<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 13 Jun 2026 20:44:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 13 Jun 2026 20:44:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بجٹ: مالیاتی بقا کی سالانہ رسم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287470/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کا بجٹ پانچ الفاظ میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے: ”مالی بقا کی سالانہ رسم“۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے: کیا پاکستان کا بجٹ اب محض مالی بحران سے نمٹنے کی سالانہ مشق بن کر رہ گیا ہے، بجائے اس کے کہ یہ قومی تبدیلی کا کوئی اسٹریٹجک ذریعہ ہو؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ کئی برسوں سے ملک کے بجٹ زیادہ تر قلیل المدتی سمجھوتوں کا مجموعہ بنتے جا رہے ہیں، کسی ایک شعبے سے وسائل لے کر دوسرے کو منتقل کرنا، محصولات کے اہداف پورے کرنے کے لیے ٹیکسوں میں اضافہ کرنا، اور بیرونی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے سبسڈیز میں کمی کرنا۔ اس پورے عمل میں جو چیز اکثر غائب نظر آتی ہے وہ ایک مربوط طویل المدتی وژن ہے جو قومی ترجیحات، شواہد اور اسٹریٹجک منصوبہ بندی پر مبنی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا سالانہ بجٹ بتدریج ایک ایسے عمل میں تبدیل ہو چکا ہے جو مستقبل کی سمت متعین کرنے کے بجائے بحرانوں کے انتظام پر مرکوز ہے۔ ہر سال پالیسی ساز مالی پابندیوں کے درمیان متضاد مطالبات کو متوازن کرتے ہیں، بین الاقوامی قرض دہندگان کے ساتھ محصولات کے اہداف پر مذاکرات کرتے ہیں، اور محدود وسائل کو مختلف شعبوں میں تقسیم کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ایک ترقی پذیر معیشت میں، جو مسلسل معاشی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہو، ایسے مالیاتی ایڈجسٹمنٹس ناگزیر ہوتے ہیں، لیکن بڑا سوال یہ ہے کہ وہ طویل المدتی قومی وژن کہاں ہے جو ان سالانہ مالی فیصلوں کی رہنمائی کرے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا بجٹ سازی کا عمل تیزی سے ایک ’’روٹین بزنس‘‘ میں تبدیل ہو چکا ہے۔ یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتیں، سیاسی وابستگی سے قطع نظر، زیادہ تر فوری مالی دباؤ پر توجہ دیتی رہی ہیں بجائے اس کے کہ وہ معیشت کی اسٹریٹجک تبدیلی پر غور کریں۔ نتیجتاً ایک ایسا بجٹ فریم ورک سامنے آتا ہے جو پیشگی حکمت عملی کے بجائے ردِعمل پر مبنی دکھائی دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس رجحان کی ایک بڑی وجہ قلیل المدتی اسٹیبلائزیشن پروگرامز کا بڑھتا ہوا اثر ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)، اپنی نوعیت کے اعتبار سے، مالی نظم و ضبط، محصولات میں اضافہ، خسارے میں کمی اور سبسڈیز کی تنظیم نو پر زور دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اہداف اہم اور اکثر ناگزیر ہوتے ہیں، خاص طور پر ایسے ملک کے لیے جو بار بار ادائیگیوں کے توازن کے بحرانوں کا شکار ہو۔ تاہم آئی ایم ایف پروگرام کبھی بھی کسی ملک کی طویل المدتی ترقیاتی حکمت عملی کا متبادل نہیں ہوتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب بیرونی مالیاتی اہداف معاشی پالیسی کا بنیادی محرک بن جاتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں بجٹ مباحث زیادہ تر ٹیکس اقدامات، بجلی کے نرخوں، پٹرولیم لیوی اور سبسڈیز میں کمی کے گرد گھومتے ہیں، جبکہ صنعتی جدیدیت، ٹیکنالوجی کی ترقی، زرعی پیداوار میں اضافہ، انسانی سرمائے کی بہتری اور برآمدی مسابقت جیسے بڑے سوالات نسبتاً کم توجہ حاصل کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتیجہ واضح ہے: پاکستان جنوبی ایشیا کے اپنے ہمسایہ ممالک کے مقابلے میں بہت پیچھے رہ گیا ہے۔ 2008 تک پاکستان اور ویتنام خطے کی تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں شامل تھے، جن کی جی ڈی پی گروتھ 7 فیصد سے زیادہ تھی۔ لیکن جہاں ویتنام ایک بڑی علاقائی معاشی طاقت کے طور پر ابھرا، وہیں پاکستان پیچھے رہ گیا اور آئی ایم ایف پروگراموں کے سہارے چلتا رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان ہمیشہ طویل المدتی منصوبہ بندی سے محروم نہیں تھا۔ ایک وقت تھا جب پاکستان کا پلاننگ کمیشن قومی پالیسی سازی میں مرکزی حیثیت رکھتا تھا۔ بین الاقوامی شہرت یافتہ ماہرینِ معیشت کی قیادت میں اور مضبوط شماریاتی ڈھانچے کے ساتھ یہ ادارہ جامع پانچ سالہ منصوبے تیار کرتا تھا جو مختلف شعبوں میں ترقیاتی ترجیحات طے کرتے تھے۔ یہ منصوبے معاشی ترقی کے روڈ میپ کے طور پر کام کرتے تھے اور انہی کی بنیاد پر سالانہ بجٹ ترتیب دیے جاتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک کے شماریاتی ادارے بھی اس عمل میں کلیدی کردار ادا کرتے تھے۔ قابلِ اعتماد ڈیٹا کی بدولت پالیسی ساز آبادیاتی رجحانات، پیداواری ڈھانچے، شعبہ جاتی کارکردگی اور ترقیاتی خلا کا درست جائزہ لے سکتے تھے۔ شواہد پر مبنی پالیسی سازی کو معاشی حکمرانی کا بنیادی حصہ سمجھا جاتا تھا، نہ کہ محض ایک ضمنی عنصر۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج یہ دونوں کبھی عظیم سمجھے جانے والے ادارے، جوعظیم ذہنوں اور بلند خیالات سے مالا مال ہوتے تھے، اپنی سابقہ اثر انگیزی کا بڑا حصہ کھو چکے ہیں۔ اگرچہ یہ ادارے اب بھی موجود ہیں، لیکن قومی پالیسی سازی میں ان کا کردار نمایاں طور پر کمزور اور حاشیے پر چلا گیا ہے۔ اس خلا نے ملک کو اس دیرینہ خواب سے محروم کر دیا ہے کہ وہ ایک بڑی ایشیائی معاشی طاقت کے طور پر ابھرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بجٹ سازی کے فیصلے اب جامع ترقیاتی منصوبہ بندی کے بجائے فوری مالی حقائق اور سیاسی ترجیحات کے تابع ہوتے جا رہے ہیں۔ طویل المدتی اسٹریٹجک دستاویزات اکثر سالانہ وسائل کی تقسیم کے فیصلوں سے کٹ کر رہ جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منصوبہ بندی کی اس کمزوری کے سنگین نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ واضح قومی معاشی وژن کے بغیر ترقیاتی اخراجات بکھراؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ منصوبے سیاسی ترجیحات کے بدلنے کے ساتھ شروع، تبدیل یا ترک کر دیے جاتے ہیں۔ سرکاری سرمایہ کاری میں تسلسل برقرار نہیں رہتا۔ صنعتی پالیسی غیر مستقل مزاجی کا شکار رہتی ہے۔ برآمدات کے فروغ کی حکمت عملیاں ہر حکومت کے ساتھ بدل جاتی ہیں۔ نتیجتاً پاکستان قلیل المدتی استحکام کے بعد معاشی رفتار برقرار رکھنے میں مشکلات کا شکار رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مضبوط شماریاتی رہنمائی کا فقدان بھی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ مؤثر پالیسی سازی کے لیے درست اور بروقت ڈیٹا ناگزیر ہے۔ غربت، بے روزگاری، پیداوار، ماحولیاتی خطرات یا علاقائی عدم مساوات جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے حکومتوں کو وسائل کی مؤثر تقسیم کے لیے قابلِ اعتماد شواہد درکار ہوتے ہیں۔ شماریاتی تجزیے اور مالیاتی منصوبہ بندی کے درمیان کمزور ربط پالیسی کی افادیت کو لازماً متاثر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتنا ہی تشویشناک رجحان یہ ہے کہ ہر بجٹ کو ایک الگ اور خودمختار واقعہ سمجھا جانے لگا ہے۔ کامیاب معیشتیں سالانہ بجٹ کو محض ایک علیحدہ دستاویز کے طور پر نہیں دیکھتیں بلکہ اسے قومی ترقی کے کثیر سالہ اہداف کے حصول کا ذریعہ سمجھتی ہیں۔ بجٹ صرف ایک حساب کتاب کا عمل نہیں بلکہ قومی ترجیحات کا اظہار ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ ممالک جنہوں نے اپنی معیشتوں کو کامیابی سے تبدیل کیا، چاہے مشرقی ایشیا ہو یا خلیجی خطے کے بعض حصے، انہوں نے عموماً مالی نظم و ضبط کو طویل المدتی اسٹریٹجک منصوبہ بندی کے ساتھ جوڑا۔ انہوں نے واضح قومی اہداف مقرر کیے، مضبوط منصوبہ بندی کے ادارے قائم کیے، ڈیٹا پر مبنی حکمرانی میں سرمایہ کاری کی اور سالانہ بجٹ کو وسیع تر ترقیاتی مقاصد کے ساتھ ہم آہنگ رکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کو بھی فوری طور پر اسی طرزِ فکر کی طرف واپسی کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی استحکام (فِسکل اسٹیبلائزیشن) بلاشبہ اہم ہے، لیکن صرف استحکام کسی صورت خوشحالی کی ضمانت نہیں دے سکتا۔ ملک کو ایک نئے قومی ترقیاتی فریم ورک کی ضرورت ہے جو انتخابی ادوار اور آئی ایم ایف کے جائزہ پیریڈز سے آگے تک محیط ہو۔ ایسا فریم ورک ترجیحی شعبوں کی نشاندہی کرے، قابلِ پیمائش معاشی اہداف طے کرے اور آئندہ ایک دہائی تک سرکاری سرمایہ کاری کے فیصلوں کی رہنمائی کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پلاننگ کمیشن کو ایک بار پھر اس حیثیت میں مضبوط بنایا جانا چاہیے کہ وہ ملک کا مرکزی اسٹریٹجک تھنک ٹینک بن سکے۔ شماریاتی اداروں کو بھی مستحکم کیا جانا چاہیے تاکہ پالیسی سازوں کو قابلِ اعتماد اور بروقت ڈیٹا فراہم کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے اہم بات یہ ہے کہ سالانہ بجٹ کو محض حساب کتاب کے توازن کی مشق کے بجائے ایک بڑے قومی منصوبے کے عملی آلے میں تبدیل ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب حکومت نے نیا بجٹ پیش کیا تو فوری توجہ قدرتی طور پر فنڈز کی تقسیم، ٹیکسوں، مہنگائی، تنخواہوں اور سبسڈیز پر مرکوز رہی۔ تاہم پالیسی سازوں کے سامنے اصل سوال یہ ہے کہ آیا پاکستان صرف بار بار آنے والے بحرانوں کا انتظام ہی کرتا رہے گا یا ایک پائیدار اور طویل المدتی معاشی تبدیلی کی راہ متعین کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب تک بجٹ کو ایک مربوط قومی وژن کے ساتھ منسلک نہیں کیا جاتا، جس کی بنیاد مضبوط منصوبہ بندی اور شماریاتی تجزیے پر ہو، ملک اس چکر میں پھنسا رہے گا کہ ہر سال کا بجٹ پچھلے سال سے معمولی سا مختلف ہوگا، ایک ایسا دائمی عمل جو مالی بقا کی مشق تو ہے مگر قومی ترقی کا خاکہ نہیں۔ یہ راستہ کسی بھی صورت اسٹریٹجک معاشی تبدیلی تک نہیں لے جاتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کا بجٹ پانچ الفاظ میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے: ”مالی بقا کی سالانہ رسم“۔</strong></p>
<p>اس سے ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے: کیا پاکستان کا بجٹ اب محض مالی بحران سے نمٹنے کی سالانہ مشق بن کر رہ گیا ہے، بجائے اس کے کہ یہ قومی تبدیلی کا کوئی اسٹریٹجک ذریعہ ہو؟</p>
<p>گزشتہ کئی برسوں سے ملک کے بجٹ زیادہ تر قلیل المدتی سمجھوتوں کا مجموعہ بنتے جا رہے ہیں، کسی ایک شعبے سے وسائل لے کر دوسرے کو منتقل کرنا، محصولات کے اہداف پورے کرنے کے لیے ٹیکسوں میں اضافہ کرنا، اور بیرونی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے سبسڈیز میں کمی کرنا۔ اس پورے عمل میں جو چیز اکثر غائب نظر آتی ہے وہ ایک مربوط طویل المدتی وژن ہے جو قومی ترجیحات، شواہد اور اسٹریٹجک منصوبہ بندی پر مبنی ہو۔</p>
<p>پاکستان کا سالانہ بجٹ بتدریج ایک ایسے عمل میں تبدیل ہو چکا ہے جو مستقبل کی سمت متعین کرنے کے بجائے بحرانوں کے انتظام پر مرکوز ہے۔ ہر سال پالیسی ساز مالی پابندیوں کے درمیان متضاد مطالبات کو متوازن کرتے ہیں، بین الاقوامی قرض دہندگان کے ساتھ محصولات کے اہداف پر مذاکرات کرتے ہیں، اور محدود وسائل کو مختلف شعبوں میں تقسیم کرتے ہیں۔</p>
<p>اگرچہ ایک ترقی پذیر معیشت میں، جو مسلسل معاشی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہو، ایسے مالیاتی ایڈجسٹمنٹس ناگزیر ہوتے ہیں، لیکن بڑا سوال یہ ہے کہ وہ طویل المدتی قومی وژن کہاں ہے جو ان سالانہ مالی فیصلوں کی رہنمائی کرے؟</p>
<p>حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا بجٹ سازی کا عمل تیزی سے ایک ’’روٹین بزنس‘‘ میں تبدیل ہو چکا ہے۔ یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتیں، سیاسی وابستگی سے قطع نظر، زیادہ تر فوری مالی دباؤ پر توجہ دیتی رہی ہیں بجائے اس کے کہ وہ معیشت کی اسٹریٹجک تبدیلی پر غور کریں۔ نتیجتاً ایک ایسا بجٹ فریم ورک سامنے آتا ہے جو پیشگی حکمت عملی کے بجائے ردِعمل پر مبنی دکھائی دیتا ہے۔</p>
<p>اس رجحان کی ایک بڑی وجہ قلیل المدتی اسٹیبلائزیشن پروگرامز کا بڑھتا ہوا اثر ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)، اپنی نوعیت کے اعتبار سے، مالی نظم و ضبط، محصولات میں اضافہ، خسارے میں کمی اور سبسڈیز کی تنظیم نو پر زور دیتا ہے۔</p>
<p>یہ اہداف اہم اور اکثر ناگزیر ہوتے ہیں، خاص طور پر ایسے ملک کے لیے جو بار بار ادائیگیوں کے توازن کے بحرانوں کا شکار ہو۔ تاہم آئی ایم ایف پروگرام کبھی بھی کسی ملک کی طویل المدتی ترقیاتی حکمت عملی کا متبادل نہیں ہوتے۔</p>
