<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 23:26:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 23:26:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بلوچستان حکومت نے سرپلس بجٹ پیش کر دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287648/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بلوچستان حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے 1.089 ٹریلین روپے کا سرپلس بجٹ پیش کر دیا ہے، جس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ، صحت اور تعلیم کے شعبوں کے لیے اضافی فنڈز اور متعدد ٹیکس ریلیف اقدامات شامل ہیں، جبکہ کسی نئے ٹیکس کے نفاذ کا اعلان نہیں کیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے یہ بجٹ بلوچستان اسمبلی میں پیش کیا، جس کی صدارت اسپیکر کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی نے کی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ معاشی چیلنجز کے باوجود حکومت نے مالی نظم و ضبط اور عوامی فلاح کو ترجیح دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ مالی سال میں ترقیاتی فنڈز کا 115 فیصد استعمال کیا گیا جو صوبے کی تاریخ میں سب سے زیادہ شرح ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق کل بجٹ کا حجم 1089.26 ارب روپے رکھا گیا ہے جبکہ آمدنی کا تخمینہ 1134.92 ارب روپے لگایا گیا ہے، جس سے 45.66 ارب روپے کا سرپلس ظاہر ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبے کو وفاقی محاصل سے 800.13 ارب روپے ملنے کی توقع ہے جبکہ مقامی آمدنی کا تخمینہ 170.09 ارب روپے ہے۔ ترقیاتی بجٹ میں صوبائی پی ایس ڈی پی 206.61 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے جبکہ مجموعی ترقیاتی اخراجات 291.55 ارب روپے تک پہنچیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہم شعبوں میں تعلیم کے لیے 157.28 ارب روپے، امن و امان کے لیے 107.92 ارب روپے، صحت کے لیے 96 ارب روپے، زراعت کے لیے 23.6 ارب روپے اور سماجی تحفظ کے لیے 15.13 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے ملازمین کو ریلیف دیتے ہوئے تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ کیا ہے، جو وفاقی حکومت کی طرز پر دیا گیا ہے۔ وزیر خزانہ کے مطابق یہ فیصلہ مہنگائی کے دباؤ کے باوجود کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بجٹ کو ٹیکس فری قرار دیتے ہوئے حکومت نے نئے ٹیکس عائد نہیں کیے، تاہم سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے مختلف ریلیف اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں۔ پراپرٹی ٹرانسفر پر کیپٹل ویلیو ٹیکس اور اسٹامپ ڈیوٹی 2 فیصد سے کم کر کے 1 فیصد کر دی گئی ہے، تعلیمی خدمات پر سیلز ٹیکس صفر کر دیا گیا ہے جبکہ نئی الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بلوچستان حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے 1.089 ٹریلین روپے کا سرپلس بجٹ پیش کر دیا ہے، جس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ، صحت اور تعلیم کے شعبوں کے لیے اضافی فنڈز اور متعدد ٹیکس ریلیف اقدامات شامل ہیں، جبکہ کسی نئے ٹیکس کے نفاذ کا اعلان نہیں کیا گیا۔</strong></p>
<p>صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے یہ بجٹ بلوچستان اسمبلی میں پیش کیا، جس کی صدارت اسپیکر کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی نے کی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ معاشی چیلنجز کے باوجود حکومت نے مالی نظم و ضبط اور عوامی فلاح کو ترجیح دی ہے۔</p>
<p>انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ مالی سال میں ترقیاتی فنڈز کا 115 فیصد استعمال کیا گیا جو صوبے کی تاریخ میں سب سے زیادہ شرح ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق کل بجٹ کا حجم 1089.26 ارب روپے رکھا گیا ہے جبکہ آمدنی کا تخمینہ 1134.92 ارب روپے لگایا گیا ہے، جس سے 45.66 ارب روپے کا سرپلس ظاہر ہوتا ہے۔</p>
<p>صوبے کو وفاقی محاصل سے 800.13 ارب روپے ملنے کی توقع ہے جبکہ مقامی آمدنی کا تخمینہ 170.09 ارب روپے ہے۔ ترقیاتی بجٹ میں صوبائی پی ایس ڈی پی 206.61 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے جبکہ مجموعی ترقیاتی اخراجات 291.55 ارب روپے تک پہنچیں گے۔</p>
<p>اہم شعبوں میں تعلیم کے لیے 157.28 ارب روپے، امن و امان کے لیے 107.92 ارب روپے، صحت کے لیے 96 ارب روپے، زراعت کے لیے 23.6 ارب روپے اور سماجی تحفظ کے لیے 15.13 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔</p>
<p>حکومت نے ملازمین کو ریلیف دیتے ہوئے تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ کیا ہے، جو وفاقی حکومت کی طرز پر دیا گیا ہے۔ وزیر خزانہ کے مطابق یہ فیصلہ مہنگائی کے دباؤ کے باوجود کیا گیا۔</p>
<p>بجٹ کو ٹیکس فری قرار دیتے ہوئے حکومت نے نئے ٹیکس عائد نہیں کیے، تاہم سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے مختلف ریلیف اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں۔ پراپرٹی ٹرانسفر پر کیپٹل ویلیو ٹیکس اور اسٹامپ ڈیوٹی 2 فیصد سے کم کر کے 1 فیصد کر دی گئی ہے، تعلیمی خدمات پر سیلز ٹیکس صفر کر دیا گیا ہے جبکہ نئی الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287648</guid>
      <pubDate>Thu, 18 Jun 2026 11:03:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (این این آئی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/1811012477b832c.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/1811012477b832c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
