<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets - Energy</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 15 Jun 2026 13:36:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 15 Jun 2026 13:36:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا ایران امن معاہدے پر پیش رفت، خام تیل کی قیمتیں 4 فیصد گر گئیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287520/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں پیر کے روز مارچ کے بعد اپنی کم ترین سطح پر آگئیں، کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے نائب وزیر خارجہ نے اعلان کیا کہ دونوں ممالک جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنے کے لیے ابتدائی معاہدے پر پہنچ گئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ خام تیل کے فیوچرز 3.58 ڈالر یا 4.1 فیصد کمی کے بعد 83.75 ڈالر فی بیرل تک گر گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 4.01 ڈالر یا 4.72 فیصد کمی کے ساتھ 80.87 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔ جمعہ کے روز بھی دونوں معاہدوں کی قیمتوں میں 3 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان جس نے اس تنازع میں ثالثی کا کردار ادا کیا کے وزیراعظم شہباز شریف کے مطابق امریکا اور ایران جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ٹرمپ نے اتوار کو کہا کہ آبنائے ہرمز بغیر کسی فیس کے بحری آمدورفت کے لیے کھول دی جائے گی، جبکہ ایرانی بندرگاہوں پر عائد امریکی بحری ناکہ بندی بھی ختم کر دی جائے گی۔ ایرانی خبر رساں ادارے مہر کے مطابق مجوزہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کو 30 دن کے اندر ایرانی انتظامات کے تحت دوبارہ کھول دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں میں شامل جغرافیائی سیاسی خطرات کا عنصر تیزی سے ختم ہو رہا ہے کیونکہ سرمایہ کار تیل کی سپلائی بحال ہونے کی توقع کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث گزشتہ تین ماہ کے دوران عالمی منڈی لاکھوں بیرل تیل اور گیس کی فراہمی سے محروم رہی۔ یہ آبی گزرگاہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد حصے کی تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) سپلائی کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی پر مشتمل ای4 ممالک نے عندیہ دیا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام میں پیش رفت کی صورت میں اس پر عائد پابندیاں نرم کی جا سکتی ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق آئندہ 60 روزہ مذاکراتی دور اور جوہری معاملات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث تیل کی قیمتوں میں مزید بڑی کمی کا امکان فی الحال محدود ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں پیر کے روز مارچ کے بعد اپنی کم ترین سطح پر آگئیں، کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے نائب وزیر خارجہ نے اعلان کیا کہ دونوں ممالک جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنے کے لیے ابتدائی معاہدے پر پہنچ گئے ہیں۔</strong></p>
<p>برینٹ خام تیل کے فیوچرز 3.58 ڈالر یا 4.1 فیصد کمی کے بعد 83.75 ڈالر فی بیرل تک گر گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 4.01 ڈالر یا 4.72 فیصد کمی کے ساتھ 80.87 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔ جمعہ کے روز بھی دونوں معاہدوں کی قیمتوں میں 3 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔</p>
<p>پاکستان جس نے اس تنازع میں ثالثی کا کردار ادا کیا کے وزیراعظم شہباز شریف کے مطابق امریکا اور ایران جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کریں گے۔</p>
<p>صدر ٹرمپ نے اتوار کو کہا کہ آبنائے ہرمز بغیر کسی فیس کے بحری آمدورفت کے لیے کھول دی جائے گی، جبکہ ایرانی بندرگاہوں پر عائد امریکی بحری ناکہ بندی بھی ختم کر دی جائے گی۔ ایرانی خبر رساں ادارے مہر کے مطابق مجوزہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کو 30 دن کے اندر ایرانی انتظامات کے تحت دوبارہ کھول دیا جائے گا۔</p>
<p>مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں میں شامل جغرافیائی سیاسی خطرات کا عنصر تیزی سے ختم ہو رہا ہے کیونکہ سرمایہ کار تیل کی سپلائی بحال ہونے کی توقع کر رہے ہیں۔</p>
<p>واضح رہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث گزشتہ تین ماہ کے دوران عالمی منڈی لاکھوں بیرل تیل اور گیس کی فراہمی سے محروم رہی۔ یہ آبی گزرگاہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد حصے کی تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) سپلائی کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی پر مشتمل ای4 ممالک نے عندیہ دیا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام میں پیش رفت کی صورت میں اس پر عائد پابندیاں نرم کی جا سکتی ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق آئندہ 60 روزہ مذاکراتی دور اور جوہری معاملات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث تیل کی قیمتوں میں مزید بڑی کمی کا امکان فی الحال محدود ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287520</guid>
      <pubDate>Mon, 15 Jun 2026 09:41:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/150929182b8707e.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/150929182b8707e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