<p>مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب بیرونی مالیاتی اہداف معاشی پالیسی کا بنیادی محرک بن جاتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں بجٹ مباحث زیادہ تر ٹیکس اقدامات، بجلی کے نرخوں، پٹرولیم لیوی اور سبسڈیز میں کمی کے گرد گھومتے ہیں، جبکہ صنعتی جدیدیت، ٹیکنالوجی کی ترقی، زرعی پیداوار میں اضافہ، انسانی سرمائے کی بہتری اور برآمدی مسابقت جیسے بڑے سوالات نسبتاً کم توجہ حاصل کرتے ہیں۔</p>
<p>نتیجہ واضح ہے: پاکستان جنوبی ایشیا کے اپنے ہمسایہ ممالک کے مقابلے میں بہت پیچھے رہ گیا ہے۔ 2008 تک پاکستان اور ویتنام خطے کی تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں شامل تھے، جن کی جی ڈی پی گروتھ 7 فیصد سے زیادہ تھی۔ لیکن جہاں ویتنام ایک بڑی علاقائی معاشی طاقت کے طور پر ابھرا، وہیں پاکستان پیچھے رہ گیا اور آئی ایم ایف پروگراموں کے سہارے چلتا رہا۔</p>
<p>پاکستان ہمیشہ طویل المدتی منصوبہ بندی سے محروم نہیں تھا۔ ایک وقت تھا جب پاکستان کا پلاننگ کمیشن قومی پالیسی سازی میں مرکزی حیثیت رکھتا تھا۔ بین الاقوامی شہرت یافتہ ماہرینِ معیشت کی قیادت میں اور مضبوط شماریاتی ڈھانچے کے ساتھ یہ ادارہ جامع پانچ سالہ منصوبے تیار کرتا تھا جو مختلف شعبوں میں ترقیاتی ترجیحات طے کرتے تھے۔ یہ منصوبے معاشی ترقی کے روڈ میپ کے طور پر کام کرتے تھے اور انہی کی بنیاد پر سالانہ بجٹ ترتیب دیے جاتے تھے۔</p>
<p>ملک کے شماریاتی ادارے بھی اس عمل میں کلیدی کردار ادا کرتے تھے۔ قابلِ اعتماد ڈیٹا کی بدولت پالیسی ساز آبادیاتی رجحانات، پیداواری ڈھانچے، شعبہ جاتی کارکردگی اور ترقیاتی خلا کا درست جائزہ لے سکتے تھے۔ شواہد پر مبنی پالیسی سازی کو معاشی حکمرانی کا بنیادی حصہ سمجھا جاتا تھا، نہ کہ محض ایک ضمنی عنصر۔</p>
<p>آج یہ دونوں کبھی عظیم سمجھے جانے والے ادارے، جوعظیم ذہنوں اور بلند خیالات سے مالا مال ہوتے تھے، اپنی سابقہ اثر انگیزی کا بڑا حصہ کھو چکے ہیں۔ اگرچہ یہ ادارے اب بھی موجود ہیں، لیکن قومی پالیسی سازی میں ان کا کردار نمایاں طور پر کمزور اور حاشیے پر چلا گیا ہے۔ اس خلا نے ملک کو اس دیرینہ خواب سے محروم کر دیا ہے کہ وہ ایک بڑی ایشیائی معاشی طاقت کے طور پر ابھرے۔</p>
<p>بجٹ سازی کے فیصلے اب جامع ترقیاتی منصوبہ بندی کے بجائے فوری مالی حقائق اور سیاسی ترجیحات کے تابع ہوتے جا رہے ہیں۔ طویل المدتی اسٹریٹجک دستاویزات اکثر سالانہ وسائل کی تقسیم کے فیصلوں سے کٹ کر رہ جاتی ہیں۔</p>
<p>منصوبہ بندی کی اس کمزوری کے سنگین نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ واضح قومی معاشی وژن کے بغیر ترقیاتی اخراجات بکھراؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ منصوبے سیاسی ترجیحات کے بدلنے کے ساتھ شروع، تبدیل یا ترک کر دیے جاتے ہیں۔ سرکاری سرمایہ کاری میں تسلسل برقرار نہیں رہتا۔ صنعتی پالیسی غیر مستقل مزاجی کا شکار رہتی ہے۔ برآمدات کے فروغ کی حکمت عملیاں ہر حکومت کے ساتھ بدل جاتی ہیں۔ نتیجتاً پاکستان قلیل المدتی استحکام کے بعد معاشی رفتار برقرار رکھنے میں مشکلات کا شکار رہتا ہے۔</p>
