<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 16 Jun 2026 14:18:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 16 Jun 2026 14:18:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکہ ایران مفاہمت، علاقائی استحکام سے سرمایہ کاری و تجارت میں اضافہ ہوگا، محمد اورنگزیب</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287570/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے منگل کو کہا ہے کہ  مالی سال 27-2026 کیلئے اپنی معاشی منصوبہ بندی اور بجٹ فریم ورک میں ممکنہ جغرافیائی سیاسی اور بیرونی خطرات کو شامل کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمت کے بعد خطے میں بہتر ہوتی ہوئی صورتحال سرمایہ کاری، تجارت اور معاشی سرگرمیوں کے لیے زیادہ سازگار ماحول پیدا کر سکتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر خزانہ نے حکومت کی یہ تجزیاتی رپورٹ برطانیہ کے پارلیمانی انڈر سیکریٹری آف اسٹیٹ برائے مشرقِ وسطیٰ، افغانستان اور پاکستان  ہیمش فالکنر کے ساتھ ملاقات کے دوران پیش کی جو وزارتِ خزانہ میں ان سے ملاقات کے لیے آئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری بیان کے مطابق ہیمش فالکنر کے ہمراہ پاکستان میں تعینات برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ بھی تھیں۔ ملاقات کے دوران منسٹریل پرائیویٹ سیکرٹری ایلس ڈفی، برطانوی ہائی کمیشن کے سیکنڈ سیکرٹری (اکانومی) سربجیت سنگھ اور وزارت خزانہ کے سینئر حکام بھی موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں خطے کی صورتحال، پاکستان کے میکرو اکنامک آؤٹ لک، جاری ساختی اصلاحات، مالیاتی ترجیحات، ادارہ جاتی جدیدکاری اور پاکستان و برطانیہ کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے مواقع پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے وفد کو حکومت کے اقتصادی اصلاحاتی ایجنڈے سے آگاہ کیا اور وفاقی بجٹ 2026-27 میں شامل اہم ترجیحات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت میکرو اکنامک استحکام کو برقرار رکھنے، اقتصادی بحالی کو جاری رکھنے، ساختی اصلاحات کو تیز کرنے اور جامع و پائیدار ترقی کے لیے سازگار حالات پیدا کرنے پر توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گفتگو کے دوران وزیر خزانہ نے حالیہ علاقائی پیش رفتوں کا بھی حوالہ دیا جن میں امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمت کے بعد کشیدگی میں کمی بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مذاکرات، کشیدگی میں کمی اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے پاکستان کی مستقل حمایت پر زور دیا اور اس بات کو اجاگر کیا کہ پاکستان نے علاقائی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ابتدائی مرحلے سے ہی فعال کردار ادا کیا ہے ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ خطے میں طویل عدم استحکام ابھرتی ہوئی معیشتوں میں معاشی اعتماد، توانائی منڈیوں، سپلائی چینز اور ترقی کے امکانات پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت کی اقتصادی منصوبہ بندی اور مالیاتی مفروضے ممکنہ بیرونی اور جغرافیائی سیاسی خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیے گئے ہیں جن میں طویل عرصے تک جاری رہنے والی علاقائی غیر یقینی صورتحال کے ممکنہ بالواسطہ اثرات بھی شامل ہیں۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ خطے میں بہتر ہوتی ہوئی صورتحال سرمایہ کاری، تجارت اور معاشی سرگرمیوں کے لیے زیادہ سازگار حالات پیدا کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے وفد کو پاکستان کی جاری مالی اور ادارہ جاتی اصلاحات سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت محصولات میں اضافہ، ٹیکس وصولی کے نظام کو مضبوط بنانے، لیکیجز کو کم کرنے اور ٹیکس انتظامیہ کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے اقدامات کررہی ہے۔ ان اقدامات میں ٹیکنالوجی کے زیادہ استعمال، ڈیٹا انٹیگریشن، مرکزی نوعیت کی پروسیسنگ اور ڈیجیٹل انوائسنگ شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ اصلاحاتی ایجنڈا صرف محصولات کی کارکردگی بہتر بنانے تک محدود نہیں بلکہ اس کا مقصد شفافیت کو مضبوط کرنا، صوابدیدی مداخلت کو کم کرنا اور شہریوں، کاروباری طبقے اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کی بحالی بھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گفتگو میں حکومت کے وسیع تر ساختی اصلاحاتی پروگرام پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا جس میں نجکاری، سرکاری اداروں کی تنظیمِ نو ، عوامی اخراجات کی مؤثر کارکردگی کو بہتر بنانا اور ڈیجیٹل گورننس و ہدفی سماجی تحفظ کے نظام کو وسعت دینا شامل ہے۔ انہوں نے ٹیکنالوجی پر مبنی خدمات کی فراہمی اور عوامی وسائل کی زیادہ مؤثر تقسیم کی جانب ہونے والی پیش رفت کو بھی اجاگر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہیمش فالکنر نے حکومت کے اقتصادی اصلاحات کے عزم کو سراہا اور پاکستان کے جاری وسیع اور سنجیدہ تبدیلی کے ایجنڈے کی اہمیت اور وسعت کو تسلیم کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اصلاحات کے مسلسل نفاذ، ادارہ جاتی مضبوطی اور معاشی مسابقت و حکمرانی کو بہتر بنانے کے لیے جاری کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ برطانیہ باہمی اقتصادی مفادات کے حامل شعبوں میں مسلسل روابط اور تعاون جاری رکھنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں فریقین نے پائیدار اقتصادی ترقی، ادارہ جاتی ترقی اور علاقائی استحکام کی حمایت کے لیے قریبی روابط برقرار رکھنے اور پاکستان و برطانیہ کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے منگل کو کہا ہے کہ  مالی سال 27-2026 کیلئے اپنی معاشی منصوبہ بندی اور بجٹ فریم ورک میں ممکنہ جغرافیائی سیاسی اور بیرونی خطرات کو شامل کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمت کے بعد خطے میں بہتر ہوتی ہوئی صورتحال سرمایہ کاری، تجارت اور معاشی سرگرمیوں کے لیے زیادہ سازگار ماحول پیدا کر سکتی ہے۔</strong></p>
<p>وفاقی وزیر خزانہ نے حکومت کی یہ تجزیاتی رپورٹ برطانیہ کے پارلیمانی انڈر سیکریٹری آف اسٹیٹ برائے مشرقِ وسطیٰ، افغانستان اور پاکستان  ہیمش فالکنر کے ساتھ ملاقات کے دوران پیش کی جو وزارتِ خزانہ میں ان سے ملاقات کے لیے آئے تھے۔</p>
<p>سرکاری بیان کے مطابق ہیمش فالکنر کے ہمراہ پاکستان میں تعینات برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ بھی تھیں۔ ملاقات کے دوران منسٹریل پرائیویٹ سیکرٹری ایلس ڈفی، برطانوی ہائی کمیشن کے سیکنڈ سیکرٹری (اکانومی) سربجیت سنگھ اور وزارت خزانہ کے سینئر حکام بھی موجود تھے۔</p>
<p>اجلاس میں خطے کی صورتحال، پاکستان کے میکرو اکنامک آؤٹ لک، جاری ساختی اصلاحات، مالیاتی ترجیحات، ادارہ جاتی جدیدکاری اور پاکستان و برطانیہ کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے مواقع پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے وفد کو حکومت کے اقتصادی اصلاحاتی ایجنڈے سے آگاہ کیا اور وفاقی بجٹ 2026-27 میں شامل اہم ترجیحات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت میکرو اکنامک استحکام کو برقرار رکھنے، اقتصادی بحالی کو جاری رکھنے، ساختی اصلاحات کو تیز کرنے اور جامع و پائیدار ترقی کے لیے سازگار حالات پیدا کرنے پر توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہے۔</p>
