<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 14 Jun 2026 03:33:22 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 14 Jun 2026 03:33:22 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سینیٹ اور قومی اسمبلی کی مالیاتی کمیٹیوں کا مالی سال 2026-27 کے لیے محصولات کے "انتہائی بلند" ہدف پر خدشات کا اظہار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287485/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سینیٹ اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں برائے خزانہ و محصولات نے ہفتے کے روز رواں مالی سال 2025-26 میں ٹیکس وصولیوں میں کمی کے باوجود آئندہ مالی سال کے لیے حکومت کی جانب سے مقرر کیے گئے محصولات کے ”انتہائی بلند“ ہدف پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے جمعہ کے روز اپنا تیسرا بجٹ پیش کیا، جس میں مالی سال 2026-27 کے دوران فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ذریعے 15.26 کھرب روپے محصولات جمع کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جو رواں مالی سال 2025-26 کے لیے تجویز کردہ 14.13 کھرب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 8 فیصد سے زائد اضافہ ہے۔ تاہم حکومت مالی سال 2025-26 کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہی، کیونکہ ایف بی آر کی وصولیاں تقریباً 13 کھرب روپے تک محدود رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے بیان کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کے چیئرمین سید نوید قمر نے اجلاس کے دوران کہا کہ ’’وفاقی بجٹ 2026-27 کا بنیادی زور محصولات میں اضافے اور مالیاتی استحکام پر ہے، جبکہ اقتصادی نمو، سرمایہ کاری اور روزگار کے فروغ کے لیے محدود اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ٹیکس وصولیوں کے اہداف بار بار پورے نہ ہونے کے باوجود ’’بلند و بالا محصولات کے اہداف مقرر کرنے کی مسلسل روایت‘‘ پر تشویش کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوید قمر نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام کے تحت بڑے پرائمری سرپلس برقرار رکھنے اور ترقیاتی اخراجات محدود کرنے کے باوجود عوام پر مزید ٹیکس عائد کرنے کا جواز کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بریفنگ کے دوران کمیٹی کو بتایا گیا کہ بجٹ پاکستان کے جاری آئی ایم ایف پروگرام کے فریم ورک کے تحت تیار کیا گیا ہے، جس میں مالیاتی استحکام اور پرائمری سرپلس کے اہداف کا حصول بنیادی پالیسی مقاصد ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 4 فیصد اور افراطِ زر 8.2 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا ہے، جبکہ وفاقی حکومت کے مجموعی اخراجات تقریباً 18.7 کھرب روپے رہنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق، کمیٹی اراکین نے نشاندہی کی کہ ایف بی آر ماضی میں اپنے محصولات کے اہداف حاصل کرنے میں مشکلات کا شکار رہا ہے اور مجوزہ اضافی ٹیکس وصولیوں کے ہدف کے قابلِ عمل ہونے پر تحفظات کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اراکین نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ ٹیکس نیٹ کو مؤثر ساختی اصلاحات کے ذریعے وسعت دینے کے بجائے محصولات بڑھانے کے لیے نفاذی اقدامات پر حد سے زیادہ انحصار کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت صوبوں سے مطلوب بڑے مالیاتی سرپلس پر بھی غور کیا اور یہ سوال اٹھایا کہ ایک طرف ٹیکس دہندگان سے مزید محصولات جمع کیے جا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف سرکاری اور ترقیاتی اخراجات کو محدود کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اراکین