<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 20:46:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 20:46:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان نے چینی سرمایہ کاروں کے مسائل حل کر لیے، چیئرمین ایس ای سی پی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287604/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;چیئرمین سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی)  کبیر احمد سدھو نے  کہا ہے کہ پاکستان نے چینی اسٹاک مارکیٹ کے سرمایہ کاروں کو درپیش مسائل حل کرلیے ہیں جس سے دونوں دوست ممالک کی کیپٹل مارکیٹس کے درمیان اعتماد میں اضافہ اور سرمایہ کاری تعاون کو مزید فروغ ملے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیشرفت دونوں ممالک کو ایک دوسرے کی اسٹاک مارکیٹس میں ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز (ای ٹی ایفز) کی کراس بارڈر لسٹنگ کیلئے سازگار ماحول فراہم کرنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ای سی پی کے سربراہ نے مزید کہا کہ  پارلیمنٹ انشورنس سیکٹر سے متعلق قوانین میں ترامیم تقریباً مکمل کرچکی ہے، حکومت کا مقصد انشورنس کے شعبے کو وسعت دینا اور اس میں مسابقت پیدا کرنا ہے تاکہ کاروبار اور گھریلو صارفین کو انشورنس پالیسیوں کے انتخاب میں سہولت فراہم کی جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیئرمین ایس ای سی پی نے منگل کو اسٹاک ایکسچینج  کے اپنے پہلے دورے کے دوران کہا کہ کمیشن نے یو ہانگ کے ساتھ ایک خوشگوار ملاقات کی جو سی ایف ایف ای ایکس (چائنا فنانشل فیوچرز ایکسچینج) کے نامزد کردہ نمائندے کے طور پر پی ایس ایکس کے بورڈ میں نان ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کبیر احمد سدھو نے کہا کہ ہم نے اس مسئلے کو حل کرلیا ہے جس کا ہمیں طویل عرصے سے سامنا تھا، ہمیں امید ہے کہ ہم باہمی اعتماد کو فروغ دینے کیلئے کچھ پیشرفت کرسکیں گے اور ہم اس کے لیے قائم کردہ ٹاسک فورس کے ذریعے مزید پیشرفت بھی کرسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجھے امید ہے کہ ہم اس ہدف کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے، یعنی اعتماد میں اضافے کا ہدف، وہ ای ٹی ایفز جن پر ہم نے بات کی اور دیگر امور جن پر اجلاس میں گفتگو ہوئی۔ انہوں نے کہا مزید کہا کہ ان سے متعلق پیشرفت کا ہفتہ وار اور ماہانہ بنیادوں پر قریبی جائزہ لیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ای سی پی کے چیئرمین نے کہا کہ پاکستان کے انشورنس سیکٹر میں مسابقت تقریباً ختم ہو چکی ہے، حالانکہ یہ شعبہ ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرنے کی بڑی صلاحیت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حوالے سے پارلیمنٹ پہلے ہی انشورنس سیکٹر سے متعلق قوانین میں ترامیم کے عمل سے گزر چکی ہے۔ اس اقدام کا مقصد زیادہ انشورنس کمپنیوں بشمول غیر ملکی اور ری انشورنس کمپنیوں کو متوجہ کرنا اور ان کے درمیان مسابقت پیدا کرنا ہے تاکہ وہ انشورنس پالیسی ہولڈرز کو بہتر خدمات فراہم کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پارلیمنٹ اس مرحلے کے بالکل قریب ہے اور جلد ہی یہ ایک قانون کی شکل اختیار کر لے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سے بیرونی کمپنیاں بھی مارکیٹ میں آ سکیں گی، ری انشورنس کمپنیاں بھی داخل ہو سکیں گی جس سے مارکیٹ میں مزید مسابقت پیدا ہوگی اور متنوع مصنوعات متعارف کرائی جا سکیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیئرمین ایس ای سی پی ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے کہا کہ کمیشن کا عزم ہے کہ آنے والے برسوں میں سرمایہ کاروں کی تعداد 6 لاکھ سے بڑھا کر 25 لاکھ تک پہنچائی جائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>چیئرمین سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی)  کبیر احمد سدھو نے  کہا ہے کہ پاکستان نے چینی اسٹاک مارکیٹ کے سرمایہ کاروں کو درپیش مسائل حل کرلیے ہیں جس سے دونوں دوست ممالک کی کیپٹل مارکیٹس کے درمیان اعتماد میں اضافہ اور سرمایہ کاری تعاون کو مزید فروغ ملے گا۔</strong></p>
