<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 18 Jun 2026 23:16:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 18 Jun 2026 23:16:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ نے ایران معاہدے کا دفاع کرتے ہوئے ناقدین کو ’احمق‘ قرار دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287678/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کے روز ایران کے ساتھ اپنے معاہدے پر تنقید کرنے والوں پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے انہیں ”احمق“ قرار دیا، جو ان کے بقول جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کو رعایتیں دینے کے الزامات عائد کر رہے تھے۔ یہ بیان سوئٹزرلینڈ میں معاہدے پر عملدرآمد سے متعلق مذاکرات سے قبل سامنے آیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ اور ان کے ایرانی ہم منصب نے الگ الگ طور پر مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے لیے اپنے معاہدے پر دستخط کیے، جس کے بعد تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جائے گا، تاہم اس پر عملدرآمد کے لیے آئندہ دو ماہ تک مذاکرات جاری رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک غیر متوقع پیش رفت میں، اور اس وقت جب اس ہفتے کے اوائل میں طے پانے والے معاہدے کے باضابطہ دستخط کے وقت کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال موجود تھی، ٹرمپ نے بدھ کے روز پیرس کے باہر واقع ورسائی محل میں موم بتیوں کی روشنی میں ہونے والی عشائیہ تقریب میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے ساتھ بیٹھ کر اس معاہدے پر اپنے دستخط ثبت کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرانسیسی صدر &lt;strong&gt;ایمانوئل میکرون&lt;/strong&gt; نے دستخطی تقریب کے دوران “براوو” کا نعرہ لگایا، جب ڈونلڈ ٹرمپ نے معاہدے پر دستخط کیے۔ یہ تقریب اس محل میں منعقد ہوئی جو پہلی جنگِ عظیم کے خاتمے کے معاہدے کی دستخطی تقریب کی میزبانی بھی کر چکا ہے، اور میکرون کے لیے یہ ایک بڑی سفارتی کامیابی سمجھی جا رہی ہے، خاص طور پر جی-7 سربراہی اجلاس کی میزبانی کے بعد۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر دستخط کے چند گھنٹے بعد لکھا کہ “یہ احمق، جو سمجھتے ہیں کہ میں ایران کے معاملے میں کافی سخت نہیں تھا، جب اسٹاک مارکیٹ ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی اور تیل کی قیمتیں گر رہی ہیں، یا تو حسد کرنے والے ہیں، برے لوگ ہیں یا بے وقوف ہیں۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے صدر &lt;strong&gt;مسعود پزشکیان&lt;/strong&gt; نے بھی اس معاہدے پر دستخط کیے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ “اب معاہدے پر عملدرآمد کا مرحلہ شروع کرنے کا وقت ہے۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خام تیل کی قیمتوں میں جمعرات کو تین فیصد سے زائد کمی ہوئی، جو معاہدے کی خبر آنے کے بعد پہلے سے جاری گراوٹ کا تسلسل تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;”امن کی راہ ہموار کرنا“&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاہدہ موجودہ امریکا-اسرائیل اور ایران تنازع کے خاتمے کا باعث بننے کی توقع ہے، جس میں پانچ ہفتوں تک مکمل جنگ جاری رہی اور جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز میں شپنگ بری طرح متاثر ہوئی اور توانائی کی قیمتیں بڑھ گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف، جنہوں نے اس معاہدے میں ثالثی کا کردار ادا کیا، نے کہا کہ یہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا اور ایران ”فوراً آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دے گا“۔ انہوں نے بھی اس معاہدے پر دستخط کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب دو ماہ کے مذاکراتی مرحلے کا آغاز ہو گیا ہے، جس میں توجہ آبنائے ہرمز کی بحالی اور ایران کے جوہری پروگرام پر پیش رفت پر مرکوز رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میکرون نے اس معاہدے کو “امن کو ممکن بنانے والا فیصلہ” قرار دیا، جس کے تحت آبنائے ہرمز کو بغیر ٹول کے دوبارہ کھولا جائے گا اور جوہری، بیلسٹک اور علاقائی معاملات پر 60 دن میں حتمی معاہدہ کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اگلے اقدامات کے حوالے سے اب بھی ابہام موجود ہے، کیونکہ ابتدا میں یہ دستخطی تقریب جمعہ کو سوئٹزرلینڈ کے ایک پہاڑی