<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 14 Jun 2026 02:10:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 14 Jun 2026 02:10:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بیلفاسٹ میں بدامنی کے بعد نسل پرستی کے خلاف ریلی میں ہزاروں افراد کی شرکت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287484/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;شمالی آئرلینڈ کے شہر بیلفاسٹ میں ہفتے کے روز ہزاروں افراد نسل پرستی کے خلاف ایک ریلی میں شریک ہوئے، جو ایک ہولناک چاقو زنی کے واقعے کے بعد پھوٹنے والی بدامنی کے تناظر میں منعقد کی گئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مظاہرین نے ایسے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر ’’نفرت ہی ہماری گلیوں کے لیے واحد خطرہ ہے‘‘ اور ’’بیلفاسٹ نسل پرستی کے خلاف کھڑا ہے‘‘ جیسے نعرے درج تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہر میں پیر کی شب ہونے والے چاقو حملے کی ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہونے کے بعد دو راتوں تک بدامنی دیکھی گئی۔ ویڈیو میں ایک شخص کو سڑک پر پڑے دوسرے شخص کے اوپر بیٹھ کر چاقو سے حملہ کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کے روز ایک سوڈانی شخص پر اسٹیفن اوگلوی کے قتل کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا اور اسے عدالت میں پیش کیا گیا۔ اوگلوی تاحال اسپتال میں زیر علاج ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;63 سالہ مظاہرہ کرنے والی ہیلری ہنٹر نے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ اس لیے ریلی میں شریک ہوئیں کیونکہ ’’ہمارے خوبصورت ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس پر مجھے شدید افسوس اور نفرت محسوس ہوتی ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے نسل پرستی کے خلاف سرگرم تنظیم یونائٹ اگینسٹ ریسزم کی جانب سے منعقدہ ریلی میں کہا، ’’ہم سب یہاں یہ دکھانے کے لیے جمع ہوئے ہیں کہ مسائل پیدا کرنے والے وہ لوگ ہماری نمائندگی نہیں کرتے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شمالی آئرلینڈ کے سیکریٹری ہیلری بین نے جمعرات کو کہا یے کہ حالیہ ہنگامہ آرائی نے خوف کی فضا پیدا کر دی ہے، جہاں بعض افراد کو ’’دھمکایا گیا‘‘ اور ’’نقاب پوش غنڈوں نے ان کی جلد کے رنگ کی بنیاد پر انہیں گھروں سے نکال دیا اور ان کے گھروں کو نذرِ آتش کر دیا‘‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ایسی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ کام پر جاتے ہوئے لوگوں کو ان کی گاڑیوں میں روک کر ان کی قومیت پوچھی گئی، جسے انہوں نے ’’مکمل طور پر ناقابلِ قبول‘‘ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شمالی آئرلینڈ کی اہم قوم پرست جماعت ایس ڈی ایل پی کے مقامی کونسلر شیمس ڈی فاؤئٹے نے کہا کہ لوگ اس لیے سڑکوں پر نکلے تاکہ یہ ظاہر کر سکیں کہ وہ ’’نسل پرستانہ تشدد‘‘ پر شدید صدمے اور غم و غصے کا شکار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ شہر بھر کی مختلف تنظیمیں ان افراد کو متبادل رہائش فراہم کرنے کے لیے انتھک کوششیں کر رہی ہیں جو اب اپنے گھروں کو واپس جانے سے ’’بہت خوفزدہ‘‘ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانیہ اور آئرلینڈ دونوں میں امیگریشن ایک انتہائی حساس اور متنازع مسئلہ بن چکا ہے، اور اسی نے نائجل فراج کی قیادت میں دائیں بازو کی جماعت ریفارم یو کے کی مقبولیت میں اضافے کو بھی تقویت دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں ممالک میں حالیہ برسوں کے دوران امیگریشن مخالف مظاہرے بار بار دیکھنے میں آئے ہیں، جن میں سے بعض پرتشدد صورت اختیار کر گئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>شمالی آئرلینڈ کے شہر بیلفاسٹ میں ہفتے کے روز ہزاروں افراد نسل پرستی کے خلاف ایک ریلی میں شریک ہوئے، جو ایک ہولناک چاقو زنی کے واقعے کے بعد پھوٹنے والی بدامنی کے تناظر میں منعقد کی گئی۔</strong></p>