کا کہنا تھا کہ مالیاتی سرپلس پر حد سے زیادہ زور اقتصادی نمو کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور حکومت کی فوری سماجی اور ترقیاتی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت کو محدود کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی اسمبلی کی کمیٹی نے وفاقی اخراجات کے ڈھانچے کا بھی جائزہ لیا اور نوٹ کیا کہ قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہونے والی رقم بدستور جاری اخراجات کا سب سے بڑا حصہ ہے، جو 8 کھرب روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی اراکین نے قرضوں کے انتظام کی ایک جامع حکمتِ عملی کی ضرورت پر زور دیا تاکہ قرض لینے کی لاگت کم کی جا سکے اور ترقیاتی ترجیحات کے لیے مزید مالی گنجائش پیدا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں بجٹ میں اعلان کردہ ٹیکس پالیسی اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا، جن میں تنخواہ دار طبقے کے لیے ریلیف، بعض کسٹمز ڈیوٹیوں میں کمی، برآمد کنندگان کے لیے مراعات اور پراپرٹی سیکٹر سے متعلق اصلاحات شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے مجوزہ ریٹیلر ٹیکس اسکیم پر خاص تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ٹیکس نظام میں بگاڑ پیدا ہو سکتا ہے، معمول کے ٹیکس نظام کے تحت تعمیل کی حوصلہ شکنی ہو سکتی ہے اور موجودہ ٹیکس بنیاد متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوید قمر نے کہا، ’’پائیدار اقتصادی نمو کے لیے ایسی جامع اصلاحات ضروری ہیں جو ٹیکس بنیاد کو وسعت دیں، اخراجات کی کارکردگی بہتر بنائیں، قرضوں کے انتظام کو مضبوط کریں اور سرمایہ کاری و پیداواری صلاحیت کے فروغ میں مددگار ثابت ہوں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں زیب جعفر، محمد عثمان اویسی، ڈاکٹر نفیسہ شاہ، حنا ربانی کھر، شرمیلا فاروقی، علی جان مزاری، ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ، محمد جاوید حنیف خان، ارشد عبداللہ ووہرا اور شاہدہ بیگم سمیت قومی اسمبلی کے ارکان نے شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="سینیٹ-کی-قائمہ-کمیٹی-برائے-خزانہ-و-محصولات-کا-اجلاس" href="#سینیٹ-کی-قائمہ-کمیٹی-برائے-خزانہ-و-محصولات-کا-اجلاس" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کا اجلاس&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کا اجلاس بھی ہفتے کے روز منعقد ہوا، جس میں ایف بی آر حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ وزیرِ اعظم نے ٹیکس پالیسی کی تشکیل کو ٹیکس انتظامیہ سے الگ کرنے کے لیے ٹیکس پالیسی آفس قائم کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹر عبدالقادر نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ سپر ٹیکس ’’پاکستان میں سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کر رہا ہے‘‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ صوبائی سطح پر ٹیکس وصولیوں کی کارکردگی بہتر ہو رہی ہے اور بعض شعبوں میں نتائج ایف بی آر سے بھی بہتر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ یہ اب بھی غیر یقینی ہے کہ آیا ایف بی آر اپنے سالانہ محصولات کے اہداف حاصل کر پائے گا یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹ کمیٹی نے کسٹمز قوانین کی خلاف ورزیوں پر جرمانے عائد کرنے کے لیے ایف بی آر کو اختیارات دینے کی ایک تجویز کا بھی جائزہ لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹر انوشہ رحمان نے اس تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اختیارات حکومت کے پاس ہونے چاہییں اور انہیں ایف بی آر بورڈ کو منتقل نہیں کیا جانا چاہیے۔ سینیٹ سیکریٹریٹ کے بیان کے مطابق، انہوں نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ یہ اختیار اس کے بجائے وزیرِ خزانہ کو دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے ضبط شدہ سامان کی نیلامی کا عمل نجی شعبے کے سپرد کرنے سے متعلق ایف بی آر کی تجویز پر بھی غور کیا۔ حکام کا مؤقف تھا کہ نیلامی کی سرگرمیاں کسٹمز افسران کے بجائے نجی شعبہ انجام دے۔ غور و خوض کے بعد کمیٹی نے اس تجویز کی منظوری دے دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں موجود وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ سرمایہ کاروں کو حکومتی پالیسیوں میں پیش گوئی کی صلاحیت اور تسلسل درکار ہوتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ معیشت کو آگے بڑھانے کے لیے تمام فریقین کو مل کر کام کرنا ہوگا اور اعلان کیا کہ اقتصادی مشاورت کا عمل 30 جون پر ختم نہیں ہوگا بلکہ پورا سال جاری رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اورنگزیب نے کمیٹی کو بتایا کہ حکومت نے معیشت کو استحکام سے پائیدار نمو کی جانب منتقل کرنے کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمان نے ٹیکس پالیسی سازی کو ٹیکس وصولی کے عمل سے الگ کرنے کی منظوری دی ہے اور ٹیکس پالیسی آفس کے قیام کو ایک اہم ساختی اصلاح قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ خزانہ نے مزید بتایا کہ ٹیکس پالیسی آفس پالیسیوں میں زیادہ تسلسل، اسٹیک ہولڈرز کی شمولیت اور اقتصادی اعتماد کو یقینی بنانے کے لیے تاجروں اور کاروباری نمائندوں سے سال بھر مسلسل رابطے اور مشاورت جاری رکھے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹ کے بیان کے مطابق، کمیٹی اتوار کو فنانس بل 2026-27 کی شق وار جانچ کا عمل جاری رکھے گی اور اپنی سفارشات سینیٹ میں پیش کرنے کے لیے مرتب کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="حکومت-نے-مالی-سال-2026-27-کے-بجٹ-میں-کیا-تجاویز-پیش-کیں" href="#حکومت-نے-مالی-سال-2026-27-کے-بجٹ-میں-کیا-تجاویز-پیش-کیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کیا تجاویز پیش کیں؟&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے ایف بی آر کے 15.26 کھرب روپے کے محصولات ہدف کے حصول کی خاطر تقریباً 650 ارب روپے کے نفاذی اور ٹیکس پالیسی اقدامات تجویز کیے ہیں، جن میں جرمانوں کے نظام کو معقول بنانا، لگژری گاڑیوں، نیفتھا اور سالوینٹ آئل پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (فیڈ) عائد کرنا، اور 21 اشیا پر پرنٹ شدہ ریٹیل قیمت کی بنیاد پر سیلز ٹیکس وصول کرنے کا تقریباً 70 ارب روپے کا اقدام شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توقع ہے کہ نفاذی اور انتظامی اقدامات سے اضافی 400 ارب روپے جبکہ نئے ٹیکس اقدامات سے 250 ارب روپے اضافی محصولات حاصل ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;30 جون 2026 تک تقریباً 13 کھرب روپے کی ٹیکس وصولیوں کے بعد، حکومت کا تخمینہ ہے کہ برائے نام اقتصادی نمو (4 فیصد حقیقی جی ڈی پی نمو اور 8.2 فیصد افراطِ زر) کی بدولت ایف بی آر کی وصولیاں آئندہ مالی سال میں تقریباً 14.6 کھرب روپے تک پہنچ جائیں گی، جبکہ باقی 650 ارب روپے ٹیکس، نفاذی اور انتظامی اقدامات کے امتزاج سے حاصل کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے حکومت نے چھوٹے ریٹیلرز کے لیے ایک فکسڈ ٹیکس اسکیم بھی متعارف کرائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اسکیم ایسے ریٹیلرز پر لاگو ہوگی جن کا سالانہ کاروبار 20 کروڑ روپے یا اس سے کم ہے۔ اسکیم کے تحت ریٹیلر کے سالانہ کاروبار پر ایک فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا، ’’پہلے سے کٹنے والا ودہولڈنگ ٹیکس (ڈبلیو ایچ ٹی) اس ٹیکس میں ایڈجسٹ کر دیا جائے گا۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ’’ریٹرن جمع کراتے وقت ریٹیلر کو کم از کم 25 ہزار روپے ادا کرنا ہوں گے۔‘‘&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سینیٹ اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں برائے خزانہ و محصولات نے ہفتے کے روز رواں مالی سال 2025-26 میں ٹیکس وصولیوں میں کمی کے باوجود آئندہ مالی سال کے لیے حکومت کی جانب سے مقرر کیے گئے محصولات کے ”انتہائی بلند“ ہدف پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔</strong></p>
<p>حکومت نے جمعہ کے روز اپنا تیسرا بجٹ پیش کیا، جس میں مالی سال 2026-27 کے دوران فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ذریعے 15.26 کھرب روپے محصولات جمع کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جو رواں مالی سال 2025-26 کے لیے تجویز کردہ 14.13 کھرب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 8 فیصد سے زائد اضافہ ہے۔ تاہم حکومت مالی سال 2025-26 کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہی، کیونکہ ایف بی آر کی وصولیاں تقریباً 13 کھرب روپے تک محدود رہیں۔</p>
<p>قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے بیان کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کے چیئرمین سید نوید قمر نے اجلاس کے دوران کہا کہ ’’وفاقی بجٹ 2026-27 کا بنیادی زور محصولات میں اضافے اور مالیاتی استحکام پر ہے، جبکہ اقتصادی نمو، سرمایہ کاری اور روزگار کے فروغ کے لیے محدود اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔‘‘</p>
<p>انہوں نے ٹیکس وصولیوں کے اہداف بار بار پورے نہ ہونے کے باوجود ’’بلند و بالا محصولات کے اہداف مقرر کرنے کی مسلسل روایت‘‘ پر تشویش کا اظہار کیا۔</p>
<p>نوید قمر نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام کے تحت بڑے پرائمری سرپلس برقرار رکھنے اور ترقیاتی اخراجات محدود کرنے کے باوجود عوام پر مزید ٹیکس عائد کرنے کا جواز کیا ہے۔</p>
<p>بریفنگ کے دوران کمیٹی کو بتایا گیا کہ بجٹ پاکستان کے جاری آئی ایم ایف پروگرام کے فریم ورک کے تحت تیار کیا گیا ہے، جس میں مالیاتی استحکام اور پرائمری سرپلس کے اہداف کا حصول بنیادی پالیسی مقاصد ہیں۔</p>
<p>حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 4 فیصد اور افراطِ زر 8.2 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا ہے، جبکہ وفاقی حکومت کے مجموعی اخراجات تقریباً 18.7 کھرب روپے رہنے کی توقع ہے۔</p>
<p>بیان کے مطابق، کمیٹی اراکین نے نشاندہی کی کہ ایف بی آر ماضی میں اپنے محصولات کے اہداف حاصل کرنے میں مشکلات کا شکار رہا ہے اور مجوزہ اضافی ٹیکس وصولیوں کے ہدف کے قابلِ عمل ہونے پر تحفظات کا اظہار کیا۔</p>
<p>اراکین نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ ٹیکس نیٹ کو مؤثر ساختی اصلاحات کے ذریعے وسعت دینے کے بجائے محصولات بڑھانے کے لیے نفاذی اقدامات پر حد سے زیادہ انحصار کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>کمیٹی نے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت صوبوں سے مطلوب بڑے مالیاتی سرپلس پر بھی غور کیا اور یہ سوال اٹھایا کہ ایک طرف ٹیکس دہندگان سے مزید محصولات جمع کیے جا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف سرکاری اور ترقیاتی اخراجات کو محدود کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>اراکین کا کہنا تھا کہ مالیاتی سرپلس پر حد سے زیادہ زور اقتصادی نمو کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور حکومت کی فوری سماجی اور ترقیاتی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت کو محدود کر سکتا ہے۔</p>
