<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 13 Jun 2026 22:09:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 13 Jun 2026 22:09:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی کا بجٹ ہدف 1.6 ٹریلین روپے سے تجاوز</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287465/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے پٹرولیم مصنوعات پر پٹرولیم لیوی (پی ایل) کی مد میں 1.676.509 کھرب روپے کا بجٹ ہدف مقرر کیا ہے جو 11.8 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے نمائندے کو بتایا کہ حکومت پٹرولیم لیوی کو 100 روپے فی لٹر تک بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے کیونکہ پٹرولیم لیوی آرڈیننس میں ترمیم کے بعد پی ایل پر اب کوئی حد موجود نہیں رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئندہ سال کے لیے مقرر کردہ بجٹ ہدف موجودہ نظرثانی شدہ تخمینوں (1,498 ارب روپے) کے مقابلے میں 178.509 ارب روپے کے اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پٹرولیم لیوی  کی آمدن کو مسلسل آنے والی وفاقی حکومتیں زیادہ اہمیت دیتی رہی ہیں کیونکہ یہ رقم فیڈرل ڈیویزیبل پول کا حصہ نہیں ہوتی جسے نیشنل فنانس کمیشن کے فارمولے کے تحت صوبوں کے ساتھ تقسیم کرنا لازمی ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بجٹ 2026-27 میں کلائمیٹ سپورٹ لیوی (سی ایس ایل) کی مد میں 50 ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے جو موجودہ نظرثانی شدہ تخمینوں 48 ارب روپے کے مقابلے میں 2 ارب روپے زیادہ ہے۔ صارفین اس وقت 2.50 روپے فی لٹر کلائمیٹ سپورٹ لیوی ادا کر رہے ہیں جسے آئندہ بجٹ میں آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے مطابق بڑھا کر 5 روپے فی لٹر کرنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئندہ مالی سال کے لیے آف دی گرڈ (کیپٹیو پاور پلانٹس) پر لیوی کے نفاذ کے ذریعے 15.736 ارب روپے کا بجٹ ہدف مقرر کیا گیا ہے، جو موجودہ مالی سال کے نظرثانی شدہ 14 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ تاہم موجودہ مالی سال کا ابتدائی ہدف 105 ارب روپے تھا۔ آئندہ سال کے لیے نسبتاً کم بجٹ ہدف اس وجہ سے مقرر کیا گیا ہے کہ صنعت کا بڑا حصہ اب گرڈ پر منتقل ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی اسمبلی نے آف دی گرڈ (کیپٹیو پاور پلانٹس) لیوی بل 2025 منظور کر لیا ہے۔ اس لیوی کا آغاز 5 فیصد سے ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے اگلے مالی سال کے لیے گیس انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس کی وصولی کا ہدف 2.248 ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے جو رواں مالی سال کے نظرثانی شدہ تخمینہ 2 ارب روپے سے زیادہ ہے۔ واضح رہے کہ رواں مالی سال کے لیے اس کا ابتدائی بجٹ ہدف 2.4 ارب روپے رکھا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے یہ سیس (ٹیکس) بڑی تیل و گیس پائپ لائنز کی تعمیر کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے کی غرض سے لگایا تھا۔ تاہم ٹیکسٹائل انڈسٹری اور دیگر صنعتی گروپس نے اس کے خلاف عدالتوں سے حکم امتناعی  حاصل کر لیے اور پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے دوران یہ معاملہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں بھی زیر سماعت رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جون 2020 میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے فیصلہ دیا تھا کہ معیشت کے مختلف شعبوں کو 407 ارب روپے کے واجب الادا گیس انفرااسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کی ادائیگی اقساط میں کرنی ہوگی، تاہم صنعتوں کی جانب سے دوبارہ اسٹے آرڈرز حاصل کرنے کے باعث حکومت یہ رقوم وصول کرنے میں ناکام رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیچرل گیس ڈیولپمنٹ سرچارج جو کہ گیس کی مقرر کردہ قیمت اور فروخت کی قیمت کے درمیان فرق ہوتا ہے اور صوبوں کو جاتا ہے سے متعلق آئندہ  مالی سال کے لیے 70.814 ارب روپے کی آمدنی متوقع ہے۔ اس کے مقابلے میں موجودہ مالی سال کے لیے اصل بجٹ تخمینہ 49.437 ارب روپے تھا جبکہ نظرثانی شدہ تخمینہ 63 ارب روپے رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے اگلے مالی سال 27-2026 کے لیے مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) پر پیٹرولیم لیوی (پی ایل) کی مد میں 3.455 ارب روپے جمع کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے جب کہ رواں مالی سال کے لیے اس کا نظرثانی شدہ ہدف 3.463 ارب روپے تھا۔ واضح رہے کہ رواں مالی سال کے لیے ایل پی جی پر پیٹرولیم لیوی کا اصل بجٹ تخمینہ 5 ارب روپے رکھا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں مقامی خام تیل کی قیمتوں پر ڈسکاؤنٹ کی مد میں 20.500 ارب روپے برقرار رکھنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے جو موجودہ مالی سال کے نظرثانی شدہ تخمینے 19.488 ارب روپے سے زیادہ ہے۔ تاہم موجودہ مالی سال کے لیے اس کا اصل بجٹ ہدف 30 ارب روپے مقرر کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے پٹرولیم مصنوعات پر پٹرولیم لیوی (پی ایل) کی مد میں 1.676.509 کھرب روپے کا بجٹ ہدف مقرر کیا ہے جو 11.8 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔</strong></p>
