<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 10 Aug 2026 00:17:18 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 10 Aug 2026 00:17:18 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اپوزیشن کے واک آؤٹ کے درمیان سندھ حکومت نے مالی سال 27-2026 کے لیے 35.6 کھرب روپے کا صوبائی بجٹ پیش کر دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287631/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے مالی سال 27-2026 کے لیے 35.6 کھرب روپے سے زائد کا صوبائی بجٹ پیش کر دیا ہے، جس میں بجٹ خسارے کا تخمینہ 36.9 ارب روپے لگایا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ نے تیرہویں مرتبہ بجٹ تقریر کا آغاز کیا تو اپوزیشن ارکان نے شدید ہنگامہ آرائی کی اور بعد ازاں صوبائی اسمبلی سے واک آؤٹ کر گئے۔وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا، جو عوام اور کاروباری برادری کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے حکومت کے عزم کا عکاس ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/06/171914236571f5f.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/06/171914236571f5f.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/06/17191606d1609ac.png'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/06/17191606d1609ac.png'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت نے ایک بار پھر امن، استحکام اور اصولی سفارت کاری کے علمبردار کے طور پر پاکستان کے کردار کو ثابت کیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ بجٹ ایک ایسے وقت میں پیش کیا جا رہا ہے جب عالمی معیشت جیو پولیٹیکل تنازعات، بین الاقوامی تجارت میں رکاوٹوں اور مہنگائی کے دباؤ کے باعث مسلسل غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جاری محصولات کے اخراجات&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاری ترقیاتی اخراجات (سی آرای) کی مد میں صوبائی حکومت نے مالی سال 27-2026 کے لیے 2.56 کھرب روپے کی تجویز دی ہے، جو گزشتہ سال کے تخمینے سے 20 فیصد زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترقیاتی اخراجات کے لیے مالی سال 27-2026 کے بجٹ تخمینے (پی ای) 720.385 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں، جو گزشتہ سال کے 1,018.326 ارب روپے کے ترقیاتی پورٹ فولیو کے مقابلے میں 30 فیصد کمی کو ظاہر کرتے ہیں۔ وزیرِ اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ اس کمی کا اثر تمام ترقیاتی اجزاء پر پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ اعلیٰ سندھ نے مزید کہا کہ علاقائی سلامتی کی موجودہ صورتحال نے دفاع اوراسٹریٹیجک تیاریوں پر قومی اخراجات بڑھانے کو ناگزیر بنا دیا ہے، جس کے نتیجے میں حکومت کے تمام طبقات کے پاس ترقیاتی کاموں پر خرچ کرنے کے لیے مالی گنجائش کم ہو گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی عالمی توانائی کی مارکیٹوں میں اتار چڑھاؤ اور ایندھن کے بار بار پیدا ہونے والے بحرانوں نے حکومتی امور، بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں، ٹرانسپورٹیشن اور خدمات کی فراہمی کی لاگت میں اضافہ کر دیا ہے، جس سے سرکاری خزانے پر اضافی دباؤ پڑا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاری محصولات کے اخراجات (سی آرای) کے تناظر میں مالی سال 27-2026 کے بجٹ تخمینے (بی ای) کے مطابق چند اہم شعبے درج ذیل ہیں:&lt;/p&gt;