<p>قومی اسمبلی کی کمیٹی نے وفاقی اخراجات کے ڈھانچے کا بھی جائزہ لیا اور نوٹ کیا کہ قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہونے والی رقم بدستور جاری اخراجات کا سب سے بڑا حصہ ہے، جو 8 کھرب روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔</p>
<p>کمیٹی اراکین نے قرضوں کے انتظام کی ایک جامع حکمتِ عملی کی ضرورت پر زور دیا تاکہ قرض لینے کی لاگت کم کی جا سکے اور ترقیاتی ترجیحات کے لیے مزید مالی گنجائش پیدا ہو۔</p>
<p>اجلاس میں بجٹ میں اعلان کردہ ٹیکس پالیسی اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا، جن میں تنخواہ دار طبقے کے لیے ریلیف، بعض کسٹمز ڈیوٹیوں میں کمی، برآمد کنندگان کے لیے مراعات اور پراپرٹی سیکٹر سے متعلق اصلاحات شامل ہیں۔</p>
<p>کمیٹی نے مجوزہ ریٹیلر ٹیکس اسکیم پر خاص تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ٹیکس نظام میں بگاڑ پیدا ہو سکتا ہے، معمول کے ٹیکس نظام کے تحت تعمیل کی حوصلہ شکنی ہو سکتی ہے اور موجودہ ٹیکس بنیاد متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔</p>
<p>نوید قمر نے کہا، ’’پائیدار اقتصادی نمو کے لیے ایسی جامع اصلاحات ضروری ہیں جو ٹیکس بنیاد کو وسعت دیں، اخراجات کی کارکردگی بہتر بنائیں، قرضوں کے انتظام کو مضبوط کریں اور سرمایہ کاری و پیداواری صلاحیت کے فروغ میں مددگار ثابت ہوں۔‘‘</p>
<p>اجلاس میں زیب جعفر، محمد عثمان اویسی، ڈاکٹر نفیسہ شاہ، حنا ربانی کھر، شرمیلا فاروقی، علی جان مزاری، ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ، محمد جاوید حنیف خان، ارشد عبداللہ ووہرا اور شاہدہ بیگم سمیت قومی اسمبلی کے ارکان نے شرکت کی۔</p>
<h3><a id="سینیٹ-کی-قائمہ-کمیٹی-برائے-خزانہ-و-محصولات-کا-اجلاس" href="#سینیٹ-کی-قائمہ-کمیٹی-برائے-خزانہ-و-محصولات-کا-اجلاس" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کا اجلاس</h3>
<p>دریں اثنا، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کا اجلاس بھی ہفتے کے روز منعقد ہوا، جس میں ایف بی آر حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ وزیرِ اعظم نے ٹیکس پالیسی کی تشکیل کو ٹیکس انتظامیہ سے الگ کرنے کے لیے ٹیکس پالیسی آفس قائم کیا ہے۔</p>
<p>سینیٹر عبدالقادر نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ سپر ٹیکس ’’پاکستان میں سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کر رہا ہے‘‘۔</p>
<p>سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ صوبائی سطح پر ٹیکس وصولیوں کی کارکردگی بہتر ہو رہی ہے اور بعض شعبوں میں نتائج ایف بی آر سے بھی بہتر ہیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ یہ اب بھی غیر یقینی ہے کہ آیا ایف بی آر اپنے سالانہ محصولات کے اہداف حاصل کر پائے گا یا نہیں۔</p>
<p>سینیٹ کمیٹی نے کسٹمز قوانین کی خلاف ورزیوں پر جرمانے عائد کرنے کے لیے ایف بی آر کو اختیارات دینے کی ایک تجویز کا بھی جائزہ لیا۔</p>
<p>سینیٹر انوشہ رحمان نے اس تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اختیارات حکومت کے پاس ہونے چاہییں اور انہیں ایف بی آر بورڈ کو منتقل نہیں کیا جانا چاہیے۔ سینیٹ سیکریٹریٹ کے بیان کے مطابق، انہوں نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ یہ اختیار اس کے بجائے وزیرِ خزانہ کو دیا گیا ہے۔</p>
<p>کمیٹی نے ضبط شدہ سامان کی نیلامی کا عمل نجی شعبے کے سپرد کرنے سے متعلق ایف بی آر کی تجویز پر بھی غور کیا۔ حکام کا مؤقف تھا کہ نیلامی کی سرگرمیاں کسٹمز افسران کے بجائے نجی شعبہ انجام دے۔ غور و خوض کے بعد کمیٹی نے اس تجویز کی منظوری دے دی۔</p>
