<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 18 Jun 2026 01:50:42 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 18 Jun 2026 01:50:42 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ریئل ایفیکٹو ایکسچینج ریٹ انڈیکس 92 ماہ کی بلند ترین سطح 106.15 تک پہنچ گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287638/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک اور ریسرچ ہاؤسز کے مطابق پاکستان کا ریئل ایفیکٹو ایکسچینج ریٹ ( آر ای ای آر) جو ملکی کرنسی کی قدر کو تجارتی شراکت دار ممالک کی کرنسیوں کے ایک باسکٹ کے مقابلے میں ظاہر کرتا ہے، مئی 2026 میں 106.15 پوائنٹس تک پہنچ کر ساڑھے سات سال کی بلند ترین سطح پر ریکارڈ کیا گیا ۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی کرنسی کی یہ قدر میں اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ روپیہ تجارتی شراکت دار کرنسیوں کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ مضبوط ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں اس کی قدر اوور ویلیوڈ سمجھی جا رہی ہے۔ اس صورتِ حال میں درآمدات نسبتاً سستی ہو جاتی ہیں، تاہم برآمدات عالمی منڈی میں کم مسابقتی ہو جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;100 سے اوپر آر ای ای آر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملک کی برآمدات مسابقتی نہیں رہتیں جبکہ درآمدات سستی ہو جاتی ہیں، تاہم جب آر ای ای آر انڈیکس 100 سے نیچے ہو تو صورتحال اس کے برعکس ہو جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;تاہم اے کے ڈی سیکیورٹیز کے ڈائریکٹر ریسرچ محمد عویس اشرف نے اس رائے سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ معاشی پالیسی سازوں کو بلند ریئل ایفیکٹو ایکسچینج ریٹ (آرای ای آر) پر تشویش نہیں ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق ملکی معیشت میں غیر ملکی کرنسی کے مضبوط بہاؤ کے باعث امریکی ڈالر کی سپلائی طلب کے مقابلے میں زیادہ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے مطابق مئی میں &lt;strong&gt;آرای ای آر&lt;/strong&gt; انڈیکس میں 0.3 فیصد (35 بیسس پوائنٹس) اضافہ ہوا اور یہ اپریل 2026 کے 105.80 پوائنٹس کے مقابلے میں بڑھ کر 106.15 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عارف حبیب لمیٹڈ نے کہا ہے کہ مئی 2026 میں آرای ای آر ستمبر 2018 کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ ادارے کے مطابق رواں مالی سال کے دوران اب تک اس انڈیکس میں 8.28 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا جا چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کے روز انٹربینک مارکیٹ میں روپے کی قدر 278.27 روپے فی ڈالر پر بند ہوئی، جبکہ گزشتہ ایک سال کے دوران اس میں بتدریج روزانہ کی بنیاد پر بہتری دیکھی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد عویس اشرف کے مطابق مضبوط مالیاتی بہاؤ کی عکاسی اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ مئی 2026 میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس 459 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر بھی مسلسل اضافہ دکھا رہے ہیں اور اس وقت یہ 17.21 ارب ڈالر سے تجاوز کر کے پانچ سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق اگر معیشت میں ڈالر کی طلب سپلائی سے زیادہ ہوتی تو &lt;strong&gt;آرای ای آر&lt;/strong&gt; کے بڑھنے پر پالیسی ساز زیادہ فکر مند ہوتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عویس اشرف نے مزید کہا کہ &lt;strong&gt;آرای ای آر&lt;/strong&gt; کے حساب میں مقامی اور تجارتی شراکت دار ممالک کی افراطِ زر (مہنگائی) کو بھی شامل کیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے حالیہ مہینوں میں پاکستان میں مہنگائی کی شرح نسبتاً زیادہ رہنے کے باعث &lt;strong&gt;آرای ای آر&lt;/strong&gt; میں اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ڈارسن سیکیورٹیز کے سی ای او ملک دلواز احمد نے آرای ای آر کے منصفانہ تعین کے لیے بیس ایئر کو تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ انڈیکس 2010 کو بنیاد بنا کر تیار کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ 2010 میں روپے کی قدر تقریباً 100 روپے فی ڈالر تھی، جو اب کم ہو کر 287.27 روپے فی ڈالر تک آ چکی ہے، اس لیے ریبیسنگ کے ذریعے &lt;strong&gt;آرای ای آر&lt;/strong&gt; کو زیادہ حقیقی اور منصفانہ قدر ظاہر کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آرای ای آر کیا ہے؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے مطابق &lt;strong&gt;آرای ای آر&lt;/strong&gt; ایک ایسا انڈیکس ہے جو کسی ملک میں اشیاء کی قیمتوں کے ایک باسکٹ کا اس کے بڑے تجارتی شراکت دار ممالک میں اسی باسکٹ کی قیمتوں سے موازنہ کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس میں مختلف تجارتی شراکت دار ممالک کے ساتھ اشیاء کی قیمتوں کو برائے نام شرحِ تبادلہ (نومینل ایکسچینج ریٹ) کے ذریعے ایک ہی کرنسی میں ظاہر کیا جاتا ہے، جبکہ ہر ملک کا وزن اس کی درآمدات، برآمدات یا مجموعی بیرونی تجارت میں اس کے حصے کے مطابق مقرر کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹیٹ بینک اور ریسرچ ہاؤسز کے مطابق پاکستان کا ریئل ایفیکٹو ایکسچینج ریٹ ( آر ای ای آر) جو ملکی کرنسی کی قدر کو تجارتی شراکت دار ممالک کی کرنسیوں کے ایک باسکٹ کے مقابلے میں ظاہر کرتا ہے، مئی 2026 میں 106.15 پوائنٹس تک پہنچ کر ساڑھے سات سال کی بلند ترین سطح پر ریکارڈ کیا گیا ۔</strong></p>