&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;&lt;strong&gt;صوبے میں امن و امان، جیل خانوں اور پولیسنگ کے لیے 216.537 ارب روپے،&lt;/strong&gt;&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;&lt;strong&gt;قانون اور پارلیمانی امور کے لیے 27.565 ارب روپے،&lt;/strong&gt;&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;&lt;strong&gt;زراعت کے شعبے کے لیے 38.22 ارب روپے،&lt;/strong&gt;&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;&lt;strong&gt;لائیو اسٹاک (مال مویشی) اور فشریز (ماہی گیری) کے شعبے کے لیے 11.6 ارب روپے،&lt;/strong&gt;&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;&lt;strong&gt;آبپاشی (اریگیشن) کے شعبے کے لیے 41.1 ارب روپے،&lt;/strong&gt;&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;&lt;strong&gt;توانائی (انرجی) کے شعبے کے لیے 66.48 ارب روپے،&lt;/strong&gt;&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;&lt;strong&gt;ورکس اینڈ سروسز (تعمیرات و خدمات) کے لیے 18.291 ارب روپے،&lt;/strong&gt;&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;&lt;strong&gt;لوکل گورنمنٹ (بلدیاتی خدمات) کے لیے 201.39 ارب روپے،&lt;/strong&gt;&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;&lt;strong&gt;پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (عوامی صحت کی انجینئرنگ) کی سرگرمیوں کے لیے 8.18 ارب روپے،&lt;/strong&gt;&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;&lt;strong&gt;صحت کی خدمات (ہیلتھ سروسز) کے لیے 354.271 ارب روپے،&lt;/strong&gt;&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;&lt;strong&gt;اطلاعات و نشریات (انفارمیشن اینڈ پبلسٹی) کے لیے 10.856 ارب روپے،&lt;/strong&gt;&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;&lt;strong&gt;اسکول ایجوکیشن سروسز (بشمول پرائمری، مڈل، سیکنڈری اور ہائر سیکنڈری) کے لیے 446.958 ارب روپے، کالجوں کے لیے 41.414 ارب روپے، اور یونیورسٹیوں و بورڈز کے لیے 9.417 ارب روپے،&lt;/strong&gt;&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;&lt;strong&gt;اگلے مالی سال 27-2026 کے دوران سبسڈیز (رعایتی امداد) کے لیے 133.54 ارب روپے اور&lt;/strong&gt;&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;&lt;strong&gt;قرضوں کی ادائیگی اور سود کی واپسی (ڈیٹ سروسنگ) کے لیے 54.25 ارب روپے۔&lt;/strong&gt;&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;p&gt;سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) 27–2026 کے لیے شعبہ جاتی مختص کردہ رقوم،&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہم شعبوں اور محکموں کے لیے مختص کی گئی رقوم کا خلاصہ درج ذیل ہے:&lt;/p&gt;
&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;&lt;strong&gt;شعبہ تعلیم :&lt;/strong&gt; 25,860.679 ملین (تقریباً 25.86 ارب) روپے (کل اے ڈی پی سائز کا تقریباً 6.80 فیصد)،&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;&lt;strong&gt;شعبہ صحت:&lt;/strong&gt; 17,433.422… ملین (تقریباً 17.43 ارب) روپے (کل اے ڈی پی سائز کا تقریباً 4.60 فیصد)،&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;&lt;strong&gt;بلدیات بشمول میگا پراجیکٹس (پانی و نکاسی اور سڑکیں):&lt;/strong&gt; 121.663 ارب* روپے (کل اے ڈی پی سائز کا تقریباً 26.2 فیصد)،&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;&lt;strong&gt;پبلک ہیلتھ انجینئرنگ اور دیہی ترقی (آر ڈی):&lt;/strong&gt; 40.86 ارب روپے (کل اے ڈی پی سائز کا تقریباً 10.70 فیصد)،&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;&lt;strong&gt;زراعت (بشمول لائیو اسٹاک/مال مویشی):&lt;/strong&gt; 6.30 ارب روپے (کل اے ڈی پی سائز کا تقریباً 1.66 فیصد)؛&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;&lt;strong&gt;آبپاشی (اریگیشن):&lt;/strong&gt; 30.94 ارب روپے (کل اے ڈی پی سائز کا تقریباً 8.14 فیصد)،&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;&lt;strong&gt;ٹرانسپورٹ اور کمیونیکیشن (مواصلات):&lt;/strong&gt; 39.536 ارب روپے (کل اے ڈی پی سائز کا تقریباً 10.4 فیصد)۔