<p>ماہرین نے نمائندے کو بتایا کہ حکومت پٹرولیم لیوی کو 100 روپے فی لٹر تک بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے کیونکہ پٹرولیم لیوی آرڈیننس میں ترمیم کے بعد پی ایل پر اب کوئی حد موجود نہیں رہی۔</p>
<p>آئندہ سال کے لیے مقرر کردہ بجٹ ہدف موجودہ نظرثانی شدہ تخمینوں (1,498 ارب روپے) کے مقابلے میں 178.509 ارب روپے کے اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p>پٹرولیم لیوی  کی آمدن کو مسلسل آنے والی وفاقی حکومتیں زیادہ اہمیت دیتی رہی ہیں کیونکہ یہ رقم فیڈرل ڈیویزیبل پول کا حصہ نہیں ہوتی جسے نیشنل فنانس کمیشن کے فارمولے کے تحت صوبوں کے ساتھ تقسیم کرنا لازمی ہوتا ہے۔</p>
<p>بجٹ 2026-27 میں کلائمیٹ سپورٹ لیوی (سی ایس ایل) کی مد میں 50 ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے جو موجودہ نظرثانی شدہ تخمینوں 48 ارب روپے کے مقابلے میں 2 ارب روپے زیادہ ہے۔ صارفین اس وقت 2.50 روپے فی لٹر کلائمیٹ سپورٹ لیوی ادا کر رہے ہیں جسے آئندہ بجٹ میں آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے مطابق بڑھا کر 5 روپے فی لٹر کرنے کی توقع ہے۔</p>
<p>آئندہ مالی سال کے لیے آف دی گرڈ (کیپٹیو پاور پلانٹس) پر لیوی کے نفاذ کے ذریعے 15.736 ارب روپے کا بجٹ ہدف مقرر کیا گیا ہے، جو موجودہ مالی سال کے نظرثانی شدہ 14 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ تاہم موجودہ مالی سال کا ابتدائی ہدف 105 ارب روپے تھا۔ آئندہ سال کے لیے نسبتاً کم بجٹ ہدف اس وجہ سے مقرر کیا گیا ہے کہ صنعت کا بڑا حصہ اب گرڈ پر منتقل ہو چکا ہے۔</p>
<p>قومی اسمبلی نے آف دی گرڈ (کیپٹیو پاور پلانٹس) لیوی بل 2025 منظور کر لیا ہے۔ اس لیوی کا آغاز 5 فیصد سے ہوگا۔</p>
<p>حکومت نے اگلے مالی سال کے لیے گیس انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس کی وصولی کا ہدف 2.248 ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے جو رواں مالی سال کے نظرثانی شدہ تخمینہ 2 ارب روپے سے زیادہ ہے۔ واضح رہے کہ رواں مالی سال کے لیے اس کا ابتدائی بجٹ ہدف 2.4 ارب روپے رکھا گیا تھا۔</p>
<p>پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے یہ سیس (ٹیکس) بڑی تیل و گیس پائپ لائنز کی تعمیر کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے کی غرض سے لگایا تھا۔ تاہم ٹیکسٹائل انڈسٹری اور دیگر صنعتی گروپس نے اس کے خلاف عدالتوں سے حکم امتناعی  حاصل کر لیے اور پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے دوران یہ معاملہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں بھی زیر سماعت رہا۔</p>
<p>جون 2020 میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے فیصلہ دیا تھا کہ معیشت کے مختلف شعبوں کو 407 ارب روپے کے واجب الادا گیس انفرااسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کی ادائیگی اقساط میں کرنی ہوگی، تاہم صنعتوں کی جانب سے دوبارہ اسٹے آرڈرز حاصل کرنے کے باعث حکومت یہ رقوم وصول کرنے میں ناکام رہی۔</p>
<p>نیچرل گیس ڈیولپمنٹ سرچارج جو کہ گیس کی مقرر کردہ قیمت اور فروخت کی قیمت کے درمیان فرق ہوتا ہے اور صوبوں کو جاتا ہے سے متعلق آئندہ  مالی سال کے لیے 70.814 ارب روپے کی آمدنی متوقع ہے۔ اس کے مقابلے میں موجودہ مالی سال کے لیے اصل بجٹ تخمینہ 49.437 ارب روپے تھا جبکہ نظرثانی شدہ تخمینہ 63 ارب روپے رہا۔</p>
<p>حکومت نے اگلے مالی سال 27-2026 کے لیے مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) پر پیٹرولیم لیوی (پی ایل) کی مد میں 3.455 ارب روپے جمع کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے جب کہ رواں مالی سال کے لیے اس کا نظرثانی شدہ ہدف 3.463 ارب روپے تھا۔ واضح رہے کہ رواں مالی سال کے لیے ایل پی جی پر پیٹرولیم لیوی کا اصل بجٹ تخمینہ 5 ارب روپے رکھا گیا تھا۔</p>
<p>مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں مقامی خام تیل کی قیمتوں پر ڈسکاؤنٹ کی مد میں 20.500 ارب روپے برقرار رکھنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے جو موجودہ مالی سال کے نظرثانی شدہ تخمینے 19.488 ارب روپے سے زیادہ ہے۔ تاہم موجودہ مالی سال کے لیے اس کا اصل بجٹ ہدف 30 ارب روپے مقرر کیا گیا تھا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287465</guid>
      <pubDate>Sat, 13 Jun 2026 15:06:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (وسیم اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/13144813b2eb5a6.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/13144813b2eb5a6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
