہے۔</strong></p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بدھ کے روز ایک معاہدے پر دستخط کیے جس کا مقصد مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کا خاتمہ ہے، جس کے تحت تہران نے اپنی افزودہ یورینیم کی سطح کم کرنے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ اس کے بدلے میں اسے بڑے پیمانے پر معاشی ریلیف فراہم کیا جائے گا۔</p>
<p>آئی اے ای اے کے سربراہ رافائل گروسی نے جنیوا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”اب وقت ہے کہ ہم اپنے امریکی اور ایرانی ہم منصبوں کے ساتھ بیٹھیں اور ان ٹھوس اقدامات کی تشکیل شروع کریں جو لازماً اٹھائے جائیں گے۔“</p>
<p>اس معاہدے کا مقصد اُس جنگ کے خاتمے کی کوشش ہے جو 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے شروع کی تھی، جس کے جواب میں ایران نے خطے بھر میں میزائل اور ڈرون حملے کیے، اور اس کے نتیجے میں عالمی معیشت کے لیے اہم سمجھی جانے والی آبنائے ہرمز عملی طور پر بند ہوگئی۔</p>
<p>اس کے جواب میں واشنگٹن نے ایرانی بندرگاہوں سے آنے اور جانے والی شپنگ پر پابندی عائد کر دی۔</p>
<p>امریکی حکام کی جانب سے جاری کردہ معاہدے کی تفصیلات کے مطابق ایران اپنے افزودہ یورینیم کے ذخائر کو کم کرے گا، ممکنہ طور پر “اقوامِ متحدہ کے جوہری نگران ادارے (آئی اے ای اے) کی نگرانی میں اسی مقام پر افزودگی کی سطح کم کرنے” کے ذریعے۔</p>
<p>آئی اے ای اے کے سربراہ رافائل گروسی نے کہا کہ یہ ایک نہایت پیچیدہ عمل ہے اور اس میں انتہائی تفصیلی تکنیکی کام درکار ہوگا۔ ان کے مطابق اس کا نتیجہ دونوں فریقوں کے سیاسی عزم پر منحصر ہوگا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ”جب دونوں فریق کسی چیز کو انجام دینا چاہیں تو کوئی بھی عمل ممکن بنایا جا سکتا ہے“، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اب ذمہ داری اس ادارے پر عائد ہوتی ہے کہ وہ فریقین کو بتائے کہ اس کے لیے کیا ضروری ہے۔</p>
<p><strong>”غیر جانب دار“ کردار</strong></p>
<p>آئی اے ای اے کے اندازوں کے مطابق اسرائیل اور امریکا کی جانب سے گزشتہ سال جون میں حملوں کے آغاز کے وقت ایران کے پاس تقریباً 440 کلوگرام یورینیم موجود تھا جو 60 فیصد تک افزودہ تھا،جو جوہری ہتھیار بنانے کی حد کے قریب سمجھا جاتا ہے۔</p>
<p>اس کے بعد ایران نے آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون معطل کر دیا تھا اور معائنہ کاروں کو اس مواد تک رسائی نہیں دی گئی۔</p>
<p>اقوامِ متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے بورڈ نے گزشتہ ہفتے ایک مغربی قرارداد منظور کی تھی جس میں ایران سے فوری طور پر اپنے یورینیم کے ذخائر اور پیداواری تنصیبات سے متعلق معلومات اور رسائی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔</p>
<p>ایران نے اس قرارداد کو مذاکرات کے دوران ”غیر تعمیری“ اور ”سیاسی طور پر متاثر“ قرار دیتے ہوئے مسترد کیا، تاہم رافائل گروسی نے ان الزامات کو سختی سے رد کیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ آئی اے ای اے کا کام ”غیر جانب دار اور تکنیکی نوعیت کا ہے“۔</p>
<p>ان کے مطابق اس معاہدے میں ادارے کے مرکزی کردار کو تسلیم کیا گیا ہے، جو ان کی ساکھ اور اہمیت کا واضح اعتراف ہے۔</p>
<p>یہ معاہدہ ایک عارضی انتظام ہے جس کا مقصد طویل المدتی مذاکرات کے لیے وقت حاصل کرنا ہے، خاص طور پر ایران کے جوہری پروگرام پر مستقل کنٹرول کے حوالے سے، جس کے بارے میں امریکا کو طویل عرصے سے شبہ ہے کہ اس کے پیچھے خفیہ عسکری مقاصد ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>رافائل گروسی نے کہا کہ ”یہ اچھی بات ہے کہ یادداشتِ معاہدہ موجود ہے، اب اصل تکنیکی کام شروع ہوگا۔“</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287680</guid>
      <pubDate>Thu, 18 Jun 2026 19:28:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/18191448c2c0b93.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/18191448c2c0b93.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
