<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 15:18:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 15:18:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بجٹ میں کمرشل امپورٹرز کی اہم تجاویز نظرانداز، پی سی ڈی ایم اے برہم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287577/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کیمیکلز اینڈ ڈائز مرچنٹس ایسوسی ایشن کے چیئرمین سلیم ولی محمد نے وفاقی بجٹ پر شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے کمرشل امپورٹرز کی جانب سے پیش کی گئی اہم تجاویز کو  نظر انداز کردیا جس سے تجارتی حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے ۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے بیان میں سلیم ولی محمد نے کہا کہ پی سی ڈی ایم اے  نے ای ایف ایس کے خاتمے کا مطالبہ کیا تھا لیکن حکومت نے اسے برقرار رکھا جس کے باعث کمرشل امپورٹرز کو درپیش مسائل مزید بڑھ جائیں گے ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ بجٹ میں صنعتی اور کمرشل درآمد کنندگان کے درمیان موجود امتیازی سلوک ختم کرنے کے لئے بھی کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے نشاندہی کی کہ صنعت کی آڑ میں خام مال اور دیگر اشیاء درآمد کی جاتی ہیں اور بعد ازاں انہیں مقامی مارکیٹ میں فروخت کردیا جاتا ہے جس سے وہ کمرشل امپورٹرز شدید متاثر ہوتے ہیں جو تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے بھاری ڈیوٹیز اور ٹیکس ادا کرکے سامان درآمد کرتے ہیں۔ &lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ عمل نہ صرف کمرشل درآمد کنندگان کے لیے بھاری مالی نقصان کا باعث بنتا ہے بلکہ قومی خزانے کو بھی انتہائی ضروری ریونیو سے محروم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی سی ڈی ایم اے کے چیئرمین کا موقف ہے کہ جہاں کمرشل درآمد کنندگان پر تمام ٹیکس اور ڈیوٹی کی ذمہ داریوں کی تعمیل لازمی ہے، وہیں مختلف چھوٹ اور رعایتوں سے فائدہ اٹھانے والے صنعتی درآمد کنندگان اکثر بغیر کسی مناسب نگرانی کے کام کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایک موثر نگرانی کے نظام کا فقدان ان سہولیات کے غلط استعمال کی اجازت دیتا ہے جو صرف صنعتی پیداوار کیلئے مختص تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بجٹ کے ٹیکس اقدامات پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے کو تو ریلیف دیا گیا ہے لیکن وسیع تر کاروباری برادری اور تجارتی شعبے کو نہ ہونے کے برابر مدد ملی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے نشاندہی کی کہ کاروبار پر زیادہ ٹیکس کی شرح اور مجموعی ٹیکس کا بوجھ بڑی حد تک جوں کا توں برقرار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ریمارکس دیے کہ یہ بجٹ تاجروں کے لیے پرکشش نہیں  اور اس میں تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے درکار مراعات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کیمیکلز اینڈ ڈائز مرچنٹس ایسوسی ایشن کے چیئرمین سلیم ولی محمد نے وفاقی بجٹ پر شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے کمرشل امپورٹرز کی جانب سے پیش کی گئی اہم تجاویز کو  نظر انداز کردیا جس سے تجارتی حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے ۔</strong></p>
<p>اپنے بیان میں سلیم ولی محمد نے کہا کہ پی سی ڈی ایم اے  نے ای ایف ایس کے خاتمے کا مطالبہ کیا تھا لیکن حکومت نے اسے برقرار رکھا جس کے باعث کمرشل امپورٹرز کو درپیش مسائل مزید بڑھ جائیں گے ۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ بجٹ میں صنعتی اور کمرشل درآمد کنندگان کے درمیان موجود امتیازی سلوک ختم کرنے کے لئے بھی کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا گیا۔</p>
<p>انہوں نے نشاندہی کی کہ صنعت کی آڑ میں خام مال اور دیگر اشیاء درآمد کی جاتی ہیں اور بعد ازاں انہیں مقامی مارکیٹ میں فروخت کردیا جاتا ہے جس سے وہ کمرشل امپورٹرز شدید متاثر ہوتے ہیں جو تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے بھاری ڈیوٹیز اور ٹیکس ادا کرکے سامان درآمد کرتے ہیں۔ </p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ عمل نہ صرف کمرشل درآمد کنندگان کے لیے بھاری مالی نقصان کا باعث بنتا ہے بلکہ قومی خزانے کو بھی انتہائی ضروری ریونیو سے محروم کرتا ہے۔</p>
<p>پی سی ڈی ایم اے کے چیئرمین کا موقف ہے کہ جہاں کمرشل درآمد کنندگان پر تمام ٹیکس اور ڈیوٹی کی ذمہ داریوں کی تعمیل لازمی ہے، وہیں مختلف چھوٹ اور رعایتوں سے فائدہ اٹھانے والے صنعتی درآمد کنندگان اکثر بغیر کسی مناسب نگرانی کے کام کر رہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایک موثر نگرانی کے نظام کا فقدان ان سہولیات کے غلط استعمال کی اجازت دیتا ہے جو صرف صنعتی پیداوار کیلئے مختص تھیں۔</p>
<p>بجٹ کے ٹیکس اقدامات پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے کو تو ریلیف دیا گیا ہے لیکن وسیع تر کاروباری برادری اور تجارتی شعبے کو نہ ہونے کے برابر مدد ملی ہے۔</p>
<p>انہوں نے نشاندہی کی کہ کاروبار پر زیادہ ٹیکس کی شرح اور مجموعی ٹیکس کا بوجھ بڑی حد تک جوں کا توں برقرار ہے۔</p>
<p>انہوں نے ریمارکس دیے کہ یہ بجٹ تاجروں کے لیے پرکشش نہیں  اور اس میں تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے درکار مراعات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔</p>
<p><strong>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287577</guid>
      <pubDate>Tue, 16 Jun 2026 12:21:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/1612161376cae33.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/1612161376cae33.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