<p>مقامی کرنسی کی یہ قدر میں اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ روپیہ تجارتی شراکت دار کرنسیوں کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ مضبوط ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں اس کی قدر اوور ویلیوڈ سمجھی جا رہی ہے۔ اس صورتِ حال میں درآمدات نسبتاً سستی ہو جاتی ہیں، تاہم برآمدات عالمی منڈی میں کم مسابقتی ہو جاتی ہیں۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>100 سے اوپر آر ای ای آر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملک کی برآمدات مسابقتی نہیں رہتیں جبکہ درآمدات سستی ہو جاتی ہیں، تاہم جب آر ای ای آر انڈیکس 100 سے نیچے ہو تو صورتحال اس کے برعکس ہو جاتی ہے۔</p>
</blockquote>
<p>تاہم اے کے ڈی سیکیورٹیز کے ڈائریکٹر ریسرچ محمد عویس اشرف نے اس رائے سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ معاشی پالیسی سازوں کو بلند ریئل ایفیکٹو ایکسچینج ریٹ (آرای ای آر) پر تشویش نہیں ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق ملکی معیشت میں غیر ملکی کرنسی کے مضبوط بہاؤ کے باعث امریکی ڈالر کی سپلائی طلب کے مقابلے میں زیادہ رہی ہے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے مطابق مئی میں <strong>آرای ای آر</strong> انڈیکس میں 0.3 فیصد (35 بیسس پوائنٹس) اضافہ ہوا اور یہ اپریل 2026 کے 105.80 پوائنٹس کے مقابلے میں بڑھ کر 106.15 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔</p>
<p>عارف حبیب لمیٹڈ نے کہا ہے کہ مئی 2026 میں آرای ای آر ستمبر 2018 کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ ادارے کے مطابق رواں مالی سال کے دوران اب تک اس انڈیکس میں 8.28 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا جا چکا ہے۔</p>
<p>بدھ کے روز انٹربینک مارکیٹ میں روپے کی قدر 278.27 روپے فی ڈالر پر بند ہوئی، جبکہ گزشتہ ایک سال کے دوران اس میں بتدریج روزانہ کی بنیاد پر بہتری دیکھی جا رہی ہے۔</p>
<p>محمد عویس اشرف کے مطابق مضبوط مالیاتی بہاؤ کی عکاسی اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ مئی 2026 میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس 459 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر بھی مسلسل اضافہ دکھا رہے ہیں اور اس وقت یہ 17.21 ارب ڈالر سے تجاوز کر کے پانچ سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔</p>
<p>ان کے مطابق اگر معیشت میں ڈالر کی طلب سپلائی سے زیادہ ہوتی تو <strong>آرای ای آر</strong> کے بڑھنے پر پالیسی ساز زیادہ فکر مند ہوتے۔</p>
<p>عویس اشرف نے مزید کہا کہ <strong>آرای ای آر</strong> کے حساب میں مقامی اور تجارتی شراکت دار ممالک کی افراطِ زر (مہنگائی) کو بھی شامل کیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے حالیہ مہینوں میں پاکستان میں مہنگائی کی شرح نسبتاً زیادہ رہنے کے باعث <strong>آرای ای آر</strong> میں اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب ڈارسن سیکیورٹیز کے سی ای او ملک دلواز احمد نے آرای ای آر کے منصفانہ تعین کے لیے بیس ایئر کو تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ انڈیکس 2010 کو بنیاد بنا کر تیار کیا گیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ 2010 میں روپے کی قدر تقریباً 100 روپے فی ڈالر تھی، جو اب کم ہو کر 287.27 روپے فی ڈالر تک آ چکی ہے، اس لیے ریبیسنگ کے ذریعے <strong>آرای ای آر</strong> کو زیادہ حقیقی اور منصفانہ قدر ظاہر کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔</p>
<p><strong>آرای ای آر کیا ہے؟</strong></p>
<p>اسٹیٹ بینک کے مطابق <strong>آرای ای آر</strong> ایک ایسا انڈیکس ہے جو کسی ملک میں اشیاء کی قیمتوں کے ایک باسکٹ کا اس کے بڑے تجارتی شراکت دار ممالک میں اسی باسکٹ کی قیمتوں سے موازنہ کرتا ہے۔</p>
<p>اس میں مختلف تجارتی شراکت دار ممالک کے ساتھ اشیاء کی قیمتوں کو برائے نام شرحِ تبادلہ (نومینل ایکسچینج ریٹ) کے ذریعے ایک ہی کرنسی میں ظاہر کیا جاتا ہے، جبکہ ہر ملک کا وزن اس کی درآمدات، برآمدات یا مجموعی بیرونی تجارت میں اس کے حصے کے مطابق مقرر کیا جاتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287638</guid>
      <pubDate>Wed, 17 Jun 2026 23:38:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سلمان صدیقی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/1722435036ab3c4.webp" type="image/webp" medium="image" height="677" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/1722435036ab3c4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
