<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 13 Jun 2026 15:57:01 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 13 Jun 2026 15:57:01 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈز کے ذریعے غیر ملکی ادائیگیوں پر ودہولڈنگ ٹیکس میں بڑی کمی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287455/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ڈیجیٹل منتقلی کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم اقدام کے تحت وفاقی حکومت نے کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ کے ذریعے بیرونِ ملک ادائیگیوں پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح 5 فیصد سے کم کر کے 0.5 فیصد کرنے کا اعلان کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 27-2026 کی بجٹ تقریر کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ کے لین دین پر ودہولڈنگ ٹیکس میں بھاری کمی کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈز کے استعمال کو فروغ دینا اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت بینکوں کے لیے یہ لازمی ہے کہ وہ کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈز کے ذریعے کی جانے والی ہر بین الاقوامی ٹرانزیکشن (لین دین) پر 5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس وصول کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتیجے کے طور پر رقوم کی منتقلی کے لیے غیر رسمی ذرائع کا استعمال بڑھ گیا ہے کیونکہ بینکنگ صارفین کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈز کے ذریعے بین الاقوامی لین دین پر 5 فیصد ٹیکس بچانے کے لیے نقد لین دین کو ترجیح دیتے ہیں۔ ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈز کے استعمال کی حوصلہ افزائی کے لیے حکومت نے اس ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح کو 5 فیصد سے کم کر کے 0.5 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو کہ تقریباً 4.5 فیصد کی کمی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے کہا کہ وفاقی حکومت کا یہ اقدام دستاویزی مالی لین دین کو فروغ دے گا، معیشت کی دستاویزی حیثیت کو بہتر بنائے گا اور حکومت کی محصولات جمع کرنے کی کوششوں کو تقویت دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینکنگ سیکٹر نے بھی اس فیصلے کو سراہا ہے اور کہا ہے کہ یہ اقدام بین الاقوامی لین دین کی لاگت کو کم کرے گا اور صارفین کو بیرونِ ملک سفر کے دوران ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ کے ذریعے ادائیگی کرنے کی ترغیب دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ اقدام اسٹیٹ بینک کے پورے بینکنگ سسٹم کو ڈیجیٹل بنانے کے وژن کے عین مطابق ہے۔ فی الحال ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز مالیاتی لین دین کے حجم کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ ڈیجیٹلائزیشن صارفین کو سہولت فراہم کرتی ہے اور مالیاتی خدمات، بالخصوص ادائیگیوں سے متعلق امور کی کارکردگی اور ترسیل کو بہتر بناتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی الحال، ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز (لین دین) کا حجم تو زیادہ ہے لیکن مالیت کے لحاظ سے اب بھی اوور دی کاؤنٹر ٹرانزیکشنز سبقت لے رہی ہیں۔ ڈیجیٹل مالیاتی خدمات کو مزید فروغ دینے کے لیے اسٹیٹ بینک  نے دو بینکوں کو ڈیجیٹل ریٹیل بینک (ڈی آر بی) کے لائسنس جاری کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ڈیجیٹل منتقلی کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم اقدام کے تحت وفاقی حکومت نے کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ کے ذریعے بیرونِ ملک ادائیگیوں پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح 5 فیصد سے کم کر کے 0.5 فیصد کرنے کا اعلان کیا ہے۔</strong></p>
<p>مالی سال 27-2026 کی بجٹ تقریر کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ کے لین دین پر ودہولڈنگ ٹیکس میں بھاری کمی کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈز کے استعمال کو فروغ دینا اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔</p>
<p>اس وقت بینکوں کے لیے یہ لازمی ہے کہ وہ کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈز کے ذریعے کی جانے والی ہر بین الاقوامی ٹرانزیکشن (لین دین) پر 5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس وصول کریں۔</p>
<p>نتیجے کے طور پر رقوم کی منتقلی کے لیے غیر رسمی ذرائع کا استعمال بڑھ گیا ہے کیونکہ بینکنگ صارفین کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈز کے ذریعے بین الاقوامی لین دین پر 5 فیصد ٹیکس بچانے کے لیے نقد لین دین کو ترجیح دیتے ہیں۔ ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈز کے استعمال کی حوصلہ افزائی کے لیے حکومت نے اس ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح کو 5 فیصد سے کم کر کے 0.5 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو کہ تقریباً 4.5 فیصد کی کمی ہے۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے کہا کہ وفاقی حکومت کا یہ اقدام دستاویزی مالی لین دین کو فروغ دے گا، معیشت کی دستاویزی حیثیت کو بہتر بنائے گا اور حکومت کی محصولات جمع کرنے کی کوششوں کو تقویت دے گا۔</p>
<p>بینکنگ سیکٹر نے بھی اس فیصلے کو سراہا ہے اور کہا ہے کہ یہ اقدام بین الاقوامی لین دین کی لاگت کو کم کرے گا اور صارفین کو بیرونِ ملک سفر کے دوران ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ کے ذریعے ادائیگی کرنے کی ترغیب دے گا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ اقدام اسٹیٹ بینک کے پورے بینکنگ سسٹم کو ڈیجیٹل بنانے کے وژن کے عین مطابق ہے۔ فی الحال ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز مالیاتی لین دین کے حجم کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ ڈیجیٹلائزیشن صارفین کو سہولت فراہم کرتی ہے اور مالیاتی خدمات، بالخصوص ادائیگیوں سے متعلق امور کی کارکردگی اور ترسیل کو بہتر بناتی ہے۔</p>
<p>فی الحال، ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز (لین دین) کا حجم تو زیادہ ہے لیکن مالیت کے لحاظ سے اب بھی اوور دی کاؤنٹر ٹرانزیکشنز سبقت لے رہی ہیں۔ ڈیجیٹل مالیاتی خدمات کو مزید فروغ دینے کے لیے اسٹیٹ بینک  نے دو بینکوں کو ڈیجیٹل ریٹیل بینک (ڈی آر بی) کے لائسنس جاری کیے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287455</guid>
      <pubDate>Sat, 13 Jun 2026 11:16:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رضوان بھٹی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/13111048df0fe04.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/13111048df0fe04.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
