<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 14 Jun 2026 13:41:30 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 14 Jun 2026 13:41:30 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیراعظم کو 24 گھنٹوں میں امریکا ایران امن معاہدے کی امید</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287490/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدہ آئندہ 24 گھنٹوں میں حتمی شکل اختیار کر سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ ہم امن معاہدے کے پہلے سے کہیں زیادہ قریب ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان معاہدے پر الیکٹرانک دستخطوں کی تیاری کر رہا ہے، جس کے بعد تکنیکی سطح کے مذاکرات کا مرحلہ شروع ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے مذاکراتی عمل سے وابستگی پر امریکا اور ایران کا شکریہ ادا کیا اور علاقائی شراکت دار ممالک کے تعاون کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ یہ تاریخی امن معاہدہ خطے میں دیرپا امن کی مضبوط بنیاد ثابت ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ کے روز بھی وزیراعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ معاہدے کا حتمی اور متفقہ متن تیار ہو چکا ہے اور اسلام آباد دونوں فریقوں کے ساتھ مل کر آئندہ مراحل کو مکمل کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی جمعہ کو اسی نوعیت کے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مجوزہ معاہدے کو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت قرار دیا۔ انہوں نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پہلے سے کہیں زیادہ قریب ہے اور میڈیا سے اپیل کی کہ معاہدے کو حتمی شکل ملنے تک قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ معاہدے کی مکمل تفصیلات مناسب وقت پر جاری کی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق ہفتے کے آغاز میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی اس وقت بڑھی جب آبنائے ہرمز کے قریب ایک امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر تباہ ہوگیا، جس کے بعد دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر حملے کیے۔ جمعرات کو بھی دونوں جانب سے کارروائیاں ہوئیں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید بڑے فضائی حملوں کی دھمکی دی، تاہم بعد ازاں ایرانی حکام سے بات چیت کے بعد انہیں منسوخ کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ مذاکرات اور حتمی نکات تمام متعلقہ فریقوں کی منظوری حاصل کر چکے ہیں۔ انہوں نے امریکا، اسرائیل، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، ترکیہ، پاکستان، بحرین، کویت، اردن اور مصر کو اس عمل میں شامل ممالک قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تنازع 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں سے شروع ہوا تھا، جس کے بعد اپریل میں جنگ بندی تک متعدد جوابی کارروائیاں ہوئیں۔ اس دوران پاکستان نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔ اپریل میں اسلام آباد میں مذاکرات کا ایک دور بھی منعقد ہوا، تاہم 21 گھنٹے طویل بات چیت کے باوجود کوئی معاہدہ طے نہ پا سکا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا وزیراعظم شہباز شریف کو قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی کا ٹیلی فون موصول ہوا۔ وزیراعظم آفس کے مطابق گفتگو کے دوران شہباز شریف نے خلیجی بحران کے دوران پاکستان کی امن کوششوں کی بھرپور حمایت پر قطر کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ امن معاہدے پر متعلقہ فریق بہت جلد دستخط کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جواب میں قطری وزیراعظم نے مذاکرات کو کامیاب بنانے میں پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا اور وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کاوشوں کی تعریف کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم شہباز شریف نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدہ آئندہ 24 گھنٹوں میں حتمی شکل اختیار کر سکتا ہے۔</strong></p>
<p>سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ ہم امن معاہدے کے پہلے سے کہیں زیادہ قریب ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان معاہدے پر الیکٹرانک دستخطوں کی تیاری کر رہا ہے، جس کے بعد تکنیکی سطح کے مذاکرات کا مرحلہ شروع ہوگا۔</p>
<p>وزیراعظم نے مذاکراتی عمل سے وابستگی پر امریکا اور ایران کا شکریہ ادا کیا اور علاقائی شراکت دار ممالک کے تعاون کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ یہ تاریخی امن معاہدہ خطے میں دیرپا امن کی مضبوط بنیاد ثابت ہوگا۔</p>
<p>جمعہ کے روز بھی وزیراعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ معاہدے کا حتمی اور متفقہ متن تیار ہو چکا ہے اور اسلام آباد دونوں فریقوں کے ساتھ مل کر آئندہ مراحل کو مکمل کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔</p>
<p>ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی جمعہ کو اسی نوعیت کے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مجوزہ معاہدے کو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت قرار دیا۔ انہوں نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پہلے سے کہیں زیادہ قریب ہے اور میڈیا سے اپیل کی کہ معاہدے کو حتمی شکل ملنے تک قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ معاہدے کی مکمل تفصیلات مناسب وقت پر جاری کی جائیں گی۔</p>
<p>رپورٹس کے مطابق ہفتے کے آغاز میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی اس وقت بڑھی جب آبنائے ہرمز کے قریب ایک امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر تباہ ہوگیا، جس کے بعد دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر حملے کیے۔ جمعرات کو بھی دونوں جانب سے کارروائیاں ہوئیں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید بڑے فضائی حملوں کی دھمکی دی، تاہم بعد ازاں ایرانی حکام سے بات چیت کے بعد انہیں منسوخ کر دیا گیا۔</p>
<p>ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ مذاکرات اور حتمی نکات تمام متعلقہ فریقوں کی منظوری حاصل کر چکے ہیں۔ انہوں نے امریکا، اسرائیل، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، ترکیہ، پاکستان، بحرین، کویت، اردن اور مصر کو اس عمل میں شامل ممالک قرار دیا۔</p>
<p>یہ تنازع 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں سے شروع ہوا تھا، جس کے بعد اپریل میں جنگ بندی تک متعدد جوابی کارروائیاں ہوئیں۔ اس دوران پاکستان نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔ اپریل میں اسلام آباد میں مذاکرات کا ایک دور بھی منعقد ہوا، تاہم 21 گھنٹے طویل بات چیت کے باوجود کوئی معاہدہ طے نہ پا سکا تھا۔</p>
<p>دریں اثنا وزیراعظم شہباز شریف کو قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی کا ٹیلی فون موصول ہوا۔ وزیراعظم آفس کے مطابق گفتگو کے دوران شہباز شریف نے خلیجی بحران کے دوران پاکستان کی امن کوششوں کی بھرپور حمایت پر قطر کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ امن معاہدے پر متعلقہ فریق بہت جلد دستخط کر سکتے ہیں۔</p>
<p>جواب میں قطری وزیراعظم نے مذاکرات کو کامیاب بنانے میں پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا اور وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کاوشوں کی تعریف کی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287490</guid>
      <pubDate>Sun, 14 Jun 2026 10:57:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ذوالفقار احمد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/141055105717fc1.webp" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/141055105717fc1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
