<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets - Energy</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 16 Jun 2026 13:10:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 16 Jun 2026 13:10:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا ایران امن معاہدے پر تشویش، خام تیل کی قیمتیں دوبارہ بڑھ گئیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287560/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ابتدائی معاہدے کے باوجود تیل کی قیمتوں میں منگل کو دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آیا، کیونکہ سرمایہ کار معاہدے کی تفصیلات کے فقدان اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل بحال ہونے میں ممکنہ تاخیر پر تشویش کا شکار ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ خام تیل کے فیوچرز 26 سینٹ یا 0.3 فیصد اضافے کے ساتھ 83.42 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 46 سینٹ یا 0.3 فیصد بڑھ کر 81.12 ڈالر فی بیرل ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پیر کو تیل کی قیمتیں تقریباً 5 فیصد گر کر 4 مارچ کے بعد کم ترین سطح پر بند ہوئی تھیں۔ اس کمی کی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ اعلان تھا کہ امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ ایران نے جنگ کے دوران آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا، جو عالمی سطح پر سمندری راستے سے منتقل ہونے والے تقریباً 20 فیصد حصے کے تیل کی گزرگاہ سمجھی جاتی ہے۔ اس تنازع کے باعث یومیہ تقریباً 14 ملین بیرل تیل کی پیداوار بھی متاثر ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ معاہدے کے اعلان نے مارکیٹ میں امید پیدا کی ہے، تاہم اس کی مکمل تفصیلات ابھی تک جاری نہیں کی گئیں اور مستقل جنگ بندی پر بھی حتمی اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق معاہدہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع کی راہ ہموار کرے گا تاکہ ایران کے جوہری پروگرام سمیت دیگر پیچیدہ معاملات پر مذاکرات جاری رہ سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اس معاہدے کو لڑائی روکنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ پائیدار امن کے لیے حتمی معاہدہ ابھی تشکیل نہیں پا سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ کشیدگی میں کمی آئی ہے، لیکن بارودی سرنگوں کی صفائی، بحری انشورنس کی بحالی، جہاز رانی کی سرگرمیوں کی بحفاظت واپسی اور متاثرہ توانائی انفراسٹرکچر کی مرمت میں وقت لگے گا، جس کے باعث تیل کی سپلائی مکمل طور پر معمول پر آنے میں تاخیر ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ابتدائی معاہدے کے باوجود تیل کی قیمتوں میں منگل کو دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آیا، کیونکہ سرمایہ کار معاہدے کی تفصیلات کے فقدان اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل بحال ہونے میں ممکنہ تاخیر پر تشویش کا شکار ہیں۔</strong></p>
<p>برینٹ خام تیل کے فیوچرز 26 سینٹ یا 0.3 فیصد اضافے کے ساتھ 83.42 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 46 سینٹ یا 0.3 فیصد بڑھ کر 81.12 ڈالر فی بیرل ہو گیا۔</p>
<p>یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پیر کو تیل کی قیمتیں تقریباً 5 فیصد گر کر 4 مارچ کے بعد کم ترین سطح پر بند ہوئی تھیں۔ اس کمی کی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ اعلان تھا کہ امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط ہو چکے ہیں۔</p>
<p>یاد رہے کہ ایران نے جنگ کے دوران آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا، جو عالمی سطح پر سمندری راستے سے منتقل ہونے والے تقریباً 20 فیصد حصے کے تیل کی گزرگاہ سمجھی جاتی ہے۔ اس تنازع کے باعث یومیہ تقریباً 14 ملین بیرل تیل کی پیداوار بھی متاثر ہوئی تھی۔</p>
<p>اگرچہ معاہدے کے اعلان نے مارکیٹ میں امید پیدا کی ہے، تاہم اس کی مکمل تفصیلات ابھی تک جاری نہیں کی گئیں اور مستقل جنگ بندی پر بھی حتمی اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق معاہدہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع کی راہ ہموار کرے گا تاکہ ایران کے جوہری پروگرام سمیت دیگر پیچیدہ معاملات پر مذاکرات جاری رہ سکیں۔</p>
<p>ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اس معاہدے کو لڑائی روکنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ پائیدار امن کے لیے حتمی معاہدہ ابھی تشکیل نہیں پا سکا۔</p>
<p>مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ کشیدگی میں کمی آئی ہے، لیکن بارودی سرنگوں کی صفائی، بحری انشورنس کی بحالی، جہاز رانی کی سرگرمیوں کی بحفاظت واپسی اور متاثرہ توانائی انفراسٹرکچر کی مرمت میں وقت لگے گا، جس کے باعث تیل کی سپلائی مکمل طور پر معمول پر آنے میں تاخیر ہو سکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287560</guid>
      <pubDate>Tue, 16 Jun 2026 09:11:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/1609102335ed1d6.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/1609102335ed1d6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