ریزورٹ میں ہونا تھی، جس میں امریکی نائب صدر اور ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار شرکت کرتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ اب ذاتی دستخطی تقریب کی ضرورت نہیں رہی، تاہم پاکستان کے وزیرِاعظم نے کہا کہ جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں باقاعدہ تقریب ہوگی اور تکنیکی مذاکرات شروع ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاہدے کے تحت امریکا فوری طور پر ایران پر عائد تیل کی پابندیاں نرم کرے گا، جبکہ حتمی جوہری معاہدے کے بعد 300 ارب ڈالر کے تعمیر نو فنڈ کی فراہمی میں بھی سہولت دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوامِ متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے سربراہ رافائل گروسی نے جنیوا میں کہا کہ ادارہ اس معاہدے پر عملدرآمد کے لیے ”عملی اقدامات“ طے کرنے کے لیے تیار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکام کے مطابق ایران اپنے افزودہ یورینیم کے ذخائر کو کم کرے گا، جو اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں ”کم افزودہ سطح پر لانے“ کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کا اس معاہدے میں کوئی ذکر نہیں کیا گیا، حالانکہ اسرائیل طویل عرصے سے اس کے خاتمے کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی ترجمان نے کہا کہ میزائل صرف دفاعی مقصد کے لیے ہیں اور ان پر کسی قسم کی بات چیت نہیں ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;”خارجہ پالیسی کی بڑی غلطی“&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران میں سخت گیر حلقوں نے اس معاہدے پر تنقید کی ہے، جبکہ ایران نے اس جنگ کو “مسلط کردہ جنگ” قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اور دیگر علاقائی کرداروں کی ثالثی کے باوجود امریکی سینیٹر بل کیسڈی نے اسے ”حالیہ دہائیوں کی بدترین خارجہ پالیسی غلطی“ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ایران کے جوہری عزائم محدود نہیں ہوئے اور اسے آبنائے ہرمز کے ذریعے دباؤ ڈالنے کا فائدہ ملا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فاکس نیوز سمیت بعض امریکی میڈیا اداروں نے بھی خدشات ظاہر کیے کہ معاہدے سے ایران کو بڑے مالی فوائد ملیں گے جبکہ اس کے جوہری پروگرام پر سخت پابندیاں شامل نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لبنان کے محاذ پر بھی صورتحال غیر واضح ہے، جہاں حزب اللہ کی کارروائیوں کے بعد اسرائیلی حملوں میں شدت آئی تھی، تاہم معاہدے کے اعلان کے بعد تشدد میں کمی دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کے روز ایران کے ساتھ اپنے معاہدے پر تنقید کرنے والوں پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے انہیں ”احمق“ قرار دیا، جو ان کے بقول جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کو رعایتیں دینے کے الزامات عائد کر رہے تھے۔ یہ بیان سوئٹزرلینڈ میں معاہدے پر عملدرآمد سے متعلق مذاکرات سے قبل سامنے آیا ہے۔</strong></p>
<p>ٹرمپ اور ان کے ایرانی ہم منصب نے الگ الگ طور پر مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے لیے اپنے معاہدے پر دستخط کیے، جس کے بعد تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جائے گا، تاہم اس پر عملدرآمد کے لیے آئندہ دو ماہ تک مذاکرات جاری رہیں گے۔</p>
<p>ایک غیر متوقع پیش رفت میں، اور اس وقت جب اس ہفتے کے اوائل میں طے پانے والے معاہدے کے باضابطہ دستخط کے وقت کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال موجود تھی، ٹرمپ نے بدھ کے روز پیرس کے باہر واقع ورسائی محل میں موم بتیوں کی روشنی میں ہونے والی عشائیہ تقریب میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے ساتھ بیٹھ کر اس معاہدے پر اپنے دستخط ثبت کیے۔</p>
<p>فرانسیسی صدر <strong>ایمانوئل میکرون</strong> نے دستخطی تقریب کے دوران “براوو” کا نعرہ لگایا، جب ڈونلڈ ٹرمپ نے معاہدے پر دستخط کیے۔ یہ تقریب اس محل میں منعقد ہوئی جو پہلی جنگِ عظیم کے خاتمے کے معاہدے کی دستخطی تقریب کی میزبانی بھی کر چکا ہے، اور میکرون کے لیے یہ ایک بڑی سفارتی کامیابی سمجھی جا رہی ہے، خاص طور پر جی-7 سربراہی اجلاس کی میزبانی کے بعد۔</p>
<p>ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر دستخط کے چند گھنٹے بعد لکھا کہ “یہ احمق، جو سمجھتے ہیں کہ میں ایران کے معاملے میں کافی سخت نہیں تھا، جب اسٹاک مارکیٹ ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی اور تیل کی قیمتیں گر رہی ہیں، یا تو حسد کرنے والے ہیں، برے لوگ ہیں یا بے وقوف ہیں۔”</p>
