<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 14 Jun 2026 17:47:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 14 Jun 2026 17:47:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ضبط شدہ سامان کی نیلامی آؤٹ سورس کرنے کی کسٹمز تجویز منظور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287505/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیرِ صدارت قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں فنانس بل 2026 کے تحت ضبط شدہ سامان کی نیلامی کا عمل تھرڈ پارٹی (نجی شعبے) کو آؤٹ سورس کرنے کی کسٹمز تجویز کی منظوری دے دی گئی۔ ایف بی آر حکام کا مؤقف تھا کہ نیلامی کا کام کسٹمز افسران کے بجائے نجی شعبے کو کرنا چاہیے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب، وزیرِ مملکت بلال کیانی اور سینیٹر شیری رحمان سمیت دیگر ارکان نے شرکت کی۔ چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ ہر سال بجٹ میں نئے تجربات کیے جاتے ہیں اور گزشتہ دس سالوں میں کی گئی کئی تبدیلیاں بعد میں واپس لی گئیں۔ انہوں نے درآمدی سامان کی کلیئرنس کے لیے ایک مقررہ وقت طے کرنے کی تجویز کی حمایت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دورانِ اجلاس ایف بی آر حکام نے بتایا کہ وزیرِ اعظم نے ٹیکس پالیسی کو ٹیکس انتظامیہ سے الگ رکھنے کے لیے  ٹیکس پالیسی آفس قائم کیا ہے۔ سینیٹر عبدالقادر نے سپر ٹیکس کی وجہ سے سرمایہ کاری میں کمی پر تشویش کا اظہار کیا ، جبکہ سینیٹر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ صوبوں کی ٹیکس وصولی ایف بی آر سے بہتر ہو رہی ہے۔ کمیٹی نے ایف بی آر کو کسٹمز قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانے عائد کرنے کا اختیار دینے کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے یہ اختیار وفاقی وزیرِ خزانہ کے پاس برقرار رکھنے کی تائید کی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیرِ صدارت قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں فنانس بل 2026 کے تحت ضبط شدہ سامان کی نیلامی کا عمل تھرڈ پارٹی (نجی شعبے) کو آؤٹ سورس کرنے کی کسٹمز تجویز کی منظوری دے دی گئی۔ ایف بی آر حکام کا مؤقف تھا کہ نیلامی کا کام کسٹمز افسران کے بجائے نجی شعبے کو کرنا چاہیے۔</strong></p>
<p>اجلاس میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب، وزیرِ مملکت بلال کیانی اور سینیٹر شیری رحمان سمیت دیگر ارکان نے شرکت کی۔ چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ ہر سال بجٹ میں نئے تجربات کیے جاتے ہیں اور گزشتہ دس سالوں میں کی گئی کئی تبدیلیاں بعد میں واپس لی گئیں۔ انہوں نے درآمدی سامان کی کلیئرنس کے لیے ایک مقررہ وقت طے کرنے کی تجویز کی حمایت کی۔</p>
<p>دورانِ اجلاس ایف بی آر حکام نے بتایا کہ وزیرِ اعظم نے ٹیکس پالیسی کو ٹیکس انتظامیہ سے الگ رکھنے کے لیے  ٹیکس پالیسی آفس قائم کیا ہے۔ سینیٹر عبدالقادر نے سپر ٹیکس کی وجہ سے سرمایہ کاری میں کمی پر تشویش کا اظہار کیا ، جبکہ سینیٹر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ صوبوں کی ٹیکس وصولی ایف بی آر سے بہتر ہو رہی ہے۔ کمیٹی نے ایف بی آر کو کسٹمز قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانے عائد کرنے کا اختیار دینے کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے یہ اختیار وفاقی وزیرِ خزانہ کے پاس برقرار رکھنے کی تائید کی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287505</guid>
      <pubDate>Sun, 14 Jun 2026 13:30:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/14132459aacf640.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/14132459aacf640.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