&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;p&gt;بینظیر ہاری کارڈ پروگرام جس کے لیے مالی سال 26-2025 میں 8.0 ارب روپے مختص کیے گئے تھے اسے جاری رکھتے ہوئے مالی سال 27-2026 میں 3 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ سندھ پیپلز سپورٹ پروگرام اور بینظیر ہاؤسنگ کے اقدامات کو جاری رکھنے کے لیے بالترتیب 2.0 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;خدمات پر سندھ سیلز ٹیکس&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تعلیم سے متعلق معاون خدمات (بشمول طلبہ کے لیے تعلیمی مشاورتی خدمات، ٹیسٹنگ اور جانچ کی خدمات) کے فروغ کے لیے سیلز ٹیکس کی شرح 5 فیصد تک کم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیرونِ ملک پاکستانی کارکنوں کی ملازمت کے لیے بھرتی ایجنٹ خدمات پر 5 فیصد سیلز ٹیکس کی موجودہ رعایت کو مزید دو سال کے لیے برقرار رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریٹیل شعبے میں دستاویزی عمل اور ڈیجیٹلائزیشن کے فروغ کے لیے بیوٹی پارلرز اور سیلونز کے لیے پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) انضمام کو آئندہ لازمی قرار دینے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ ان خدمات پر 8 فیصد کی رعایتی ٹیکس شرح برقرار رکھی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زرعی آمدنی پر سپر ٹیکس میں بھی ریلیف کی تجویز دی گئی ہے، جس کے تحت ٹیکس استثنیٰ کی حد 15 کروڑ روپے سے بڑھا کر 50 کروڑ روپے کرنے اور شرح کو 10 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبائی حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کی تجویز پیش کی ہے، اس کے ساتھ ساتھ گھرانوں، کسانوں اور کاروباری برادری کی مدد کے لیے متعدد ریلیف پیکجز کا بھی ارادہ ظاہر کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="کم-از-کم-اجرت-میں-اضافہ" href="#کم-از-کم-اجرت-میں-اضافہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;کم از کم اجرت میں اضافہ&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;صوبے میں مزدور کی کم از کم ماہانہ اجرت بڑھا کر 43,000 روپے کر دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="کراچی-کے-لیے-100-ارب-روپے-مختص" href="#کراچی-کے-لیے-100-ارب-روپے-مختص" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;کراچی کے لیے 100 ارب روپے مختص&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت کراچی کے ترقیاتی منصوبوں پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ کے وزیرِ اعلیٰ کا کہنا تھا کہ مالی سال 27-2026 میں کراچی کے لیے 100.19 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ شہر کے انفرااسٹرکچر (بنیادی ڈھانچے)، ٹریفک، صفائی ستھرائی، پانی اور تعلیم کے شعبوں کے لیے اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے اس بجٹ کا حصہ بنے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="شاہراہِ-بھٹو-کی-توسیع" href="#شاہراہِ-بھٹو-کی-توسیع" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;شاہراہِ بھٹو کی توسیع&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ اعلیٰ سندھ نے ایوان کو آگاہ کیا کہ شاہراہِ بھٹو جس سے اس وقت روزانہ 25,000 گاڑیاں گزر رہی ہیں کو قیوم آباد سے کراچی پورٹ (بندرگاہ) تک توسیع دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے مؤقف اختیار کیا کہ بجٹ میں شہری سندھ کی نمائندگی نہیں کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبائی کابینہ کا بجٹ اجلاس ہوا، جس میں صوبائی وزراء، مشیروں، خصوصی معاونین، چیف سیکریٹری، سیکریٹریز اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کابینہ نے سندھ بجٹ 27-2026 کی منظوری دیتے ہوئے سب کی شمولیت، غربت میں کمی اور عوامی بہبود کے عزم کا اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انشورنس شعبہ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انشورنس