<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 17 Jun 2026 23:32:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 17 Jun 2026 23:32:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بلوچستان کابینہ نے مالی سال 27-2026 کا ایک ہزار 89 ارب روپے کا بجٹ منظور کر لیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287636/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی زیرِ صدارت بلوچستان کابینہ نے آئندہ مالی سال 27-2026 کے مجوزہ بجٹ دستاویزات کی متفقہ طور پر منظوری دے دی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فیصلہ ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کیا گیا، جس میں صوبائی وزرا، چیف سیکریٹری، انتظامی سیکریٹریز اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کابینہ کو بجٹ کی اہم خصوصیات سے آگاہ کیا گیا، جن میں ترقیاتی ترجیحات، مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور عوامی فلاح و بہبود کے اقدامات شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئندہ مالی سال کے لیے مجموعی بجٹ کا حجم ایک ہزار 89 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، جس میں سے 797 ارب روپے غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ 206 ارب روپے صوبائی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے لیے رکھے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ایس ڈی پی کے تحت مختص رقم میں سے 106 ارب روپے نئے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیے جائیں گے، جبکہ 100 ارب روپے جاری منصوبوں کی تکمیل کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ وفاقی فنڈنگ سے چلنے والے منصوبوں کے لیے 45 ارب روپے اور غیر ملکی معاونت سے جاری منصوبوں کے لیے 40 ارب روپے بھی صوبے کی ترقیاتی سرگرمیوں میں معاون ثابت ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان وسائل سے بنیادی ڈھانچے، تعلیم، صحت، فراہمیٔ آب، مواصلات، زراعت اور توانائی کے شعبوں کو مضبوط بنانے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کابینہ کو یہ بھی بتایا گیا کہ صوبائی محصولات کا ہدف 170 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، جو گزشتہ برسوں کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ہدف کے حصول کے لیے ٹیکس نظام میں اصلاحات، مالیاتی نظم و ضبط کے فروغ اور وسائل کے مؤثر استعمال کی حکمتِ عملی اختیار کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے بجٹ کو متوازن، حقیقت پسندانہ اور عوام دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ محدود وسائل کے باوجود حکومت نے عوامی فلاح و بہبود، پائیدار ترقی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کو ترجیح دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ترقیاتی پروگرام میں صحت، تعلیم، صاف پینے کے پانی کی فراہمی، بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور روزگار کے مواقع کی فراہمی کو اولین ترجیح حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کے اختتام پر کابینہ نے صوبے کی ترقی اور خوشحالی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کے عزم کا اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ مالی سال 27-2026 کا بجٹ بلوچستان کی ترقیاتی ضروریات، عوامی توقعات اور معاشی استحکام سے ہم آہنگ ہے اور یہ پائیدار ترقی کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی زیرِ صدارت بلوچستان کابینہ نے آئندہ مالی سال 27-2026 کے مجوزہ بجٹ دستاویزات کی متفقہ طور پر منظوری دے دی ہے۔</strong></p>
<p>یہ فیصلہ ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کیا گیا، جس میں صوبائی وزرا، چیف سیکریٹری، انتظامی سیکریٹریز اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔</p>
<p>کابینہ کو بجٹ کی اہم خصوصیات سے آگاہ کیا گیا، جن میں ترقیاتی ترجیحات، مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور عوامی فلاح و بہبود کے اقدامات شامل تھے۔</p>
<p>آئندہ مالی سال کے لیے مجموعی بجٹ کا حجم ایک ہزار 89 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، جس میں سے 797 ارب روپے غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ 206 ارب روپے صوبائی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے لیے رکھے گئے ہیں۔</p>
<p>پی ایس ڈی پی کے تحت مختص رقم میں سے 106 ارب روپے نئے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیے جائیں گے، جبکہ 100 ارب روپے جاری منصوبوں کی تکمیل کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔</p>
<p>اس کے علاوہ وفاقی فنڈنگ سے چلنے والے منصوبوں کے لیے 45 ارب روپے اور غیر ملکی معاونت سے جاری منصوبوں کے لیے 40 ارب روپے بھی صوبے کی ترقیاتی سرگرمیوں میں معاون ثابت ہوں گے۔</p>
<p>ان وسائل سے بنیادی ڈھانچے، تعلیم، صحت، فراہمیٔ آب، مواصلات، زراعت اور توانائی کے شعبوں کو مضبوط بنانے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔</p>
<p>کابینہ کو یہ بھی بتایا گیا کہ صوبائی محصولات کا ہدف 170 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، جو گزشتہ برسوں کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p>اس ہدف کے حصول کے لیے ٹیکس نظام میں اصلاحات، مالیاتی نظم و ضبط کے فروغ اور وسائل کے مؤثر استعمال کی حکمتِ عملی اختیار کی جائے گی۔</p>
<p>وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے بجٹ کو متوازن، حقیقت پسندانہ اور عوام دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ محدود وسائل کے باوجود حکومت نے عوامی فلاح و بہبود، پائیدار ترقی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کو ترجیح دی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ترقیاتی پروگرام میں صحت، تعلیم، صاف پینے کے پانی کی فراہمی، بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور روزگار کے مواقع کی فراہمی کو اولین ترجیح حاصل ہے۔</p>
<p>اجلاس کے اختتام پر کابینہ نے صوبے کی ترقی اور خوشحالی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کے عزم کا اعادہ کیا۔</p>
<p>حکام نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ مالی سال 27-2026 کا بجٹ بلوچستان کی ترقیاتی ضروریات، عوامی توقعات اور معاشی استحکام سے ہم آہنگ ہے اور یہ پائیدار ترقی کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287636</guid>
      <pubDate>Wed, 17 Jun 2026 20:43:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے پی پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/17203720e052013.webp" type="image/webp" medium="image" height="800" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/17203720e052013.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