<p>یہ پیشرفت دونوں ممالک کو ایک دوسرے کی اسٹاک مارکیٹس میں ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز (ای ٹی ایفز) کی کراس بارڈر لسٹنگ کیلئے سازگار ماحول فراہم کرنے کی توقع ہے۔</p>
<p>ایس ای سی پی کے سربراہ نے مزید کہا کہ  پارلیمنٹ انشورنس سیکٹر سے متعلق قوانین میں ترامیم تقریباً مکمل کرچکی ہے، حکومت کا مقصد انشورنس کے شعبے کو وسعت دینا اور اس میں مسابقت پیدا کرنا ہے تاکہ کاروبار اور گھریلو صارفین کو انشورنس پالیسیوں کے انتخاب میں سہولت فراہم کی جاسکے۔</p>
<p>چیئرمین ایس ای سی پی نے منگل کو اسٹاک ایکسچینج  کے اپنے پہلے دورے کے دوران کہا کہ کمیشن نے یو ہانگ کے ساتھ ایک خوشگوار ملاقات کی جو سی ایف ایف ای ایکس (چائنا فنانشل فیوچرز ایکسچینج) کے نامزد کردہ نمائندے کے طور پر پی ایس ایکس کے بورڈ میں نان ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔</p>
<p>کبیر احمد سدھو نے کہا کہ ہم نے اس مسئلے کو حل کرلیا ہے جس کا ہمیں طویل عرصے سے سامنا تھا، ہمیں امید ہے کہ ہم باہمی اعتماد کو فروغ دینے کیلئے کچھ پیشرفت کرسکیں گے اور ہم اس کے لیے قائم کردہ ٹاسک فورس کے ذریعے مزید پیشرفت بھی کرسکتے ہیں۔</p>
<p>مجھے امید ہے کہ ہم اس ہدف کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے، یعنی اعتماد میں اضافے کا ہدف، وہ ای ٹی ایفز جن پر ہم نے بات کی اور دیگر امور جن پر اجلاس میں گفتگو ہوئی۔ انہوں نے کہا مزید کہا کہ ان سے متعلق پیشرفت کا ہفتہ وار اور ماہانہ بنیادوں پر قریبی جائزہ لیا جائے گا۔</p>
<p>ایس ای سی پی کے چیئرمین نے کہا کہ پاکستان کے انشورنس سیکٹر میں مسابقت تقریباً ختم ہو چکی ہے، حالانکہ یہ شعبہ ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرنے کی بڑی صلاحیت رکھتا ہے۔</p>
<p>اس حوالے سے پارلیمنٹ پہلے ہی انشورنس سیکٹر سے متعلق قوانین میں ترامیم کے عمل سے گزر چکی ہے۔ اس اقدام کا مقصد زیادہ انشورنس کمپنیوں بشمول غیر ملکی اور ری انشورنس کمپنیوں کو متوجہ کرنا اور ان کے درمیان مسابقت پیدا کرنا ہے تاکہ وہ انشورنس پالیسی ہولڈرز کو بہتر خدمات فراہم کر سکیں۔</p>
<p>پارلیمنٹ اس مرحلے کے بالکل قریب ہے اور جلد ہی یہ ایک قانون کی شکل اختیار کر لے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سے بیرونی کمپنیاں بھی مارکیٹ میں آ سکیں گی، ری انشورنس کمپنیاں بھی داخل ہو سکیں گی جس سے مارکیٹ میں مزید مسابقت پیدا ہوگی اور متنوع مصنوعات متعارف کرائی جا سکیں گی۔</p>
<p>چیئرمین ایس ای سی پی ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے کہا کہ کمیشن کا عزم ہے کہ آنے والے برسوں میں سرمایہ کاروں کی تعداد 6 لاکھ سے بڑھا کر 25 لاکھ تک پہنچائی جائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287604</guid>
      <pubDate>Wed, 17 Jun 2026 00:19:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سلمان صدیقی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/162348538633865.webp" type="image/webp" medium="image" height="718" width="1600">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/162348538633865.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