<p>اجلاس میں موجود وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ سرمایہ کاروں کو حکومتی پالیسیوں میں پیش گوئی کی صلاحیت اور تسلسل درکار ہوتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ معیشت کو آگے بڑھانے کے لیے تمام فریقین کو مل کر کام کرنا ہوگا اور اعلان کیا کہ اقتصادی مشاورت کا عمل 30 جون پر ختم نہیں ہوگا بلکہ پورا سال جاری رہے گا۔</p>
<p>اورنگزیب نے کمیٹی کو بتایا کہ حکومت نے معیشت کو استحکام سے پائیدار نمو کی جانب منتقل کرنے کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمان نے ٹیکس پالیسی سازی کو ٹیکس وصولی کے عمل سے الگ کرنے کی منظوری دی ہے اور ٹیکس پالیسی آفس کے قیام کو ایک اہم ساختی اصلاح قرار دیا۔</p>
<p>وزیرِ خزانہ نے مزید بتایا کہ ٹیکس پالیسی آفس پالیسیوں میں زیادہ تسلسل، اسٹیک ہولڈرز کی شمولیت اور اقتصادی اعتماد کو یقینی بنانے کے لیے تاجروں اور کاروباری نمائندوں سے سال بھر مسلسل رابطے اور مشاورت جاری رکھے گا۔</p>
<p>سینیٹ کے بیان کے مطابق، کمیٹی اتوار کو فنانس بل 2026-27 کی شق وار جانچ کا عمل جاری رکھے گی اور اپنی سفارشات سینیٹ میں پیش کرنے کے لیے مرتب کرے گی۔</p>
<h3><a id="حکومت-نے-مالی-سال-2026-27-کے-بجٹ-میں-کیا-تجاویز-پیش-کیں" href="#حکومت-نے-مالی-سال-2026-27-کے-بجٹ-میں-کیا-تجاویز-پیش-کیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کیا تجاویز پیش کیں؟</h3>
<p>حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے ایف بی آر کے 15.26 کھرب روپے کے محصولات ہدف کے حصول کی خاطر تقریباً 650 ارب روپے کے نفاذی اور ٹیکس پالیسی اقدامات تجویز کیے ہیں، جن میں جرمانوں کے نظام کو معقول بنانا، لگژری گاڑیوں، نیفتھا اور سالوینٹ آئل پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (فیڈ) عائد کرنا، اور 21 اشیا پر پرنٹ شدہ ریٹیل قیمت کی بنیاد پر سیلز ٹیکس وصول کرنے کا تقریباً 70 ارب روپے کا اقدام شامل ہے۔</p>
<p>توقع ہے کہ نفاذی اور انتظامی اقدامات سے اضافی 400 ارب روپے جبکہ نئے ٹیکس اقدامات سے 250 ارب روپے اضافی محصولات حاصل ہوں گے۔</p>
<p>30 جون 2026 تک تقریباً 13 کھرب روپے کی ٹیکس وصولیوں کے بعد، حکومت کا تخمینہ ہے کہ برائے نام اقتصادی نمو (4 فیصد حقیقی جی ڈی پی نمو اور 8.2 فیصد افراطِ زر) کی بدولت ایف بی آر کی وصولیاں آئندہ مالی سال میں تقریباً 14.6 کھرب روپے تک پہنچ جائیں گی، جبکہ باقی 650 ارب روپے ٹیکس، نفاذی اور انتظامی اقدامات کے امتزاج سے حاصل کیے جائیں گے۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے حکومت نے چھوٹے ریٹیلرز کے لیے ایک فکسڈ ٹیکس اسکیم بھی متعارف کرائی۔</p>
<p>یہ اسکیم ایسے ریٹیلرز پر لاگو ہوگی جن کا سالانہ کاروبار 20 کروڑ روپے یا اس سے کم ہے۔ اسکیم کے تحت ریٹیلر کے سالانہ کاروبار پر ایک فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا۔</p>
<p>وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا، ’’پہلے سے کٹنے والا ودہولڈنگ ٹیکس (ڈبلیو ایچ ٹی) اس ٹیکس میں ایڈجسٹ کر دیا جائے گا۔‘‘</p>
<p>تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ’’ریٹرن جمع کراتے وقت ریٹیلر کو کم از کم 25 ہزار روپے ادا کرنا ہوں گے۔‘‘</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287485</guid>
      <pubDate>Sat, 13 Jun 2026 23:10:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریحان ایوب)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/13222737edab23e.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/13222737edab23e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
