<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 17 Jun 2026 18:22:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 17 Jun 2026 18:22:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جنوبی کوریا کا شمالی کوریا کے ساتھ سرحدی پٹی پر سویلین ممنوعہ حد منتقل کرنے کا فیصلہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287625/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جنوبی کوریا کے وزیر دفاع آن گیو بیک نے اعلان کیا ہے کہ سیکیورٹی ماحول اور مقامی لوگوں کی سہولت کے پیش نظر شمالی کوریا کے ساتھ سرحدی سویلین ممنوعہ حد کو پیچھے منتقل کیا جائے گا۔ یہ  سویلین کنٹرول لائن اس وقت فوجی حدِ فاصل سے 10 کلومیٹر جنوب میں ہے، جہاں داخلے کے لیے فوجی اجازت نامہ لازمی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئی تبدیلی کے تحت اس لائن کو کم کرکے فوجی حد سے اوسطاً 6 کلومیٹر کے فاصلے پر لایا جائے گا۔ اس علاقے میں تقریباً 20 ہزار لوگ رہتے ہیں جبکہ دیگر افراد کاشتکاری کے لیے آتے ہیں۔ وزارتِ دفاع نے سرحدی علاقوں پر عائد دیگر پابندیاں بھی نرم کی ہیں، جن میں زراعت کے لیے ڈرون اڑانے کے قوانین میں نرمی شامل ہے۔ صدر لی جے میونگ کی حکومت شمالی کوریا کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے، تاہم پیونگ یانگ کا رویہ تاحال جارحانہ ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جنوبی کوریا کے وزیر دفاع آن گیو بیک نے اعلان کیا ہے کہ سیکیورٹی ماحول اور مقامی لوگوں کی سہولت کے پیش نظر شمالی کوریا کے ساتھ سرحدی سویلین ممنوعہ حد کو پیچھے منتقل کیا جائے گا۔ یہ  سویلین کنٹرول لائن اس وقت فوجی حدِ فاصل سے 10 کلومیٹر جنوب میں ہے، جہاں داخلے کے لیے فوجی اجازت نامہ لازمی ہے۔</strong></p>
<p>نئی تبدیلی کے تحت اس لائن کو کم کرکے فوجی حد سے اوسطاً 6 کلومیٹر کے فاصلے پر لایا جائے گا۔ اس علاقے میں تقریباً 20 ہزار لوگ رہتے ہیں جبکہ دیگر افراد کاشتکاری کے لیے آتے ہیں۔ وزارتِ دفاع نے سرحدی علاقوں پر عائد دیگر پابندیاں بھی نرم کی ہیں، جن میں زراعت کے لیے ڈرون اڑانے کے قوانین میں نرمی شامل ہے۔ صدر لی جے میونگ کی حکومت شمالی کوریا کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے، تاہم پیونگ یانگ کا رویہ تاحال جارحانہ ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287625</guid>
      <pubDate>Wed, 17 Jun 2026 15:35:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/171532166213d56.webp" type="image/webp" medium="image" height="330" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/171532166213d56.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