ایجنٹس اور بروکرز پر عائد ٹیکس کی شرح میں مزید کمی کی تجویز دی گئی ہے، جس کے تحت انشورنس ایجنٹس کے لیے یہ شرح 5 فیصد سے کم کر کے 2 فیصد اور انشورنس بروکرز کے لیے 3 فیصد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، انفرادی لائف انشورنس کے حوالے سے ٹیکس چھوٹ کے دائرہ کار میں بھی توسیع کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اس کے تحت ٹیکس استثنیٰ کے لیے انشورنس کوریج کی حد 5 لاکھ روپے سے بڑھا کر 35 لاکھ روپے کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/SindhCMHouse/status/2067148731464786277?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2067148731464786277%7Ctwgr%5E1d9fcb77858bdeaf766756100ec7abdef70b188a%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40425969'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/SindhCMHouse/status/2067148731464786277?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2067148731464786277%7Ctwgr%5E1d9fcb77858bdeaf766756100ec7abdef70b188a%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40425969"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر بجٹ میں خصوصی اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں، جن میں کم از کم اجرت میں اضافے کے ذریعے مزدوروں کو سپورٹ فراہم کرنا بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ ہم سندھ کے عوام کی خدمت جاری رکھیں گے اور نئے مالی سال میں مزید سخت محنت کریں گے۔ بلاول بھٹو کی ہدایات پر ہم غربت کے خاتمے کے لیے خصوصی اقدامات اٹھا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/PTVNewsOfficial/status/2067160581765791843?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2067160581765791843%7Ctwgr%5E1d9fcb77858bdeaf766756100ec7abdef70b188a%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40425969'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/PTVNewsOfficial/status/2067160581765791843?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2067160581765791843%7Ctwgr%5E1d9fcb77858bdeaf766756100ec7abdef70b188a%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40425969"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے بھی گزشتہ جمعہ کو مالی سال 27-2026 کے لیے 18.77 کھرب روپے کا وفاقی بجٹ پیش کیا تھا، جس میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف اور صنعتوں کی بحالی، سرمایہ کاری کے فروغ اور معیشت کو 4 فیصد ترقی کے ہدف پر گامزن کرنے کے لیے برآمد کنندگان، رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبوں کو ٹیکس مراعات دی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے مالی سال 27-2026 کے لیے 35.6 کھرب روپے سے زائد کا صوبائی بجٹ پیش کر دیا ہے، جس میں بجٹ خسارے کا تخمینہ 36.9 ارب روپے لگایا گیا ہے۔</strong></p>
<p>وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ نے تیرہویں مرتبہ بجٹ تقریر کا آغاز کیا تو اپوزیشن ارکان نے شدید ہنگامہ آرائی کی اور بعد ازاں صوبائی اسمبلی سے واک آؤٹ کر گئے۔وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا، جو عوام اور کاروباری برادری کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے حکومت کے عزم کا عکاس ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/06/171914236571f5f.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/06/171914236571f5f.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/06/17191606d1609ac.png'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/06/17191606d1609ac.png'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت نے ایک بار پھر امن، استحکام اور اصولی سفارت کاری کے علمبردار کے طور پر پاکستان کے کردار کو ثابت کیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ بجٹ ایک ایسے وقت میں پیش کیا جا رہا ہے جب عالمی معیشت جیو پولیٹیکل تنازعات، بین الاقوامی تجارت میں رکاوٹوں اور مہنگائی کے دباؤ کے باعث مسلسل غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔</p>
