<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 17 Jun 2026 03:08:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 17 Jun 2026 03:08:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>یکم جولائی سے نئی فکسڈ ٹیکس اسکیم، ایک لاکھ چھوٹے دکاندار اور ریٹیلرز فائدہ اٹھائیں گے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287593/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان بھر میں تقریباً ایک لاکھ چھوٹے دکاندار اور ریٹیلرز یکم جولائی 2026 سے نئے فکسڈ ٹیکس اسکیم کے فوائد حاصل کرنے کے لیے فی کس 25 ہزار روپے ادا کریں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)  کے اعلیٰ رکن ڈاکٹر حامد عتیق سرور نے پیر کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بتایا کہ حکومت 35 لاکھ چھوٹے دکانداروں کو اس اسکیم پر غور کرنے اور انہیں ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے قائل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی مرحلے میں ہم تقریباً ایک لاکھ ریٹیلرز کو ہدف بنائیں گے تاکہ وہ اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے کم از کم 25 ہزار روپے ادا کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس اسکیم کے تحت آڈٹ نہیں کیا جائے گا، الا یہ کہ کوئی بڑا تضاد سامنے آئے، مثلاً کسی شخص کے پاس لگژری گاڑیاں یا ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی میں پلاٹس موجود ہوں اور اس کی مالی معلومات سے مطابقت نہ رکھتے ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اسکیم کے تحت ایف بی آر کی جانب سے جس دکان کو مخصوص &lt;strong&gt;نمبر پلیٹ&lt;/strong&gt; جاری کی جائے گی اس پر فیلڈ فارمیشن کا کوئی بھی ٹیکس افسر نہ تو دورہ کر سکے گا اور نہ ہی چھاپہ مار سکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پہلے مرحلے میں ایک لاکھ چھوٹے ریٹیلرز کو ہدف بنائے گی۔ سپر ٹیکس کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ 50 کروڑ روپے سے زائد آمدن رکھنے والے افراد اور اداروں پر اس ٹیکس کے اطلاق سے تقریباً 400 ارب روپے کی محصولات متاثر ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان بھر میں تقریباً ایک لاکھ چھوٹے دکاندار اور ریٹیلرز یکم جولائی 2026 سے نئے فکسڈ ٹیکس اسکیم کے فوائد حاصل کرنے کے لیے فی کس 25 ہزار روپے ادا کریں گے۔</strong></p>
<p>فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)  کے اعلیٰ رکن ڈاکٹر حامد عتیق سرور نے پیر کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بتایا کہ حکومت 35 لاکھ چھوٹے دکانداروں کو اس اسکیم پر غور کرنے اور انہیں ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے قائل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی مرحلے میں ہم تقریباً ایک لاکھ ریٹیلرز کو ہدف بنائیں گے تاکہ وہ اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے کم از کم 25 ہزار روپے ادا کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس اسکیم کے تحت آڈٹ نہیں کیا جائے گا، الا یہ کہ کوئی بڑا تضاد سامنے آئے، مثلاً کسی شخص کے پاس لگژری گاڑیاں یا ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی میں پلاٹس موجود ہوں اور اس کی مالی معلومات سے مطابقت نہ رکھتے ہوں۔</p>
<p>اس اسکیم کے تحت ایف بی آر کی جانب سے جس دکان کو مخصوص <strong>نمبر پلیٹ</strong> جاری کی جائے گی اس پر فیلڈ فارمیشن کا کوئی بھی ٹیکس افسر نہ تو دورہ کر سکے گا اور نہ ہی چھاپہ مار سکے گا۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پہلے مرحلے میں ایک لاکھ چھوٹے ریٹیلرز کو ہدف بنائے گی۔ سپر ٹیکس کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ 50 کروڑ روپے سے زائد آمدن رکھنے والے افراد اور اداروں پر اس ٹیکس کے اطلاق سے تقریباً 400 ارب روپے کی محصولات متاثر ہوں گی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287593</guid>
      <pubDate>Tue, 16 Jun 2026 16:30:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/16162847e47c8c1.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/16162847e47c8c1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