<p>ایران کے صدر <strong>مسعود پزشکیان</strong> نے بھی اس معاہدے پر دستخط کیے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ “اب معاہدے پر عملدرآمد کا مرحلہ شروع کرنے کا وقت ہے۔”</p>
<p>خام تیل کی قیمتوں میں جمعرات کو تین فیصد سے زائد کمی ہوئی، جو معاہدے کی خبر آنے کے بعد پہلے سے جاری گراوٹ کا تسلسل تھا۔</p>
<p><strong>”امن کی راہ ہموار کرنا“</strong></p>
<p>یہ معاہدہ موجودہ امریکا-اسرائیل اور ایران تنازع کے خاتمے کا باعث بننے کی توقع ہے، جس میں پانچ ہفتوں تک مکمل جنگ جاری رہی اور جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز میں شپنگ بری طرح متاثر ہوئی اور توانائی کی قیمتیں بڑھ گئیں۔</p>
<p>پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف، جنہوں نے اس معاہدے میں ثالثی کا کردار ادا کیا، نے کہا کہ یہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا اور ایران ”فوراً آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دے گا“۔ انہوں نے بھی اس معاہدے پر دستخط کیے۔</p>
<p>اب دو ماہ کے مذاکراتی مرحلے کا آغاز ہو گیا ہے، جس میں توجہ آبنائے ہرمز کی بحالی اور ایران کے جوہری پروگرام پر پیش رفت پر مرکوز رہے گی۔</p>
<p>میکرون نے اس معاہدے کو “امن کو ممکن بنانے والا فیصلہ” قرار دیا، جس کے تحت آبنائے ہرمز کو بغیر ٹول کے دوبارہ کھولا جائے گا اور جوہری، بیلسٹک اور علاقائی معاملات پر 60 دن میں حتمی معاہدہ کیا جائے گا۔</p>
<p>تاہم اگلے اقدامات کے حوالے سے اب بھی ابہام موجود ہے، کیونکہ ابتدا میں یہ دستخطی تقریب جمعہ کو سوئٹزرلینڈ کے ایک پہاڑی ریزورٹ میں ہونا تھی، جس میں امریکی نائب صدر اور ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار شرکت کرتے۔</p>
<p>ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ اب ذاتی دستخطی تقریب کی ضرورت نہیں رہی، تاہم پاکستان کے وزیرِاعظم نے کہا کہ جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں باقاعدہ تقریب ہوگی اور تکنیکی مذاکرات شروع ہوں گے۔</p>
<p>معاہدے کے تحت امریکا فوری طور پر ایران پر عائد تیل کی پابندیاں نرم کرے گا، جبکہ حتمی جوہری معاہدے کے بعد 300 ارب ڈالر کے تعمیر نو فنڈ کی فراہمی میں بھی سہولت دی جائے گی۔</p>
<p>اقوامِ متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے سربراہ رافائل گروسی نے جنیوا میں کہا کہ ادارہ اس معاہدے پر عملدرآمد کے لیے ”عملی اقدامات“ طے کرنے کے لیے تیار ہے۔</p>
<p>امریکی حکام کے مطابق ایران اپنے افزودہ یورینیم کے ذخائر کو کم کرے گا، جو اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں ”کم افزودہ سطح پر لانے“ کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کا اس معاہدے میں کوئی ذکر نہیں کیا گیا، حالانکہ اسرائیل طویل عرصے سے اس کے خاتمے کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔</p>
<p>ایرانی ترجمان نے کہا کہ میزائل صرف دفاعی مقصد کے لیے ہیں اور ان پر کسی قسم کی بات چیت نہیں ہوگی۔</p>
<p><strong>”خارجہ پالیسی کی بڑی غلطی“</strong></p>
<p>ایران میں سخت گیر حلقوں نے اس معاہدے پر تنقید کی ہے، جبکہ ایران نے اس جنگ کو “مسلط کردہ جنگ” قرار دیا ہے۔</p>
<p>پاکستان اور دیگر علاقائی کرداروں کی ثالثی کے باوجود امریکی سینیٹر بل کیسڈی نے اسے ”حالیہ دہائیوں کی بدترین خارجہ پالیسی غلطی“ قرار دیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ایران کے جوہری عزائم محدود نہیں ہوئے اور اسے آبنائے ہرمز کے ذریعے دباؤ ڈالنے کا فائدہ ملا ہے۔</p>
<p>فاکس نیوز سمیت بعض امریکی میڈیا اداروں نے بھی خدشات ظاہر کیے کہ معاہدے سے ایران کو بڑے مالی فوائد ملیں گے جبکہ اس کے جوہری پروگرام پر سخت پابندیاں شامل نہیں ہیں۔</p>
<p>لبنان کے محاذ پر بھی صورتحال غیر واضح ہے، جہاں حزب اللہ کی کارروائیوں کے بعد اسرائیلی حملوں میں شدت آئی تھی، تاہم معاہدے کے اعلان کے بعد تشدد میں کمی دیکھی گئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287678</guid>
      <pubDate>Thu, 18 Jun 2026 18:55:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/18182000f6de3f1.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/18182000f6de3f1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