<p><strong>جاری محصولات کے اخراجات</strong></p>
<p>جاری ترقیاتی اخراجات (سی آرای) کی مد میں صوبائی حکومت نے مالی سال 27-2026 کے لیے 2.56 کھرب روپے کی تجویز دی ہے، جو گزشتہ سال کے تخمینے سے 20 فیصد زیادہ ہے۔</p>
<p>ترقیاتی اخراجات کے لیے مالی سال 27-2026 کے بجٹ تخمینے (پی ای) 720.385 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں، جو گزشتہ سال کے 1,018.326 ارب روپے کے ترقیاتی پورٹ فولیو کے مقابلے میں 30 فیصد کمی کو ظاہر کرتے ہیں۔ وزیرِ اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ اس کمی کا اثر تمام ترقیاتی اجزاء پر پڑے گا۔</p>
<p>وزیرِ اعلیٰ سندھ نے مزید کہا کہ علاقائی سلامتی کی موجودہ صورتحال نے دفاع اوراسٹریٹیجک تیاریوں پر قومی اخراجات بڑھانے کو ناگزیر بنا دیا ہے، جس کے نتیجے میں حکومت کے تمام طبقات کے پاس ترقیاتی کاموں پر خرچ کرنے کے لیے مالی گنجائش کم ہو گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی عالمی توانائی کی مارکیٹوں میں اتار چڑھاؤ اور ایندھن کے بار بار پیدا ہونے والے بحرانوں نے حکومتی امور، بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں، ٹرانسپورٹیشن اور خدمات کی فراہمی کی لاگت میں اضافہ کر دیا ہے، جس سے سرکاری خزانے پر اضافی دباؤ پڑا ہے۔</p>
<p>جاری محصولات کے اخراجات (سی آرای) کے تناظر میں مالی سال 27-2026 کے بجٹ تخمینے (بی ای) کے مطابق چند اہم شعبے درج ذیل ہیں:</p>
<ul>
<li><strong>صوبے میں امن و امان، جیل خانوں اور پولیسنگ کے لیے 216.537 ارب روپے،</strong></li>
<li><strong>قانون اور پارلیمانی امور کے لیے 27.565 ارب روپے،</strong></li>
<li><strong>زراعت کے شعبے کے لیے 38.22 ارب روپے،</strong></li>
<li><strong>لائیو اسٹاک (مال مویشی) اور فشریز (ماہی گیری) کے شعبے کے لیے 11.6 ارب روپے،</strong></li>
<li><strong>آبپاشی (اریگیشن) کے شعبے کے لیے 41.1 ارب روپے،</strong></li>
<li><strong>توانائی (انرجی) کے شعبے کے لیے 66.48 ارب روپے،</strong></li>
<li><strong>ورکس اینڈ سروسز (تعمیرات و خدمات) کے لیے 18.291 ارب روپے،</strong></li>
<li><strong>لوکل گورنمنٹ (بلدیاتی خدمات) کے لیے 201.39 ارب روپے،</strong></li>
<li><strong>پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (عوامی صحت کی انجینئرنگ) کی سرگرمیوں کے لیے 8.18 ارب روپے،</strong></li>
<li><strong>صحت کی خدمات (ہیلتھ سروسز) کے لیے 354.271 ارب روپے،</strong></li>
<li><strong>اطلاعات و نشریات (انفارمیشن اینڈ پبلسٹی) کے لیے 10.856 ارب روپے،</strong></li>
<li><strong>اسکول ایجوکیشن سروسز (بشمول پرائمری، مڈل، سیکنڈری اور ہائر سیکنڈری) کے لیے 446.958 ارب روپے، کالجوں کے لیے 41.414 ارب روپے، اور یونیورسٹیوں و بورڈز کے لیے 9.417 ارب روپے،</strong></li>
<li><strong>اگلے مالی سال 27-2026 کے دوران سبسڈیز (رعایتی امداد) کے لیے 133.54 ارب روپے اور</strong></li>
<li><strong>قرضوں کی ادائیگی اور سود کی واپسی (ڈیٹ سروسنگ) کے لیے 54.25 ارب روپے۔</strong></li>
</ul>
<p>سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) 27–2026 کے لیے شعبہ جاتی مختص کردہ رقوم،</p>
<p>اہم شعبوں اور محکموں کے لیے مختص کی گئی رقوم کا خلاصہ درج ذیل ہے:</p>
<ul>
<li><strong>شعبہ تعلیم :</strong> 25,860.679 ملین (تقریباً 25.86 ارب) روپے (کل اے ڈی پی سائز کا تقریباً 6.80 فیصد)،</li>
<li><strong>شعبہ صحت:</strong> 17,433.422… ملین (تقریباً 17.43 ارب) روپے (کل اے ڈی پی سائز کا تقریباً 4.60 فیصد)،</li>
<li><strong>بلدیات بشمول میگا پراجیکٹس (پانی و نکاسی اور سڑکیں):</strong> 121.663 ارب* روپے (کل اے ڈی پی سائز کا تقریباً 26.2 فیصد)،</li>
