<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 13 Jun 2026 20:43:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 13 Jun 2026 20:43:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سیلز ٹیکس ودہولڈنگ کا دائرہ کار وسیع</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287477/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی حکومت نے فنانس بل 2026-27 میں ایک بڑی ترمیم کی تجویز دی ہے جس کے تحت سیلز ٹیکس ودہولڈنگ کے دائرہ کار کو 11ویں شیڈول کے تحت مزید وسیع کرتے ہوئے کمپنیوں کے ساتھ ساتھ ایسوسی ایشن آف پرسنز  اور افراد کو بھی اس میں شامل کیا جارہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکس ماہر ارشد شہزاد نے وضاحت کی کہ اس وقت کمپنیوں کی جانب سے غیر رجسٹرڈ یا غیر فعال افراد سے کی جانے والی خریداری پر 5 فیصد سیلز ٹیکس ودہولڈنگ لاگو ہوتا ہے۔ مجوزہ تبدیلیوں کے تحت یہ شق اب ایسوسی ایشن آف پرسنز  اور افراد تک بھی بڑھا دی جائے گی، جس سے اس کا دائرہ کار نمایاں طور پر وسیع ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہزاد نے اس ترمیم کو بل میں ایک اہم تبدیلی قرار دیا اور کہا کہ اس سے غیر رجسٹرڈ افراد سے خریداری کی لاگت میں 5 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگرچہ حکومت کا مقصد غیر رجسٹرڈ کاروباروں کی حوصلہ شکنی کے لیے ان کے آپریشنل اخراجات بڑھانا ہے، لیکن عملی طور پر اس کا بوجھ دستاویزی شعبے پر پڑے گا، جسے یہ اضافی ٹیکس برداشت کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید نشاندہی کی کہ غیر رجسٹرڈ افراد چونکہ ٹیکس نیٹ سے باہر ہوتے ہیں، اس لیے وہ اس طرح کے اقدامات سے زیادہ متاثر نہیں ہوتے جبکہ رجسٹرڈ کاروبار کو کاروبار کرنے کی لاگت میں اضافہ برداشت کرنا پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہزاد نے حکومت سے اپیل کی کہ اس پالیسی پر نظرثانی کی جائے تاکہ تعمیل کے اقدامات غیر ارادی طور پر دستاویزی شعبے کو نقصان نہ پہنچائیں، یا کم از کم اسے برآمدی شعبے پر لاگو نہ کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی حکومت نے فنانس بل 2026-27 میں ایک بڑی ترمیم کی تجویز دی ہے جس کے تحت سیلز ٹیکس ودہولڈنگ کے دائرہ کار کو 11ویں شیڈول کے تحت مزید وسیع کرتے ہوئے کمپنیوں کے ساتھ ساتھ ایسوسی ایشن آف پرسنز  اور افراد کو بھی اس میں شامل کیا جارہا ہے۔</strong></p>
<p>ٹیکس ماہر ارشد شہزاد نے وضاحت کی کہ اس وقت کمپنیوں کی جانب سے غیر رجسٹرڈ یا غیر فعال افراد سے کی جانے والی خریداری پر 5 فیصد سیلز ٹیکس ودہولڈنگ لاگو ہوتا ہے۔ مجوزہ تبدیلیوں کے تحت یہ شق اب ایسوسی ایشن آف پرسنز  اور افراد تک بھی بڑھا دی جائے گی، جس سے اس کا دائرہ کار نمایاں طور پر وسیع ہو جائے گا۔</p>
<p>شہزاد نے اس ترمیم کو بل میں ایک اہم تبدیلی قرار دیا اور کہا کہ اس سے غیر رجسٹرڈ افراد سے خریداری کی لاگت میں 5 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگرچہ حکومت کا مقصد غیر رجسٹرڈ کاروباروں کی حوصلہ شکنی کے لیے ان کے آپریشنل اخراجات بڑھانا ہے، لیکن عملی طور پر اس کا بوجھ دستاویزی شعبے پر پڑے گا، جسے یہ اضافی ٹیکس برداشت کرنا ہوگا۔</p>
<p>انہوں نے مزید نشاندہی کی کہ غیر رجسٹرڈ افراد چونکہ ٹیکس نیٹ سے باہر ہوتے ہیں، اس لیے وہ اس طرح کے اقدامات سے زیادہ متاثر نہیں ہوتے جبکہ رجسٹرڈ کاروبار کو کاروبار کرنے کی لاگت میں اضافہ برداشت کرنا پڑتا ہے۔</p>
<p>شہزاد نے حکومت سے اپیل کی کہ اس پالیسی پر نظرثانی کی جائے تاکہ تعمیل کے اقدامات غیر ارادی طور پر دستاویزی شعبے کو نقصان نہ پہنچائیں، یا کم از کم اسے برآمدی شعبے پر لاگو نہ کیا جائے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287477</guid>
      <pubDate>Sat, 13 Jun 2026 17:45:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفراز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/131741567bccfd6.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/131741567bccfd6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