<p>گفتگو کے دوران وزیر خزانہ نے حالیہ علاقائی پیش رفتوں کا بھی حوالہ دیا جن میں امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمت کے بعد کشیدگی میں کمی بھی شامل ہے۔</p>
<p>انہوں نے مذاکرات، کشیدگی میں کمی اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے پاکستان کی مستقل حمایت پر زور دیا اور اس بات کو اجاگر کیا کہ پاکستان نے علاقائی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ابتدائی مرحلے سے ہی فعال کردار ادا کیا ہے ۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ خطے میں طویل عدم استحکام ابھرتی ہوئی معیشتوں میں معاشی اعتماد، توانائی منڈیوں، سپلائی چینز اور ترقی کے امکانات پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت کی اقتصادی منصوبہ بندی اور مالیاتی مفروضے ممکنہ بیرونی اور جغرافیائی سیاسی خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیے گئے ہیں جن میں طویل عرصے تک جاری رہنے والی علاقائی غیر یقینی صورتحال کے ممکنہ بالواسطہ اثرات بھی شامل ہیں۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ خطے میں بہتر ہوتی ہوئی صورتحال سرمایہ کاری، تجارت اور معاشی سرگرمیوں کے لیے زیادہ سازگار حالات پیدا کرتی ہے۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے وفد کو پاکستان کی جاری مالی اور ادارہ جاتی اصلاحات سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت محصولات میں اضافہ، ٹیکس وصولی کے نظام کو مضبوط بنانے، لیکیجز کو کم کرنے اور ٹیکس انتظامیہ کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے اقدامات کررہی ہے۔ ان اقدامات میں ٹیکنالوجی کے زیادہ استعمال، ڈیٹا انٹیگریشن، مرکزی نوعیت کی پروسیسنگ اور ڈیجیٹل انوائسنگ شامل ہیں۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ اصلاحاتی ایجنڈا صرف محصولات کی کارکردگی بہتر بنانے تک محدود نہیں بلکہ اس کا مقصد شفافیت کو مضبوط کرنا، صوابدیدی مداخلت کو کم کرنا اور شہریوں، کاروباری طبقے اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کی بحالی بھی ہے۔</p>
<p>گفتگو میں حکومت کے وسیع تر ساختی اصلاحاتی پروگرام پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا جس میں نجکاری، سرکاری اداروں کی تنظیمِ نو ، عوامی اخراجات کی مؤثر کارکردگی کو بہتر بنانا اور ڈیجیٹل گورننس و ہدفی سماجی تحفظ کے نظام کو وسعت دینا شامل ہے۔ انہوں نے ٹیکنالوجی پر مبنی خدمات کی فراہمی اور عوامی وسائل کی زیادہ مؤثر تقسیم کی جانب ہونے والی پیش رفت کو بھی اجاگر کیا۔</p>
<p>ہیمش فالکنر نے حکومت کے اقتصادی اصلاحات کے عزم کو سراہا اور پاکستان کے جاری وسیع اور سنجیدہ تبدیلی کے ایجنڈے کی اہمیت اور وسعت کو تسلیم کیا۔</p>
<p>انہوں نے اصلاحات کے مسلسل نفاذ، ادارہ جاتی مضبوطی اور معاشی مسابقت و حکمرانی کو بہتر بنانے کے لیے جاری کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ برطانیہ باہمی اقتصادی مفادات کے حامل شعبوں میں مسلسل روابط اور تعاون جاری رکھنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔</p>
<p>دونوں فریقین نے پائیدار اقتصادی ترقی، ادارہ جاتی ترقی اور علاقائی استحکام کی حمایت کے لیے قریبی روابط برقرار رکھنے اور پاکستان و برطانیہ کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287570</guid>
      <pubDate>Tue, 16 Jun 2026 11:39:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/16112530dd7116a.webp" type="image/webp" medium="image" height="741" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/16112530dd7116a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