<li><strong>پبلک ہیلتھ انجینئرنگ اور دیہی ترقی (آر ڈی):</strong> 40.86 ارب روپے (کل اے ڈی پی سائز کا تقریباً 10.70 فیصد)،</li>
<li><strong>زراعت (بشمول لائیو اسٹاک/مال مویشی):</strong> 6.30 ارب روپے (کل اے ڈی پی سائز کا تقریباً 1.66 فیصد)؛</li>
<li><strong>آبپاشی (اریگیشن):</strong> 30.94 ارب روپے (کل اے ڈی پی سائز کا تقریباً 8.14 فیصد)،</li>
<li><strong>ٹرانسپورٹ اور کمیونیکیشن (مواصلات):</strong> 39.536 ارب روپے (کل اے ڈی پی سائز کا تقریباً 10.4 فیصد)۔</li>
</ul>
<p>بینظیر ہاری کارڈ پروگرام جس کے لیے مالی سال 26-2025 میں 8.0 ارب روپے مختص کیے گئے تھے اسے جاری رکھتے ہوئے مالی سال 27-2026 میں 3 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ سندھ پیپلز سپورٹ پروگرام اور بینظیر ہاؤسنگ کے اقدامات کو جاری رکھنے کے لیے بالترتیب 2.0 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔</p>
<p><strong>خدمات پر سندھ سیلز ٹیکس</strong></p>
<p>تعلیم سے متعلق معاون خدمات (بشمول طلبہ کے لیے تعلیمی مشاورتی خدمات، ٹیسٹنگ اور جانچ کی خدمات) کے فروغ کے لیے سیلز ٹیکس کی شرح 5 فیصد تک کم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔</p>
<p>بیرونِ ملک پاکستانی کارکنوں کی ملازمت کے لیے بھرتی ایجنٹ خدمات پر 5 فیصد سیلز ٹیکس کی موجودہ رعایت کو مزید دو سال کے لیے برقرار رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔</p>
<p>ریٹیل شعبے میں دستاویزی عمل اور ڈیجیٹلائزیشن کے فروغ کے لیے بیوٹی پارلرز اور سیلونز کے لیے پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) انضمام کو آئندہ لازمی قرار دینے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ ان خدمات پر 8 فیصد کی رعایتی ٹیکس شرح برقرار رکھی جائے گی۔</p>
<p>زرعی آمدنی پر سپر ٹیکس میں بھی ریلیف کی تجویز دی گئی ہے، جس کے تحت ٹیکس استثنیٰ کی حد 15 کروڑ روپے سے بڑھا کر 50 کروڑ روپے کرنے اور شرح کو 10 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔</p>
<p><strong>تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ</strong></p>
<p>صوبائی حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کی تجویز پیش کی ہے، اس کے ساتھ ساتھ گھرانوں، کسانوں اور کاروباری برادری کی مدد کے لیے متعدد ریلیف پیکجز کا بھی ارادہ ظاہر کیا ہے۔</p>
<h3><a id="کم-از-کم-اجرت-میں-اضافہ" href="#کم-از-کم-اجرت-میں-اضافہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>کم از کم اجرت میں اضافہ</h3>
<p>صوبے میں مزدور کی کم از کم ماہانہ اجرت بڑھا کر 43,000 روپے کر دی گئی ہے۔</p>
<h3><a id="کراچی-کے-لیے-100-ارب-روپے-مختص" href="#کراچی-کے-لیے-100-ارب-روپے-مختص" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>کراچی کے لیے 100 ارب روپے مختص</h3>
<p>وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت کراچی کے ترقیاتی منصوبوں پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔</p>
<p>سندھ کے وزیرِ اعلیٰ کا کہنا تھا کہ مالی سال 27-2026 میں کراچی کے لیے 100.19 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ شہر کے انفرااسٹرکچر (بنیادی ڈھانچے)، ٹریفک، صفائی ستھرائی، پانی اور تعلیم کے شعبوں کے لیے اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے اس بجٹ کا حصہ بنے ہیں۔</p>
<h3><a id="شاہراہِ-بھٹو-کی-توسیع" href="#شاہراہِ-بھٹو-کی-توسیع" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>شاہراہِ بھٹو کی توسیع</h3>
<p>وزیرِ اعلیٰ سندھ نے ایوان کو آگاہ کیا کہ شاہراہِ بھٹو جس سے اس وقت روزانہ 25,000 گاڑیاں گزر رہی ہیں کو قیوم آباد سے کراچی پورٹ (بندرگاہ) تک توسیع دی جائے گی۔</p>
<p>دوسری جانب اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے مؤقف اختیار کیا کہ بجٹ میں شہری سندھ کی نمائندگی نہیں کی گئی۔</p>