<p>مظاہرین نے ایسے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر ’’نفرت ہی ہماری گلیوں کے لیے واحد خطرہ ہے‘‘ اور ’’بیلفاسٹ نسل پرستی کے خلاف کھڑا ہے‘‘ جیسے نعرے درج تھے۔</p>
<p>شہر میں پیر کی شب ہونے والے چاقو حملے کی ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہونے کے بعد دو راتوں تک بدامنی دیکھی گئی۔ ویڈیو میں ایک شخص کو سڑک پر پڑے دوسرے شخص کے اوپر بیٹھ کر چاقو سے حملہ کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔</p>
<p>بدھ کے روز ایک سوڈانی شخص پر اسٹیفن اوگلوی کے قتل کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا اور اسے عدالت میں پیش کیا گیا۔ اوگلوی تاحال اسپتال میں زیر علاج ہیں۔</p>
<p>63 سالہ مظاہرہ کرنے والی ہیلری ہنٹر نے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ اس لیے ریلی میں شریک ہوئیں کیونکہ ’’ہمارے خوبصورت ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس پر مجھے شدید افسوس اور نفرت محسوس ہوتی ہے۔‘‘</p>
<p>انہوں نے نسل پرستی کے خلاف سرگرم تنظیم یونائٹ اگینسٹ ریسزم کی جانب سے منعقدہ ریلی میں کہا، ’’ہم سب یہاں یہ دکھانے کے لیے جمع ہوئے ہیں کہ مسائل پیدا کرنے والے وہ لوگ ہماری نمائندگی نہیں کرتے۔‘‘</p>
<p>شمالی آئرلینڈ کے سیکریٹری ہیلری بین نے جمعرات کو کہا یے کہ حالیہ ہنگامہ آرائی نے خوف کی فضا پیدا کر دی ہے، جہاں بعض افراد کو ’’دھمکایا گیا‘‘ اور ’’نقاب پوش غنڈوں نے ان کی جلد کے رنگ کی بنیاد پر انہیں گھروں سے نکال دیا اور ان کے گھروں کو نذرِ آتش کر دیا‘‘۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ایسی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ کام پر جاتے ہوئے لوگوں کو ان کی گاڑیوں میں روک کر ان کی قومیت پوچھی گئی، جسے انہوں نے ’’مکمل طور پر ناقابلِ قبول‘‘ قرار دیا۔</p>
<p>شمالی آئرلینڈ کی اہم قوم پرست جماعت ایس ڈی ایل پی کے مقامی کونسلر شیمس ڈی فاؤئٹے نے کہا کہ لوگ اس لیے سڑکوں پر نکلے تاکہ یہ ظاہر کر سکیں کہ وہ ’’نسل پرستانہ تشدد‘‘ پر شدید صدمے اور غم و غصے کا شکار ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ شہر بھر کی مختلف تنظیمیں ان افراد کو متبادل رہائش فراہم کرنے کے لیے انتھک کوششیں کر رہی ہیں جو اب اپنے گھروں کو واپس جانے سے ’’بہت خوفزدہ‘‘ ہیں۔</p>
<p>برطانیہ اور آئرلینڈ دونوں میں امیگریشن ایک انتہائی حساس اور متنازع مسئلہ بن چکا ہے، اور اسی نے نائجل فراج کی قیادت میں دائیں بازو کی جماعت ریفارم یو کے کی مقبولیت میں اضافے کو بھی تقویت دی ہے۔</p>
<p>دونوں ممالک میں حالیہ برسوں کے دوران امیگریشن مخالف مظاہرے بار بار دیکھنے میں آئے ہیں، جن میں سے بعض پرتشدد صورت اختیار کر گئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287484</guid>
      <pubDate>Sat, 13 Jun 2026 20:28:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/132023545b3641c.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/132023545b3641c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