<p>مضبوط شماریاتی رہنمائی کا فقدان بھی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ مؤثر پالیسی سازی کے لیے درست اور بروقت ڈیٹا ناگزیر ہے۔ غربت، بے روزگاری، پیداوار، ماحولیاتی خطرات یا علاقائی عدم مساوات جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے حکومتوں کو وسائل کی مؤثر تقسیم کے لیے قابلِ اعتماد شواہد درکار ہوتے ہیں۔ شماریاتی تجزیے اور مالیاتی منصوبہ بندی کے درمیان کمزور ربط پالیسی کی افادیت کو لازماً متاثر کرتا ہے۔</p>
<p>اتنا ہی تشویشناک رجحان یہ ہے کہ ہر بجٹ کو ایک الگ اور خودمختار واقعہ سمجھا جانے لگا ہے۔ کامیاب معیشتیں سالانہ بجٹ کو محض ایک علیحدہ دستاویز کے طور پر نہیں دیکھتیں بلکہ اسے قومی ترقی کے کثیر سالہ اہداف کے حصول کا ذریعہ سمجھتی ہیں۔ بجٹ صرف ایک حساب کتاب کا عمل نہیں بلکہ قومی ترجیحات کا اظہار ہوتا ہے۔</p>
<p>وہ ممالک جنہوں نے اپنی معیشتوں کو کامیابی سے تبدیل کیا، چاہے مشرقی ایشیا ہو یا خلیجی خطے کے بعض حصے، انہوں نے عموماً مالی نظم و ضبط کو طویل المدتی اسٹریٹجک منصوبہ بندی کے ساتھ جوڑا۔ انہوں نے واضح قومی اہداف مقرر کیے، مضبوط منصوبہ بندی کے ادارے قائم کیے، ڈیٹا پر مبنی حکمرانی میں سرمایہ کاری کی اور سالانہ بجٹ کو وسیع تر ترقیاتی مقاصد کے ساتھ ہم آہنگ رکھا۔</p>
<p>پاکستان کو بھی فوری طور پر اسی طرزِ فکر کی طرف واپسی کی ضرورت ہے۔</p>
<p>مالی استحکام (فِسکل اسٹیبلائزیشن) بلاشبہ اہم ہے، لیکن صرف استحکام کسی صورت خوشحالی کی ضمانت نہیں دے سکتا۔ ملک کو ایک نئے قومی ترقیاتی فریم ورک کی ضرورت ہے جو انتخابی ادوار اور آئی ایم ایف کے جائزہ پیریڈز سے آگے تک محیط ہو۔ ایسا فریم ورک ترجیحی شعبوں کی نشاندہی کرے، قابلِ پیمائش معاشی اہداف طے کرے اور آئندہ ایک دہائی تک سرکاری سرمایہ کاری کے فیصلوں کی رہنمائی کرے۔</p>
<p>پلاننگ کمیشن کو ایک بار پھر اس حیثیت میں مضبوط بنایا جانا چاہیے کہ وہ ملک کا مرکزی اسٹریٹجک تھنک ٹینک بن سکے۔ شماریاتی اداروں کو بھی مستحکم کیا جانا چاہیے تاکہ پالیسی سازوں کو قابلِ اعتماد اور بروقت ڈیٹا فراہم کیا جا سکے۔</p>
<p>سب سے اہم بات یہ ہے کہ سالانہ بجٹ کو محض حساب کتاب کے توازن کی مشق کے بجائے ایک بڑے قومی منصوبے کے عملی آلے میں تبدیل ہونا چاہیے۔</p>
<p>جب حکومت نے نیا بجٹ پیش کیا تو فوری توجہ قدرتی طور پر فنڈز کی تقسیم، ٹیکسوں، مہنگائی، تنخواہوں اور سبسڈیز پر مرکوز رہی۔ تاہم پالیسی سازوں کے سامنے اصل سوال یہ ہے کہ آیا پاکستان صرف بار بار آنے والے بحرانوں کا انتظام ہی کرتا رہے گا یا ایک پائیدار اور طویل المدتی معاشی تبدیلی کی راہ متعین کرے گا۔</p>
<p>جب تک بجٹ کو ایک مربوط قومی وژن کے ساتھ منسلک نہیں کیا جاتا، جس کی بنیاد مضبوط منصوبہ بندی اور شماریاتی تجزیے پر ہو، ملک اس چکر میں پھنسا رہے گا کہ ہر سال کا بجٹ پچھلے سال سے معمولی سا مختلف ہوگا، ایک ایسا دائمی عمل جو مالی بقا کی مشق تو ہے مگر قومی ترقی کا خاکہ نہیں۔ یہ راستہ کسی بھی صورت اسٹریٹجک معاشی تبدیلی تک نہیں لے جاتا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287470</guid>
      <pubDate>Sat, 13 Jun 2026 17:02:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فرحت علی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/1316485352fe325.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/1316485352fe325.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
