<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 14 Jun 2026 14:50:42 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 14 Jun 2026 14:50:42 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا اور ایران معاہدے پر دستخط کے وقت پر غیر یقینی صورتحال</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287491/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی اور پاکستانی قیادت نے امریکا اور ایران کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے مجوزہ فریم ورک معاہدے پر اتوار کو دستخط کی امید ظاہر کی ہے، تاہم ایران نے معاہدے کے وقت کے بارے میں شکوک کا اظہار کیا ہے جبکہ ملک کے سخت گیر حلقوں کی جانب سے اس کی مخالفت بھی سامنے آئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کے ساتھ فریم ورک معاہدے پر اتوار کو دستخط متوقع ہیں۔ دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ دونوں ممالک امن معاہدے کے بنیادی خدوخال پر متفق ہو چکے ہیں اور پاکستان اتوار کو الیکٹرانک دستخطوں کی تیاری کر رہا ہے، جس کے بعد آئندہ ہفتے تکنیکی سطح کے مذاکرات ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ایران نے اتوار کو دستخط ہونے کی تصدیق نہیں کی۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ معاہدے کے وقت کے بارے میں قیاس آرائی مناسب نہیں، تاہم ان کے بقول دستخط کل نہیں بلکہ آنے والے دنوں میں ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ فریم ورک معاہدے پر دستخط کے بعد آبنائے ہرمز فوری طور پر تمام ممالک کے لیے کھول دی جائے گی۔ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کی ایک اہم گزرگاہ ہے، جہاں سے جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی گزرتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ایران میں سخت گیر حلقوں نے مجوزہ معاہدے کے خلاف مظاہرے کیے۔ تہران اور دیگر شہروں میں مظاہرین نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے خلاف نعرے بازی کی اور امریکا کے ساتھ مفاہمت کی مخالفت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق مجوزہ مفاہمتی یادداشت کے تحت ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولے گا جبکہ امریکا اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرے گا۔ اس کے بدلے میں امریکا ایران کے منجمد اثاثوں کی اربوں ڈالر مالیت کی رقم جاری کرنے اور تیل برآمدات پر بعض پابندیوں میں نرمی پر غور کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات بعد کے مرحلے میں 60 روزہ مدت کے دوران کیے جائیں گے، جبکہ امریکا کا مؤقف ہے کہ حتمی معاہدہ ایران کے جوہری پروگرام کے خاتمے اور افزودہ یورینیم کے ذخائر کے خاتمے کی راہ ہموار کرے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی اور پاکستانی قیادت نے امریکا اور ایران کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے مجوزہ فریم ورک معاہدے پر اتوار کو دستخط کی امید ظاہر کی ہے، تاہم ایران نے معاہدے کے وقت کے بارے میں شکوک کا اظہار کیا ہے جبکہ ملک کے سخت گیر حلقوں کی جانب سے اس کی مخالفت بھی سامنے آئی ہے۔</strong></p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کے ساتھ فریم ورک معاہدے پر اتوار کو دستخط متوقع ہیں۔ دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ دونوں ممالک امن معاہدے کے بنیادی خدوخال پر متفق ہو چکے ہیں اور پاکستان اتوار کو الیکٹرانک دستخطوں کی تیاری کر رہا ہے، جس کے بعد آئندہ ہفتے تکنیکی سطح کے مذاکرات ہوں گے۔</p>
<p>تاہم ایران نے اتوار کو دستخط ہونے کی تصدیق نہیں کی۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ معاہدے کے وقت کے بارے میں قیاس آرائی مناسب نہیں، تاہم ان کے بقول دستخط کل نہیں بلکہ آنے والے دنوں میں ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ فریم ورک معاہدے پر دستخط کے بعد آبنائے ہرمز فوری طور پر تمام ممالک کے لیے کھول دی جائے گی۔ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کی ایک اہم گزرگاہ ہے، جہاں سے جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی گزرتی تھی۔</p>
<p>دوسری جانب ایران میں سخت گیر حلقوں نے مجوزہ معاہدے کے خلاف مظاہرے کیے۔ تہران اور دیگر شہروں میں مظاہرین نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے خلاف نعرے بازی کی اور امریکا کے ساتھ مفاہمت کی مخالفت کی۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق مجوزہ مفاہمتی یادداشت کے تحت ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولے گا جبکہ امریکا اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرے گا۔ اس کے بدلے میں امریکا ایران کے منجمد اثاثوں کی اربوں ڈالر مالیت کی رقم جاری کرنے اور تیل برآمدات پر بعض پابندیوں میں نرمی پر غور کرے گا۔</p>
<p>رپورٹس کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات بعد کے مرحلے میں 60 روزہ مدت کے دوران کیے جائیں گے، جبکہ امریکا کا مؤقف ہے کہ حتمی معاہدہ ایران کے جوہری پروگرام کے خاتمے اور افزودہ یورینیم کے ذخائر کے خاتمے کی راہ ہموار کرے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287491</guid>
      <pubDate>Sun, 14 Jun 2026 11:13:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/14110901a3009b0.webp" type="image/webp" medium="image" height="427" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/14110901a3009b0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