<p>اس سے قبل وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبائی کابینہ کا بجٹ اجلاس ہوا، جس میں صوبائی وزراء، مشیروں، خصوصی معاونین، چیف سیکریٹری، سیکریٹریز اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔</p>
<p>کابینہ نے سندھ بجٹ 27-2026 کی منظوری دیتے ہوئے سب کی شمولیت، غربت میں کمی اور عوامی بہبود کے عزم کا اعادہ کیا۔</p>
<p><strong>انشورنس شعبہ</strong></p>
<p>انشورنس ایجنٹس اور بروکرز پر عائد ٹیکس کی شرح میں مزید کمی کی تجویز دی گئی ہے، جس کے تحت انشورنس ایجنٹس کے لیے یہ شرح 5 فیصد سے کم کر کے 2 فیصد اور انشورنس بروکرز کے لیے 3 فیصد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔</p>
<p>مزید برآں، انفرادی لائف انشورنس کے حوالے سے ٹیکس چھوٹ کے دائرہ کار میں بھی توسیع کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اس کے تحت ٹیکس استثنیٰ کے لیے انشورنس کوریج کی حد 5 لاکھ روپے سے بڑھا کر 35 لاکھ روپے کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/SindhCMHouse/status/2067148731464786277?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2067148731464786277%7Ctwgr%5E1d9fcb77858bdeaf766756100ec7abdef70b188a%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40425969'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/SindhCMHouse/status/2067148731464786277?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2067148731464786277%7Ctwgr%5E1d9fcb77858bdeaf766756100ec7abdef70b188a%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40425969"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر بجٹ میں خصوصی اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں، جن میں کم از کم اجرت میں اضافے کے ذریعے مزدوروں کو سپورٹ فراہم کرنا بھی شامل ہے۔</p>
<p>وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ ہم سندھ کے عوام کی خدمت جاری رکھیں گے اور نئے مالی سال میں مزید سخت محنت کریں گے۔ بلاول بھٹو کی ہدایات پر ہم غربت کے خاتمے کے لیے خصوصی اقدامات اٹھا رہے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/PTVNewsOfficial/status/2067160581765791843?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2067160581765791843%7Ctwgr%5E1d9fcb77858bdeaf766756100ec7abdef70b188a%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40425969'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/PTVNewsOfficial/status/2067160581765791843?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2067160581765791843%7Ctwgr%5E1d9fcb77858bdeaf766756100ec7abdef70b188a%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40425969"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>واضح رہے کہ وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے بھی گزشتہ جمعہ کو مالی سال 27-2026 کے لیے 18.77 کھرب روپے کا وفاقی بجٹ پیش کیا تھا، جس میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف اور صنعتوں کی بحالی، سرمایہ کاری کے فروغ اور معیشت کو 4 فیصد ترقی کے ہدف پر گامزن کرنے کے لیے برآمد کنندگان، رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبوں کو ٹیکس مراعات دی گئی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287631</guid>
      <pubDate>Wed, 17 Jun 2026 21:53:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.ytimg.com/vi/JWxq5FzGC9U/maxresdefault_live.jpg" type="image/jpeg" medium="video" height="480" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.ytimg.com/vi/JWxq5FzGC9U/mqdefault_live.jpg"/>
        <media:player url="https://www.youtube.com/watch?v=JWxq5FzGC9U"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
